BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 August, 2004, 09:33 GMT 14:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا اب ووٹر امیدوار کے پاس جائے گا؟

شوکت عزیز پر حملے کے بعد(فائل فوٹو)
شوکت عزیز پر حملے کے بعد سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔
پاکستان کے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کو رکن قومی اسمبلی منتخب کرانے کے لیے خالی کردہ دو نشستوں پر ضمنی انتخابات کی پولنگ اٹھارہ اگست کو ہونی ہے لیکن پولنگ کے دن جیسے جیسے قریب آرہے ہیں ویسے حسب روایت سیاسی سرگرمیوں میں گہما گہمی نظر نہیں آرہی ۔

صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 59 اور صوبہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کی نشست این اے 229 وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی بھانجی اور سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام الرحیم کے بھانجے نے خالی کی تھیں، تا کہ شوکت عزیز رکن اسمبلی منتخب ہوسکیں۔

عام طور پر پولنگ کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ متعلقہ حلقہ انتخاب میں گہما گہمی بڑھتی ہے، سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں لیکن اٹھارہ اگست کو ہونے والے ان ضمنی انتخابات میں معاملہ اس کے برعکس دکھائی دے رہا ہے۔

اٹک اور تھرپارکر کی نشستوں سے حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے امیدوار شوکت عزیز کے مد مقابل ہیں۔ متعلقہ حلقوں میں حزب اختلاف نیز حکومتی اتحادی جماعتوں نے جلسے بھی کیے ہیں لیکن پھر بھی وہ ماحول نہیں بن پا رہا جو عام طور پر نظر آتا ہے۔

حکومتی امیدوار شوکت عزیز پر دو ہفتے قبل صوبہ پنجاب کے شہر فتح جنگ میں انتخابی مہم کے دوران ایک خودکش بمبار نے ناکام حملہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنی مصروفیات محدود کردی ہیں اور انتخابی حلقوں میں جانے سے بھی گریزاں دکھائی دے رہے ہیں۔

اس حملے کے بعد جہاں شوکت عزیز کے لیے غیر معمولی اقدامات لیے گئے ہیں وہاں انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کرتے ہوئے متعلقہ حلقوں کے عمائدین کو اسلام آباد بلا کر ملاقاتیں کرنا شروع کردی ہیں۔

ان کے اس انداز سے پاکستان کی سیاسی و پارلیمانی تاریخ میں شاید ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا جس میں امیدوار ووٹروں کے پاس جانے کی بجائے ان کو اپنے پاس بلا کر مہم چلائیں۔

سرکاری امیدوار کو جہاں حکومتی اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے وہاں پاکستان تحریک مساوات کی چیئرپرسن اور پشتو فلموں کی سابقہ ہیروئن مسرت شاہین بھی شوکت عزیز کی حمایت کا اعلان کرچکی ہیں۔

مسرت شاہین ضلع ناظم طاہر صادق کے ہمراہ شوکت عزیز کی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔

پاکستان میں ہونے والے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عام انتخابات کی نسبت ضمنی انتخابات ذرا مشکل اس لیے ہوتے ہیں کہ اس میں امیدوار کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، متعلقہ حلقے میں ماحول بنانا پڑتا ہے اور خرچہ بھی زیادہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ عام انتخابات میں ماحول ازخود بنتا چلا جاتا ہے۔

لیکن اس بار زیادہ گہما گہمی نہیں ہے لیکن اخراجات میں شاید کوئی کمی نہ ہو کیوں کہ وزیراعلیٰ سے لے کر ضلعی ناظم تک حکام انتخابی مہم میں شریک ہیں۔

پیپلز پارٹی کے دونوں امیدوار ڈاکٹر ہیں جس میں اٹک سے ڈاکٹر سکندر حیات اور تھرپارکر سے ڈاکٹر مہیش ملانی شامل ہیں جن کی مہم کے اخراجات ان کی پارٹی برداشت کر رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد