’فارورڈ بلاک‘ پھر سرگرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے اپنی پارٹی قیادت سے ناراض اراکین اسمبلی کے قائم کردہ ’فارورڈ بلاک‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر چودھری شجاعت حسین اختلافات ختم کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اس لیے انہیں پارٹی صدارت سے ہٹایا جائے۔ جمعہ کے روز پارلیمان کے کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق امجد میر اور دیگر نے کہا کہ ’فارورڈ بلاک‘ ختم نہیں ہوا بلکہ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے حامیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس اس وقت کی ہے جب ایک روز قبل وزیر قانون وصی ظفر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تئیس اراکین کے گروپ میں سے بیشتر چودھری شجاعت کی حمایت کرچکے ہیں اور اب صرف چار ممبران ’فارورڈ بلاک، میں رہ گئے ہیں۔ لیکن پریس کانفرنس میں نو اراکین اسمبلی موجود تھے جن میں میاں ریاض حسین پیرزادہ، ملک اللہ یار خان، فاروق اعظم، مظہر علی قریشی، ظہیر عباس کھوکھر، اختر کانجو اظہر یوسف زئی شامل ہیں۔ لاہور سے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے فاروق امجد میر نے کہا آئندہ ہفتے حکمران اتحاد کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ نے بدتر حکمرانی کی مثال قائم کی ہے لہذا انہیں بھی ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ چودھری شجاعت اور پرویز الہٰی کو ہٹانے کی صورت میں متبادل قیادت کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں ہٹایا جائے اور بعد میں انتخاب کرایا جائے۔ ناراض مسلم لیگی اراکین نے نام لیے بغیر ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف ان سے خفا نہیں ہیں اور خفیہ والوں کے دل بھی ان کے گروپ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
انہوں نے متعلقہ اخبار کے ایک نمائندے کی پریس کانفرنس میں موجودگی پر اعتراض بھی کیا اور اس پر تمام صحافیوں نے انہیں کہا کہ وہ اخبار کے مالک سے بات کریں اور رپورٹر پر اپنا اعتراض ختم کریں ورنہ وہ ان کی کانفرنس کا بائیکاٹ کریں گے۔ ایسی صورتحال کے بعد انہوں نے اپنا اعتراض واپس لیا اور معذرت بھی کی۔ واضح رہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران جہاں حزب مخالف نے حکومت پر بڑے پیمانے پر دھاندلی کرانے کے الزامات عائد کیے تھے وہاں حکمران جماعت کے کئی اراکین نے بھی اپنی حکومت پر ایسے الزام لگائے تھے۔ حکمران جماعت کے ناراض اراکین نے بعد میں فارورڈ بلاک بنالیا اور کچھ عرصہ قبل صدر مللکت کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ جس میں انہوں نے چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی کے خلاف شکایات کی تھیں اور صدر سے ملاقات کا وقت بھی مانگا تھا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بعد میں چودھری شجاعت حسین سے کہا تھا کہ وہ ناراض اراکین سے ملاقات کرکے ان کی شکایات دور کریں۔ تاہم صدر نے اس گروپ کے اراکین اسمبلی کو تاحال ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ | اسی بارے میں امیدواروں کااغواء، رپورٹ کی طلبی 06 August, 2005 | پاکستان ’انتخابات سے قبل دھاندلی ‘03 August, 2005 | پاکستان جماعت اسلامی اور پی ایم ایل جھڑپ02 August, 2005 | پاکستان کون سچا، کون جھوٹا؟02 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||