BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ووٹروں کے اندراج کی مہلت کم ہے‘

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیر افگن نیازی
تین کروڑ ووٹروں کا تیس دن میں اندراج اور تصدیق انتہائی مشکل ہے
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیر افگن نیازی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ان کے خیال میں سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ووٹروں کے اندراج کے لیے دی گئی تیس روز کی مہلت کم ہے۔

ایوان میں وقفہ سوالات میں متحدہ مجلس عمل کی رکن سمیعہ راحیل قاضی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ تین کروڑ ووٹروں کا تیس دن میں اندراج اور تصدیق انتہائی مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اس کام کے لیے حکومت سے ایک سو چالیس دن کا وقت مانگا تھا۔ ’اللہ کرے کہ وہ کر لیں لیکن مشکل دکھائی دیتا ہے‘۔

وفاقی وزیر نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا قوی احتمال ہے کہ جلدی میں کہیں کم عمر افراد کا بطور ووٹر اندارج نہ ہو جائے یا ایک شخص ایک سے زیادہ مقامات پر اپنا ووٹ رجسٹر نہ کرا لے۔

بیگم سمیعہ راحیل قاضی نے وزیر پارلیمانی امور سے دریافت کیا تھا کہ آیا ملک میں نئی انتخابی فہرستوں کے لیے کوئی ڈسپلے سنٹر قائم کرنے کی کوئی تجویز ہے۔ تو شیر افگن نے بتایا کہ ایسی کوئی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں۔

اس سوال کے بعد ایوان میں اس آئندہ انتخابات سے قبل اس اہم موضوع پر جیسے ایک بحث کا آغاز ہوگیا۔

سرکاری بینچوں سے بھی اراکین نے جن میں ریاض حسین پیرزادہ فاروق اعظم نے بھی ووٹروں کے اندارج کو سہل بنانے کا مطالبہ کیا۔

سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایوان پانچ سال مکمل کرنے والا ہے لیکن آج تک جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر منتخب ہونے اراکین کو نہیں نکال سکے تو جعلی ووٹر تو دور کی بات ہے۔

پیپلز پارٹی کی ناہید خان نے نکتہ اعتراض پر جب حکومت کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈ قیوم کی بطور اٹارنی جنرل تقرری پر تنقید کرنا شروع کی تو سپیکر نے ان کا مائیک بند کروا دیا جس پر انہوں نے دیگر جماعتی اراکین کے ساتھ ایوان سے احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کیا۔

ایوان میں ابتدا میں کارروائی کورم کی کمی کے باوجود جاری رکھی گئی اور کسی نے بھی اس کی نشاندہی نہیں کی۔

سپیکر چوہدری امیر حسین نے بعد میں اجلاس بدھ کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا۔

اسی بارے میں
ووٹروں نے فیصلہ کرنا ہے‘
26 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد