پیپلز پارٹی سے بات ہورہی ہے: الہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیرِاعلٰی چودھری پرویز الہی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی بات چیت چل رہی ہے۔ وہ بدھ کو ایوان وزیر اعلی میں لاہور کے صحافیوں کے اعزاز میں بلائی گئی ایک تقریب میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے مختلف سوالوں کے جواب میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی سے مذاکرات چل رہے ہیں لیکن وہ یہ واضع کرنا چاہتے ہیں کہ عام انتخابات کے لیے مسلم لیگ نہ تو پیپلز پارٹی سے انتخابی اتحاد بنائے گی اور نہ ہی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ تاہم انتخابات کے نتائج کے بعد حکومت سازی کے مرحلے پر پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی اپنے طور پر مسلم لیگیوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کے جلاوطن رہنماؤں سے ان کی کوئی بات چیت نہیں چل رہی لیکن ان کے سوا دیگر ہر مسلم لیگی کو وہ اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ پرویز الہٰی نے کہا کہ پچھلے انتخابات کے موقع پر بھی انہوں جدہ والوں کے سوا سب کو بلایا اور اکٹھا کیا اور آج بھی وہ سب کو پارٹی میں لینے کے لیے تیار ہیں۔ چودھری پرویز الہی نے جو حکمران مسلم لیگ کے صوبائی صدر بھی ہیں، کہا کہ مسلم لیگ نواز کے قائدین کا محض یہ دعوٰی ہی ہے کہ ان سے ہماری مسلم لیگ کے اراکین رابطے کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں مسلم لیگ نواز کے لوگ ہماری مسلم لیگ میں شامل ہونے کے لیے رابطے کررہے ہیں اور اب تک متعدد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ان سے رابطے کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز کی قومی اسمبلی میں صرف نو سیٹیں رہ گئی ہیں اور مزید اراکین بھی یہ پارٹی چھوڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے رشتہ دار اور مسلم لیگی رہنماء چودھری شفاعت حسین کے جلاوطن رہنما شہباز شریف سے کسی قسم کی ملاقات کی تردید کی ہے اور کہا کہ ان سے رابطے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||