سندھ: ہندو اقلیت ہی نشانہ کیوں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ کچھ عرصے میں سندھ میں تاوان کے لیے ہندوں کے اغوا اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات نے مزید عدم تحفظ کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ لاڑکانہ، سکھر، گھوٹکی، جیکب آباد، کندھ کوٹ، نئون دیرو اور عمرکوٹ میں ہندو کمیونٹی کاروبار کرتی ہے۔ اور یہ کاروبار کپڑے اور کریانہ سے صرافہ اور جیننگ فیکٹریوں تک پھیلا ہوا ہے۔ سندھ میں ہندو تاجر کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ اس کے پاس بہت پیسہ ہے۔ جس وجہ سے وہ ہمیشہ ڈاکوں اور پیشہ ور مجرموں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ لاڑکانہ کے تاجر سنتوش کمار نہ صرف خود اغوا ہوئے بلکہ ان کے دو بھائیوں کو بھی اغوا کیا گیا تھا اور تینوں کی بازیابی تاوان کی بھاری رقم ادا کرنے کے بعد ہوئی۔ مگر تمام اقلیتی لوگ سکھر کے سندیپ کمار اور صالح پٹ کے ان دو نوجوانوں کی طرح مالدار بھی نہیں کہ تاوان ادا کرسکیں۔ ان لوگوں میں رمیش لال بھی شامل ہے جسے گزشتہ سال ملک کے یوم آزادی پر اغوا کیاگیا اور تاوان نہ ملنے پر اس کی لاش پولیس چوکی پر چھوڑ دی گئی ایک اور ستیش کمار اس وقت بھی ڈاکوؤں کی قید میں ہیں جن کی رہائی کے لیے بھاری رقم طلب کی گئی ہے۔ ضلع گھوٹکی میں صرف تین سال کے دوران ویربان مل، لچھمن داس اور ریلو مل سمیت پانچ سے زائد ہندو تاجروں کو اغوا کرکے یا اغوا کی کوشش میں قتل کیا جا چکا ہے۔ اقلیتی ایم این اے رمیش لال کا کہنا ہے کہ ان کی ہم مذہب اقلیت کاروباری لوگوں پر مشتمل ہے، یہ لوگ سارا دن بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کرتے ہیں، اغوا ہونے پر ان سے رہائی کے لیے بڑی رقم کی مانگ کی جاتی ہے۔ وہ اتنی رقم کہاں سے لائیں، نتیجے میں انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔
سکھر کی مکھی ایشور لال کہتے ہیں کہ کمزور کمیونٹی کو ہمشیہ کچلا جاتا ہے، ہندو کمیونٹی کمزور ہے اس لیے اس کو بھی کچلا اور ہِٹ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ بس میں سوارکندھ کوٹ کا ایک ہندو خانداں کہیں جارہا تھا کہ ڈاکوں نے بس کو روکا۔ اس کے بعد باقی سب کو تو چھوڑ دیا لیکن اسی فیملی کو اغوا کرلیا۔ انہیں دنوں میں کچھ غیر ملکی انجنئیر بھی اغوا ہوئے، حکام نے انہیں کچھ دنوں میں رہا کرا لیا مگر ہندو فیملی کو جس میں بچے بھی شامل تھے تاوان کی ادائیگی کے بعد رہائی ملی۔ اندروں سندھ روایتی طور پر بڑی اور باثر برادریوں کے افراد کو ڈاکو بھی ہاتھ نہیں لگاتا، مگر ہندو کمیونٹی آئسولیشن اور بے بسی کا شکار ہے۔ اگرچہ بیشتر بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اقلیتی ونگ بھی قائم کیے ہوئے ہیں مگر وہ سیاسی طور پر یا اقتدار کے حوالے سے مین اسٹریم کا حصہ نہیں۔ ویسے اب اقلیتوں کو مشترکہ ووٹ کا حق ہے لیکن حق بھی ان کے حقوق کا تحفظ نہیں کر پار رہا ہے۔ اس مشترکہ ووٹ کے حق کے لیے جیکب آباد میں جلوس نکالنے والے اور اقلیتی خواتین کو پہلی مرتبہ سڑکوں پر لانے والے سدھام چند کو قتل کیا گیا اور کہا جا سکتا ہے کہ اس واقعے نے اقلیتوں کو کئی طرح کے ان کہے پیغامات دیے۔ سدھام چند کے قتل میں ملوث ملزم آج تک گرفتار نہیں ہوسکے اور بالآخر ان کے بھائی دل برداشتہ ہوکر بھارت چلے گئے۔ عمرکوٹ میں رام مہیشوری کو با اثر افراد نے تیس لاکھ روپے قرضےکی رقم کا تقاضا کرنے پر قتل کردیا۔ مگر پولیس کے ’تعاون‘ کی وجہ سے تحقیقات اور شواہد کمزور ہوگئے اور ملزمان رہا ہوگئے۔ رام مہیشوری کے بیٹے سریش مہیشوری کے مطابق وہ اب یہاں انصاف کی کیا توقع کرسکتے ہیں، الٹا وہ مزید عدم تحفط کا شکار ہوگئے ہیں کہ کہیں ملزم بدلہ نہ لیں۔ سندھ میں قوم پرست جماعتیں ہندو کمیونٹی کی قریبی سمجھی جاتی رہی ہیں، مگر کراچی سے کپیل شرنگی کے اغوا اور اس کی بازیابی میں ایک قوم پرست جماعت کے کردار نے اس قربت کو بھی مشکوک کردیا ہے۔ اقلیتی ایم این اے رمیش لال تحفظ کے بغیر مشترکہ انتخابات کے نظام کو بھی بے فائدہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیتوں سے یہ پوچھنے والا کوئی نہیں ہے کہ آپ کو کیا تکلیف ہے۔ کم سے کم تحفظ تو فراہم کیا جائے، تاکہ وہ امن سے رہ سکیں۔
مکھی ایشورلال کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار پانچ ماہ کے مقابلے میں حالات قدرے کچھ بہتر ہوئے ہیں، مگر اقلیتی برادری کے لوگوں کا خوف ختم نہیں ہوا، وہ نہیں سمجھتے کہ آزادی سے کسی بھی وقت گھر سے نکل سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل تک یہ صورتحال تھی کہ ہم لوگ آٹھ بجے سے پہلے گھر چلے جایا کرتے تھے۔ سندھ کے مشیر برائے اقلیتی امور کشچند پاروانی کہتے ہیں کہ اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔ انیس سو اسی کی دہائی میں ایسا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ قانونی طور پر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے برابر کے شہری ہیں مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔ اقلیتی یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ ان کا بھی ملک ہے اس پر ان کا بھی حق ہے۔ اغوا قتل اور عدم تحفظ کے احساس نے ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کو اپنا دیس بھی چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس دیس کو انہوں نے قیام پاکستان کے وقت بھی نہیں چھوڑا لیکن موجود حالات نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ تھرپارکر، جیکب آباد، گھوٹکی سمیت کئی علاقوں سے کئی ایک خاندان ملک چھوڑ گئے ہیں۔ مگر نہ تو حکومت نے اس کا نوٹس لیا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت نے اس طرف توجہ دی۔ مکھی ایشور لال کہتے ہیں کہ ایسے واقعات کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد اپنے علاقے چھوڑ گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ کیاکریں، جب داد و فریاد نہیں ہے تو بندہ یہی کہے گا کے یہاں سے بھاگ نکلو‘۔ رکن قومی اسمبلی رمیش لال کہتے ہیں کہ ہم بھی اس ملک کے شہری ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں ہم محب وطن ہیں۔ جو لوگ یہاں سے جا رہے ہیں وہ غلط کر رہے ہیں یہ ہمارا ملک ہے ہم یہاں سے کہیں اور کیوں جائیں؟
کشچند پاروانی کا کہنا ہے کہ اس وقت لوگ نقل مکانی نہیں کر رہے ان کے مطابق انیس سو اسی میں لوگ یہاں سے گئے تھے مگر اس کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر نقل مکانی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سدھام چند ایک کیس ہے جن سے زیادتی ہوئی اور پھر لوگ بھی نہیں پکڑے گئے اس وجہ سے ان کا خاندان یہاں سے چلاگیا۔ حال ہی میں حیدرآباد کے قریب کوٹری میں گریش کمار کے اغوا اور ان کے بے رحمانہ قتل سے ہندو کمیونٹی کو ایک دھچکا پہنچا ہے۔ کراچی ہندو پنچائت کے صدر امر ناتھ کہتے ہیں کہ گریش کمار کے قتل سے جو حقیقت سامنے آئی ہے اس سے تو اور ہراس پھیلنے لگا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندؤں کو کسی منصوبے کے تحت تنگ کیا جارہا ہے یا ایسے واقعات صوبے میں مجموعی بدامنی اور جرائم کے نتیجے میں ہو رہے ہیں؟ اس کا جواب حکومت اور سیاسی جماعتوں کے پاس تو نہیں ہے مگر متاثرہ کمیونٹی یہی سمجھتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||