’صرف غائب شدہ ووٹرز کا پتہ کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ُسپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تمام ووٹروں کے اندراج کے لیے تیس روز کی مہلت برقرار رکھتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ تمام ووٹروں کے دوبارہ اندارج کی بجائے سال دو ہزار دو اور دو ہزار سات میں میں تیار کی جانے والی فہرستوں میں سے صرف غائب ہونے والے دو کروڑ ووٹروں کا پتہ کرے۔ یہ حکم جمعرات کو پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بےنظیر بھٹو کی جانب سے تمام ووٹروں کے اندراج کو یقینی بنانے سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم پانچ رُکنی بنچ نے دیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ الف سے ے تک تمام ووٹروں کے اندراج کی بات نہیں کر رہے بلکہ صرف کم ہونے والے دو کروڑ ووٹروں کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ پیپلز پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کی جانب سے عدالت سے ووٹروں کے اندراج میں بدعنوان عملے کو ہٹانے کی تجویز پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگر اس معاملے میں پیپلز پارٹی کی تمام خواہشات مان لی جائیں تو ان فہرستوں کی تیاری کے لیے پانچ برس تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت پہلے ہی تمام ووٹروں کے اندراج کے لیے تیس دن کی مہلت کا ناکافی قرار دے چکی ہے۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل جسٹس ریٹائرڈ قیوم نے یقین دہانی کرائی کہ عام انتخابات ملتوی نہیں کیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے اس معاملے پر مشاورت کے بعد تیار کی گئی چھ صفحات پر مبنی تجاویز بھی عدالت میں پیش کیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اس بابت آمد ورفت کی مشکلات کو ماننے سے بھی انکار کیا۔ عدالت نے ووٹروں کے اندارج پر پچاس کروڑ کی رقم کے خرچے کے باوجود اس کے نامکمل ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے قبائلی علاقوں، سندھ اور بلوچستان میں تمام خواتین ووٹروں کے اندارج کو بھی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ایک غیرسرکاری تنظیم کے استفسار پر کہ فاٹا میں نوے فیصد جبکہ سندھ میں سینتالیس فیصد خواتین ووٹروں میں کمی آئی ہے تشویش کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس کے علاوہ بنچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس محمد رضا، جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل ہیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو چھ ہفتوں کے اندر اندراج سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے علاوہ اس کی نقول سیاسی جماعتوں اور دیگر فریقین کو فراہم کا بھی حکم دیا۔ | اسی بارے میں ’ووٹروں کے اندراج کی مہلت کم ہے‘ 13 August, 2007 | پاکستان تیس دن میں ہرووٹر کا اندراج یقینی11 August, 2007 | پاکستان ’نظرِ ثانی شدہ ووٹر لسٹیں 30 دن میں‘10 August, 2007 | پاکستان شناختی کارڈ کیخلاف درخواست06 August, 2007 | پاکستان کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ضروری نہیں01 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||