ساٹھ سال بعد، عدم تحفظ کا خوف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قیامِ پاکستان کو ساٹھ سال ہونے پر صوبہ سرحد میں آباد اقلیتی برادری اس خوف کا اظہار کر رہی ہے کہ ان چھ دہائیوں کے دوران پہلی مرتبہ صوبے میں بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن کی وجہ سے وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور انہیں ایسے مبینہ خطوط بھی ملے ہیں جن میں انہیں مسلمان نہ ہونے کی صورت میں خود کش حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ انیس سو سینتالیس میں تقسیم برصغیر سے معرض وجود میں آنے والے ممالک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذہبی بنیادوں پر ہونے والی ہجرت میں جن دسیوں لاکھ افراد نے ہجرت کی تھی اس میں صوبہ سرحد میں آباد ہندؤوں اور سکھوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی لیکن اس کے باوجود ہندؤوں اور سکھوں کی اچھی خاصی تعداد نےصوبہ سرحد ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انکی تعداد کم ہوتے ہوتےاب محض چند ہزار رہ گئی ہے۔ ان ہندؤوں اور سکھوں کادعویٰ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے انہیں بعض نامعلوم مبینہ شدت پسند اسلامی تنظیموں کی طرف سے دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔ ہندؤوں کے ایک رہنماء کشور ندیم جان کا کہنا ہے: ’صوبہ سرحد میں ملاؤوں کی حکومت کے آنے کے بعد طالبان کے نام پر جو تنظیم سرگرم ہوئی ہے اس کی طرف سے ہمیں خطوط اور ٹیلی فون کے ذریعے دھمکی آمیز انداز میں مسلمان ہونے کے لیے کہا جاتا ہے۔ چند ہی روز قبل ’موت کی دستک‘ کے عنوان سے ایک خط ملا تھا جس میں یہ مبینہ دھمکی دی گئی تھی کہ مسلمان ہوجاؤ ورنہ آپ لوگوں کے خلاف خودکش حملے کیے جائیں گے‘۔ اگرچہ اس بات کی تصدیق نہیں ہو پا رہی کہ آیا یہ مبینہ دھمکی آمیز خطوط حقیقی بھی ہیں یا نہیں جبکہ ایک ملاقات کے دوران صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ نے اقلیتی برادری کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو تخفظ فراہم کرنے کی یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں لیکن اس کے باوجود ہندو اور عیسائی مذہب کے پیروکار سخت خوف میں مبتلا ہیں۔
پشاور میں باسٹھ سالہ پنڈت دیپ چند کی پیدائش قیام پاکستان سے دو سال قبل ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ آج انہیں مذہبی بنیادوں پر جیسے اور جتنے امتیازی سلوک کاسامنا ہے ماضی میں کبھی نہیں تھا۔ ان کے بقول ’ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی انیس سو پینسٹھ اور بعد میں انیس اکہتر کی لڑائی میں ہم ہندو بطور رضاکار لوگوں کی حفاظت کے لیے مسلمان دوستوں کے ساتھ ملکر گلیوں کوچوں میں پہرہ دیتے تھے مگر ہمیں کبھی بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ہم مذہبی طور پر اقلیت میں ہیں‘۔ پنڈت دیپ چند کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال یعنی دو ہزار سات کے دوران وہ خود کو بالکل غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’اس سال کے دوران تو ہم خود کو بالکل غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ اگر ہمیں یہاں اتنا ہی ناپسند کیا جا رہا ہے تو پھر یہاں کے ہندؤوں کو ہندوستان اور وہاں پر آباد مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے‘۔ پنڈت دیپ چند کے باتوں کی تائید ہندؤوں اور سکھوں کے دیگر مذہبی اور سیاسی رہنما بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد میں آباد ہندؤوں کو اس وقت پہلی مرتبہ مسلمانوں کی طرف سے نفرت کا نشانہ بنایا گیا جب انیس سو بانوے میں ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کیا گیا اور ردعمل کے طور پر پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح صوبہ سرحد میں ہندؤوں کے مذہبی مقامات پر حملے کیے گئے۔
صوبہ سرحد اسمبلی میں اقلیتی رکن گل سرن لال کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد آہستہ آہستہ انکے خلاف مسلمانوں کی جذبات میں شدت آنے لگی۔انکے بقول’ بابری مسجد کے واقعے سے قبل ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہمارا تعلق ایک اقلیتی فرقے سے ہے لیکن اس کے بعد جب مندروں اور گردواروں کو نشانہ بنایا گیاتو ہم نے خود کو غیر محفوظ سمجھنا شروع کردیا‘۔ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد جو صورتحال سامنے آئی ہے اس کی وجہ سے ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان سماجی دوریاں بھی آہستہ آہستہ پیدا ہونے لگیں۔ ہندؤوں اور سکھوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں مسلمان خواتین ان کی شادی بیاہ کی تقریبات میں نہ صرف شرکت کرتی تھیں بلکہ ہندو اور مسلمان خواتین کے درمیان سماجی میل میلاپ بھی قدرے زیادہ تھا لیکن بقول پنڈت دیپ چند کہ اب یہ تعلق بھی تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ ان کے بقول’مسلمان خواتین ہمارے تقریبات میں شرکت کر تی تھیں ۔ایک وقت ایسا بھی آیاتھا کہ جب میں شام کو گھر آتا تو میری بیوی بتاتی تھی کہ آج ہمارے گھر دس مسلمان خواتین آئی تھیں مگر روز بروز مذہبی نفرت بڑھنے کی وجہ سے اب سماجی میل میلاپ ختم ہوگیا ہے۔ہم اپنے آپ کو مسلمانوں سے دور رکھ رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ اب ہمیں اچھا نہیں سمجھتے اور ہم اگر ایک ہیں تو وہ سو ہیں لہذا کسی وقت بھی کچھ ہوسکتا ہے۔، |
اسی بارے میں ارتداد بل منظور، اقلیتی بل مسترد08 May, 2007 | پاکستان سندھ: ہندو اقلیت ہی نشانہ کیوں؟ 11 February, 2007 | پاکستان ’ اقلیتوں کی کوئی نہیں سنتا‘ 08 February, 2007 | پاکستان انتخابی دھاندلی: اقلیتیوں کا الزام 13 August, 2005 | پاکستان سندھ: اقلیتوں کی نشستوں میں اضافہ 25 July, 2005 | پاکستان سندھ: اقلیتوں کی نشتیں بڑھ گئیں24 July, 2005 | پاکستان بلدیاتی انتخابات، اقلیتوں کو انکار19 July, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||