اسمبلی: نئی ووٹر لِسٹوں پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے بیشتر اراکین نے نئی تیار شدہ کمپیوٹرائزڈ ووٹر فہرستوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بجٹ پر بحث کے موقع پر موضوع سے ہٹ کر حزب مخالف کے کئی اراکین نے انٹیلیجنس ایجنسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاست سے خفیہ اداروں کی مداخلت بند نہیں کی گئی اور آئندہ انتخابات میں انہیں ماضی کی طرح دھاندلی کے لیے استعمال کیا گیا تو ملک ٹوٹ سکتا ہے۔ لیاقت بلوچ، سید نوید قمر، میر ہزار خان بجارانی اور پرویز ملک سمیت کئی حزب مخالف کے اراکین نے نئی ووٹر فہرستوں میں سے ان کے حلقوں میں ووٹرز لیاقت بلوچ نے کہا کہ نامکمل ووٹر لِسٹوں کی تیاری نے الیکشن کمیشن کی ساکھ کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خفیہ اداروں سیاست میں مداخلت نہ روکی گئی تو ملک ٹوٹ سکتا ہے۔ یہی بات محمود خان اچکزئی نے بھی گزشتہ روز اپنی تقریر میں کی تھی اور منگل کو لیاقت بلوچ سمیت کچھ اراکین نے اپنے خطاب کے دوران اس کی تائید کی۔ میر ہزار خان بجارانی نے کہا کہ ان کے حلقے کی چار یونین کونسلز میں سے سنہ دو ہزار دو کی انتخابی فہرستوں کی نسبت پچیس ہزار ووٹ کم کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت کے حامی اراکین کے حلقوں کی بعض دیہات کا نام لیا اور الزام لگایا کہ وہاں آبادی سے زیادہ ووٹوں کا اندراج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک طرف کہہ رہا ہے کہ پہلی بار کمپیوٹرائز ووٹر لِسٹیں بنی ہیں اور اگر ایسا ہے تو انہیں کمیشن اپنی ویب سائٹ پر کیوں نہیں شائع کرتا؟۔ متحدہ مجلس عمل کے رکن فرید پراچہ نے کہا آج کل تیس روپے کی سی ڈی ملتی ہے اور الیکشن کمیشن کی اگر نیت صاف ہو تو وہ آسانی سے فراہم کرسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ نئی فہرست سے دو کروڑ ووٹرز غائب ہیں اور کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو ووٹ سے محروم کرنا بنیادی آئینی حقوق کے خلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں خفیہ اداروں نے مداخلت کی تو ملک میں خانہ جنگی ہوگی۔ مسلم لیگ نواز کے پرویز ملک نے کہا جب نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کے پاس مکمل ڈیٹا موجود ہے تو پھر نیا ڈیٹا تیار کرنے کی ضرورت کیا ہے؟۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ عوامل حکومتی دھاندلی کا ثبوت ہیں۔ منگل کو حکومت نے انیس مختلف مدوں میں پچیس کھرب تراسی ارب انیس کروڑ بیالیس لاکھ اور بیالیس ہزار روپے کے ’چارجڈ ایکسپینڈیچر‘ یعنی لازمی خرچہ جات بحث کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک کی صورت میں پیش کی۔ آئین کے مطابق لازمی خرچہ جات میں ایوان صدر کے ملازمین کے الاؤنسز اور پینشن، سینیٹ، قومی اسمبلی اور سپریم کورٹ سمیت مختلف اداروں کا بجٹ، ملکی و غیر ملکی قرضہ جات اور ان پر واجب سود کی ادائیگی کی رقم سمیت مختلف محکموں کے اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ اس مد میں حکومت کی جانب سے رکھے گئے اخراجات پر قانونی اعتبار سے قومی اسمبلی بحث تو کرسکتی ہے لیکن کٹوتی نہیں کرسکتی۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن یاسمین رحمٰن نے کہا کہ آج دنیا تبدیل ہوچکی ہے لیکن ’چارجڈ ایکسپینڈیچر‘ پر قومی اسمبلی کو منظوری کا حق نہ دینا سامراجی اور سیاہ دور کی ذہنیت کی عکاس ہیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جس ملک میں لاکھوں لوگ اٹھارہ سو روپے ماہانہ نہیں کما سکتے اس میں صدر کے گھر کا یومیہ خرچہ چھ لاکھ روپے اور وزیراعظم کا دس لاکھ روپے ہونا شرمناک بات ہے۔ دریں اثناء حزب مخالف کے اراکین نے صوبوں کو بجلی، گیس اور تیل کی رائلٹی نہ دینے کے خلاف نماز ظہر کے وقفہ میں پارلیمان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ادھر صحافیوں نے صوبہ سندھ کے شہر خیرپور میں قبائلی تنازعہ میں مارے گئے صحافی نثار احمد سولنگی کے قاتلوں کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ نثار سولنگی کو تین روز قبل مبینہ طور پر جونیجو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک مفرور نے قتل کیا تھا۔ واضح رہے کہ حکومت تئیس جون کو قومی اسمبلی سے بجٹ منظور کرانا چاہتی ہے جس کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جانے کی توقع ہے۔ |
اسی بارے میں 2002 الیکشن، دو کروڑ ’بوگس‘ ووٹر05 June, 2007 | پاکستان بلا مقابلہ امیدوار اورغیر ووٹرخواتین 17 August, 2005 | پاکستان انتخابات: ووٹروں کا اندارج شروع 29 July, 2006 | پاکستان لاکھوں افراد ووٹر لسٹ سے خارج05 January, 2007 | پاکستان عبوری کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹیں تیار24 May, 2007 | پاکستان کیا اب ووٹر امیدوار کے پاس جائے گا؟09 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||