BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 July, 2006, 07:20 GMT 12:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات: ووٹروں کا اندارج شروع

نئی فہرست میں ووٹروں کا اندراج ’نادرہ’ کے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی بنا پر کیا جائے گا
پاکستان الیکشن کمیشن نے آئندہ برس مجوزہ عام انتخابات سے قبل نئی ووٹر فہرست تیار کرنے کے لیے انتیس جولائی سے ملک بھر میں گھر گھر جا کر ووٹرز کے اندراج کی مہم شروع کردی ہے۔

کمیشن کے سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئی فہرست کمپیٹرائزڈ ہوگی اور عام انتخابات کو شفاف بنانے کی طرف یہ ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں ایک لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین (جن میں بیشتر اساتذہ ہیں) کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور وہ گیارہ ستمبر تک ووٹر فہرستیں مرتب کریں گے۔ ان کے مطابق نئی ووٹر لسٹ تیار کرنے کے کام پر ستر سے اسی کروڑ روپے خرچ ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آخری بار انیس سو چھیاسی میں ووٹر فہرست بنی تھی جسے مختلف مواقعوں پر ’اپ ڈیٹ’ کیا جاتا رہا اور آخری بار سن دو ہزار دو میں اُسے حتمی شکل دی گئی تھی۔

کنور دلشاد نے بتایا کہ نئی فہرست میں ووٹرز کا اندراج ’نادرہ’ کے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ اور پرانے شناختی کارڈ کی بنا پر کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں تاحال آخری بار سن دو ہزار دو میں منعقد کردہ عام انتخابات میں ووٹرز کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ کے قریب تھی جبکہ اب اس میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔

نکتہ اعتراض
 پاکستان پیپلز پارٹی سمیت بعض سیاسی جماعتوں اور شہری حقوق کی تنظیموں نے الیکشن کمیشن کے تیار کردہ ووٹرز رجسٹریشن فارم پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس میں مذہب کا خانہ شامل کرنے پر اعتراض اٹھایا ہے

واضح رہے کہ پاکستان میں جب بھی عام یا بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں تو ہر بار سیاسی جماعتوں نے اپنے مخالفین پر جعلی ووٹ داخل کرانے کا الزام لگایا ہے۔

پاکستان بھر میں شروع ہونے والی اس مہم سے محض ایک روز قبل غیر سرکاری تنظیم ’پتن’ نے ’انتخابی اور سیاسی اصلاحات ۔۔ جمہوری حکمرانی کے لیے لازم ہیں’ کے عنوان سے ایک ورکشاپ منعقد کی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی سمیت بعض سیاسی جماعتوں اور شہری حقوق کی تنظیموں نے الیکشن کمیشن کے تیار کردہ ووٹرز رجسٹریشن فارم پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس میں مذہب کا خانہ شامل کرنے پر اعتراض اٹھایا ہے۔

ان کا موقف ہے کہ اقلیتوں کے لیے جداگانہ طریقہ انتخاب کے خاتمے کے بعد ووٹرز سے مذہب کے بارے میں معلومات لینا غیر ضروری ہے جبکہ اس بارے میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے سوچ سمجھ کر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے فارم تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق تاحال انہیں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ووٹرز کے اندراج کے فارم کے بارے میں کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا۔

اسی بارے میں
’فارورڈ بلاک‘ پھر سرگرم
09 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد