’نظرِ ثانی شدہ ووٹر لسٹیں 30 دن میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ تیس دن کے اندر اندر نظر ثانی شدہ ووٹر لسٹیں تیار کرے اور ان لوگوں کے ووٹوں کا اندارج یقینی بنائے جو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی شرط کی وجہ سے درج ہونے سے رہ گئے تھے۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم بینظیر بھٹو کی ایک آئینی درخواست پر دیا جس میں انہوں نے ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر تین کروڑ ووٹروں کے اخراج کو چیلنج کیا تھا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ حکم ملک میں ایمرجنسی کےنفاذ کی افواہوں اور پھر حکومت کی جانب سے تردید کے بعد سامنے آیا ہے۔ جمعہ کو دورانِ سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا دارومدار ووٹر لسٹوں پر ہے اور کسی بھی اہل ووٹر کو اس کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے سیکریٹری کنور دلشاد عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے نظرثانی شدہ ووٹر لسٹوں کی تیاری کے لیے ایک سو چالیس دن کی مہلت کی درخواست کی۔ تاہم عدالت نے کہا کہ یہ مہلت بہت زیادہ ہے اور اسے انتخابات کو مؤخر کرنے کا ایک حربہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سماعت کے دوران نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) اور چاروں صوبوں کے متلعقہ حکام بھی عدالت میں موجود تھے۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات کی ووٹر لسٹ موجود ہے اور اس کو اپ ڈیٹ کر کے ان افراد کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جائیں جن کا اندراج ابھی تک نہیں ہوا۔ درخواست گزار کے وکیل سینٹر لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ سنہ دو ہزار دو کی ووٹر لسٹ میں بھی دو کروڑ سے زائد ووٹروں کا اندراج نہیں ہو سکا تھا اور اس وقت جو پاکستانی چودہ برس کے تھے اب وہ اٹھارہ برس کے ہوچکے ہیں اور اس طرح مجموعی طور پر تین کروڑ کے قریب ووٹر ابھی تک اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان افراد کے ناموں کا اندراج ووٹر لسٹوں میں شامل نہ کر کے ان کو ان کے حق سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ بینظیر بھٹو کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نےگزشتہ سماعت کے موقع پر کہا تھا کہ حکومت اس مقدمہ کو اتنا پیچیدہ نہ بنائے کہ عدالت کو اسے نمٹانے میں کئی ماہ لگ جائیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ بھی کہا تھا کہ تین کروڑ ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن صدر صاحب کو بتائے کہ شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ جمعہ کو حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سنیچر کے روز وہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر حکام کے ساتھ ملاقات کرنے والے جس میں اس مسئلے پر تفیصلی بات چیت کریں گے۔ عدالت نے اس سلسلے میں اٹارنی جرنل سے 16 اگست کو ایک رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ بھی اس سلسلے میں ہونے والی مشاورت میں شامل ہوں تاکہ اس مسئلے کو بخوبی نمٹایا جا سکے۔ |
اسی بارے میں 2002 الیکشن، دو کروڑ ’بوگس‘ ووٹر05 June, 2007 | پاکستان اسمبلی: نئی ووٹر لِسٹوں پر تشویش19 June, 2007 | پاکستان عبوری کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹیں تیار24 May, 2007 | پاکستان لاکھوں افراد ووٹر لسٹ سے خارج05 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||