’از سر نو حلقہ بندیاں کی جائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بعض سرکردہ شہریوں پر مشتمل ایک گروپ نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے از سر نو حلقہ بندیاں کی جائیں۔ ’پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمینٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی‘ نے ایک بیان میں بتایا کہ جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد کی صدارت میں شہریوں کے اس گروپ میں سابق گورنر معین الدین حیدر اور شاہد حامد، سابق وزیر شفقت محمود، سابق اٹارنی جنرل قاضی جمیل اور کئی دیگر اہم شخصیات شامل ہیں جو صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اہم عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ سابق ججوں، جرنیلوں، سول افسروں، صحافیوں اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں پر مشتمل اس گروپ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے آرمی چیف ہوتے ہوئے حکمران مسلم لیگ کی انتخابی مہم چلانے پر بھی اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کرنا خلافِ آئین ہے۔ بیان میں الیکشن کمیشن پر زور دیا گیا ہے کہ نئے اضلاع بننے اور سابق ووٹر فہرستیں منسوخ کرنے کے بعد نئے سرے سےحلقہ بندیاں کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ گروپ نے الیکشن کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ حلقہ بندیوں کے بارے میں قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے۔ گروپ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ حال ہی میں صوبہ سندھ میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کی فوری تحقیقات کرکے ازالہ کرے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں دھاندلی کو روکا جاسکے۔ بیان کے مطابق اجلاس میں عارف نظامی، غازی صلاح الدین، مجیب الرحمٰن شامی، اعجاز شفیع گیلانی، طلعت حسین، سکندر جمالی، احمد بلال اور دیگر بھی شریک ہوئے۔ | اسی بارے میں انتخابات: پہلے سے زیادہ امیدوار23 July, 2005 | پاکستان نئے عام انتخابات کا مطالبہ26 April, 2005 | پاکستان ’اگلے انتخابات بھی شفاف ہوں گے ‘ 30 September, 2005 | پاکستان انتخابات: ووٹروں کا اندارج شروع 29 July, 2006 | پاکستان ’انتخابات کی بھر پور تیاریاں جاری‘18 December, 2006 | پاکستان عام انتخابات: اس بار کیا ہوتا ہے؟ 29 December, 2006 | پاکستان انتخابات میں یورپی یونین کی دلچسپی01 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||