BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 April, 2004, 11:02 GMT 16:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موبائل اور ایس ایم ایس کا الیکشن

News image
انڈیا میں ووٹنگ کے لئے استعمال کی جانے والی مشین
ممبئی کے شمال مشرقی حلقہ انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کرت سمیا اپنے حلقہ کے ووٹروں سے فون پر ریکارڈ پیغاموں اور موبائل فون پر ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے ووٹ مانگ رہے ہیں۔

ہندوستان میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ فون اور موبائل فون کے ذریعے انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے۔ صرف یہی نہیں پہلی بار لوک سبھا میں ووٹ ڈالنے کے لیے ووٹروں کو پرچی نہیں دی جائے گی بلکہ ایک الیکٹرانک مشین استعمال کی جائے گی۔

اس الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تمام امیدواروں کے انتخابی نشان بنے ہوئے ہیں جن کے سامنے بٹن لگے ہیں اور ایک ووٹر جب اپنےامیدوار کے نشان کے سامنے دیے گئے بٹن کو دبائے گا تو ایک گھنٹی کی سی آواز بجے گی جس کا مطلب ہو گا کہ اسکا ووٹ ڈل چکا۔

اس بار ہندوستان میں لوک سبھا (پارلیمینٹ کا ایوان زیریں) کے انتخابات کو انگریزی اخبار ہندو کی کالم نگار کلپنا شرما بجا طور پر پہلا ای الیکشن قرار دیتی ہیں۔

ہندوستان میں مختلف زبانوں کے پچاس سے زیادہ ٹیلی وژن چینلز دن رات انتخابات کی خبریں اور خصوصی رپورٹیں نشر کر رہے ہیں اور اخبارات ہر روز ایک پول سروے جاری کر رہے ہیں۔

ہندوستان میں اس مرتبہ جس وسیع پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی کو انتخابات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اسے اس چناؤ کی سب سے نمایاں خصوصیت کہا جاسکتا ہے جو اسے ماضی کے تمام انتخابات سے ممتاز کرتی ہے۔

بی جے پی کے امیدوار کرت سمیا کے میڈیا منیجر ونا ناتھ تواری نے بی بی سی کو کہا کہ ان کے امیدوار جدید سوچ رکھتے ہیں اس لیے انھوں نے اپنی مہم چلانے کے لیے ٹیلی فون پر ریکارڈ شدہ کالوں کے ذریعے اور ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے ان تک اپنی بات پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

تواری کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ سستا بھی بہت ہے کیونکہ اگر کاغذ پر کسی کو خط لکھا جائے تو اس پر پانچ سے آٹھ روپے تک کا خرچ آتا ہے جبکہ ان پیغامات پر صرف چار آنہ فی پیغام خرچ اٹھتا ہے۔

کرت سمیا نے اپنے لیے ووٹ مانگنے سے پہلے ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں اپنا اندراج یقینی بنانے کے لئے کہا تھا۔ ان کی ویب سائٹ پر ووٹر لسٹ سے متعلق تفصیلی معلومات ملتی ہیں۔

فون پر پیغام رسانی کی ضرورت شاید اس لیے بھی پڑ رہی ہے کہ ہندوستان میں الیکشن کمیشن نے امیدواروں پر انتخابی مہم چلانے کے لیے کڑی پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔

کالم نگار کلپنا شرما کا کہنا ہے کہ الیکشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق امیدوار پوسٹر ، بینرز اور ہورڈنگز نہیں لگا سکتے۔ امیدوار رات دس بجے کے بعد لاؤڈ اسپیکر استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ سپریم کورٹ نے اس پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

ممبئی میں کسی بھی انتخابی جلسہ میں زیادہ ہجوم دیکھنے میں نہیں آیا جیسا کہ ہندوستان بھر سے رپورٹیں بھی یہی ظاہر کر رہی ہیں۔ ممبئی میں بڑی سے بڑی ریلی پانچ سات ہزار لوگوں کو اکٹھا نہیں کرسکی۔

لوگوں کی جلسے جلوسوں سے اس دوری کی وجہ صرف چالیس درجہ سینٹی گریڈ کی گرمی ہی نہیں بلکہ شائد پچاس سے زیادہ ٹی وی چینل بھی ہیں جو دن رات انتخابات کے خصوصی پروگرام نشر کر رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جب لوگ سیاسی رہنماؤں کی ہر بات ٹی وی پر دیکھ اور سن سکتے ہیں تو وہ اتنی گرمی میں انتخابی ریلی میں کیوں جائیں۔

تاہم الیکٹرانک میڈیا کا اس زور وشور سے انتخابات کی کوریج کرنے سے کچھ خدشات نے بھی جنم لیا ہے۔

مبصر کلپنا شرما کا کہنا ہے کہ میڈیا الیکشن کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ کسی سیاسی رہنما کی ایک چھوٹی سی بات کو بہت نشر کر دیتے ہیں اور اسے ایشو بنا دیتے ہیں جیسے واجپئی کا یہ کہنا کہ وہ اتحادوں کی مدد سے حکومت کرنے سے تھک چکے ہیں۔ واجپئی نے یہ بات ہلکے پھلکے انداز میں کہی لیکن ٹی وی چینلوں پر اتنی نشر ہوئی کہ ایشو بن گیا۔

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا ایک شاخسانہ الیکشن سے متعلق کیے جانے والے سروے بھی ہیں جو اچھا خاصا ایشو بن چکا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی اخبار انتخابات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں ایک سروے نشر کر دیتا ہے جس سے کچھ سیاسی جماعتیں، خاصوصاً کانگریس خاصی برہم ہے۔

ہندوستان میں لوک سبھا کی ووٹنگ کے لیے استعمال کی جانے والی الیکٹرانک مشین ہو یا ٹی وی چینلوں کی بھرمار یا انتخابی سروے کے نتائج، ان سب پر تنقید کچھ وزن رکھتی ہے لیکن یہ سب ایک بدلتے ہوئے اور تیزی سے جدید ہوتے ہوئے ہندوستان کی علامات ہیں جن کا سن دو ہزار چار کے انتخابات میں بھرپور اظہار ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد