BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 August, 2007, 11:26 GMT 16:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا فوج کی حکمرانی ہی پاکستان کا مقدر ہے؟

بانی پاکستان محمد علی جناح نے ایک جمہوری ریاست کی بات کی تھی
ساٹھ برس قبل برصغیر پاک و ہند کا بٹوارہ اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ چھ عشروں پر محیط اس کٹھن سفر کے دوران کئی راہیں بدلی گئیں: کبھی سرمایہ دارانہ نظام کی بات کی گئی تو کبھی سوشلزم کا چرچا ہوا، کبھی مغربیت اور کبھی اسلام، کبھی مارشل لاء اور کبھی جمہوریت کی باتیں۔

بعض مبصرین کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ایک آزاد قوم کے طور پر ایک عمر گزارنے کے باوجود اپنی ریاست اور معاشرے کے لیے سیاسی اور معاشی نظام اور سمت کا تعین نہیں کر پائے۔

روئیداد خان کا شمار پاکستان کے اہم ترین پالیسی سازوں میں رہا ہے۔ انہوں نے جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک ہر حکمران کو انتہائی قریب سے دیکھا۔ ویسے تو اب وہ اپنی سرکاری منصب سے سبکدوش ہوچکے ہیں مگر ملکی سیاست پر ان کی گہری نظر ہے۔ ان کا شمار مشرف حکومت کے مخالفین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں فوجی حکومتوں کے اثرات پر یوں اظہارِ خیال کیا:

’مارشل لاء ایڈمنسٹریٹروں میں ایوب خان سادہ لوح تھے اور انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ کیا کچھ قابل عمل ہے۔ مگر ان کی حکومت کی بنیادی کمزوری آئینی اور قانونی جواز کا فقدان تھی۔ ان کی ناکامی کا سبب ایڈمنسٹریشن کی خرابی یا امن و امان کا مسئلہ نہیں تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ فوجی آمر طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرتا ہے اس لیے وہ کبھی پاکستان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے کامیابی کا کوئی موقع نہیں ہے۔ اسے ناکام ہی ہونا ہے۔

’اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ لوگوں کا اہم مقصد ’بنیادی جمہوریت‘ کے تصور کو مسترد کرنا تھا۔ لوگوں کو ایک فرد ایک ووٹ چاہیے تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان سے ان کا حق چھین لیا گیا ہے۔ آخر میں جب احتجاج زیادہ زور پکڑ گیا تو ایوب کو کہنا پڑا کہ وہ امیدوار نہیں ہیں اور وہ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بعض لوگوں کو ان کا سر چاہیے۔ ایوب نے کہا کہ ’مجھے مشورہ دیا جا رہا ہے کہ فائر کھول دو، سو دو سو کو مار دو، ہر طرف خاموشی ہو جائے گی پاکستان میں۔

جمہوریت کے تین ستون
 میری نظر میں جمہوری سسٹم چلانے کے لیے تین چیزیں بڑی ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ اس معاشرے میں عدل اور انصاف ہو، عدلیہ بالکل آزاد ہو، جو آج کل آزادی کی طرف چل پڑی ہے اور اشارے بڑے خوش آئند ہیں۔ دوسری چیز میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم عام ہونی چاہیے۔ میٹرک تک تعلیم ہر پاکستانی بچے کا حق ہے۔ اگر وہ میٹرک تک پڑھ لے گا تو اخبارات بھی پڑھ سکتا ہے اور اپنی رائے بھی رکھ سکتا ہے۔ جمہوریت کے لیے تیسری ضروری چیز آزاد میڈیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ تین ستون ہیں۔ میں پرامید ہوں اسی لیے کہ اب یہ تینوں چیزیں آگئی ہیں۔
ڈاکٹر پرویز اقبال چیمہ
’ایوب کا کہنا تھا ’میں ایسا کبھی نہیں کروں گا، وہ میرے بچے ہیں۔ وہ مجھے نہیں چاہتے، مجھے واشگاف پیغام مل گیا ہے، میں گھر جاؤں گا۔‘ ایوب خان نے اقتدار چھوڑ دیا۔ ان میں بڑی خوبیاں تھیں۔ باوجود اس کے کہ زرعی ترقی اور صنعتکاری میں ان کا بڑا کردار تھا مگر عوام نے انہیں مسترد کر دیا تھا۔ اگر ایوب فیل ہوگیا تو کوئی اور ملٹری ڈکٹیٹر کامیاب نہیں ہو سکتا اس ملک میں۔‘

ڈاکٹر پرویز اقبال چیمہ اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے صدر ہیں۔ یہ ادارہ براہ راست وزیر اعظم کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ سالہ سیاسی تاریخ پر وہ یوں نظر ڈالتے ہیں:

’آپ جانتے ہیں کہ اٹھاسی میں جمہوری قوتیں دوبارہ ابھر کر آئیں۔ اس زمانے میں انہوں نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اور وہ ہوا جو اس سوسائٹی میں کبھی بھی نہیں ہوا کرتا تھا۔ ہماری سوسائٹی بڑی برداشت والی ہوا کرتی تھی۔ عدم برداشت بڑھنی شروع ہو گئی۔

’جب آپ حکومت میں آتے ہیں تو پہلا سال تو آپ کو سنبھلنے میں سمجھنے میں ہی لگ جاتا ہے۔ دوسرے سال میں آپ تھوڑا تھوڑا کوشش شروع کرتے ہیں۔ لیکن جب بے نظیر صاحبہ منتخب ہو کر آئیں تو ان کو دو سوا دو سال کے بعد اس وقت کے صدر نے اقتدار سے نکال دیا۔ نواز شریف صاحب آئے اور یہی سلسلہ چلتا رہا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کسی حکومت کو چار پانچ سال کی مدت جو اس کا حق ہوتا ہے مل جائے تو پہلے ایک دو سال میں حکومت کے معاملات کو سمجھنے میں لگ جاتے ہیں اگلے تین برسوں میں کافی کچھ کیا جاسکتا ہے۔

’کوشش انہوں نے ضرور کی ہے لیکن وہ ایک رحجان جو چلا تھا اٹھاسی میں شروع ہوا وہ چلتا رہا۔ اب جا کے انہوں نے سنجیدگی سے کوشش کی ہے۔ لیکن وہ جو ہوتا ہے ناں، اگر آپ شروع میں ہی دبا لیں تو وار ختم ہو جاتی ہے، آسانی سے لیکن آپ اگر تھوڑی سی بھی ڈھیل دے دیں تو پودا جڑ پکڑ لیتا ہے اور پھر اسے ختم کرنے کے لیے کام کرنا پڑا۔

’پہلی بات تو میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے سات سال میں ہم سیاسی استحکام کے لیے مختلف قسم کے تجربات ہی کرتے رہے۔ اب وقت بھی آ گیا ہے پہلے ایک سیٹ پولیٹکل سسٹم رکھا جائے، اس کے بغیر نہیں ہوگا۔ آپ اسے کوئی نام دیں لیں، جمہوری دے لیں، لیکن میں چاہتا ہوں اس میں لوگوں کے نمائندے ہوں۔ اگر لوگوں کے نمائندے حکمرانی کر رہے ہوں، ان کے پیچھے لوگ ہوں تو اس کو جمہوری کہہ لیں یا جو بھی، میں سمجھتا ہوں کہ ایک سسٹم قائم ہونا چاہیے۔

’میری نظر میں جمہوری سسٹم چلانے کے لیے تین چیزیں بڑی ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ اس معاشرے میں عدل اور انصاف ہو، عدلیہ بالکل آزاد ہو، جو آج کل آزادی کی طرف چل پڑی ہے اور اشارے بڑے خوش آئند ہیں۔ دوسری چیز میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم عام ہونی چاہیے۔ میٹرک تک تعلیم ہر پاکستانی بچے کا حق ہے۔ اگر وہ میٹرک تک پڑھ لے گا تو اخبارات بھی پڑھ سکتا ہے اور اپنی رائے بھی رکھ سکتا ہے۔ جمہوریت کے لیے تیسری ضروری چیز آزاد میڈیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ تین ستون ہیں۔ میں پرامید ہوں اسی لیے کہ اب یہ تینوں چیزیں آگئی ہیں۔‘

-----------------------------------------------------------------
یہ مضمون چودہ اگست کو نشر ہونے والے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین سے ماخوذ ہے۔

گھر کا بیدیگھر کا بیدی
کرشن نگر کا بیدی اسلام پورہ کا لطیف
انڈیاہندوستانی شہ رگ
مڈل کلاس کا ملکی ترقی میں اہم کردار
طالبنائزیشن نے خوف پیدا کیا ہےسرحد: ساٹھ سال بعد
اقلیتوں میں عدم تحفظ کے خوف کا سال
ساٹھ سال کی داستان
پاکستان سیاسی بھنور کی گرفت میں
یوم آزادییومِ آزادی
پاکستان کے 60 ویں یومِ آزادی پر جوش و خروش
ناحجناح خاندان کی مدد
قائد اعظم کی نواسی کی مدد کرنے کا حکم
کشمیرکشمیر کے ساٹھ سال
’نفسیاتی مسئلے کا فوجی حل تلاش کیا جا رہا ہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد