BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندو کمیونٹی ذہنی اذیت کا شکار

مندر کے پاس ذبحہ خانہ
کراچی میں ہندؤں کے مندر کے باہر گائے ذبح کی جاتی ہیں
کراچی میں ہندو کمیونٹی گزشتہ بیس برسوں سے ذہنی اذیت کا شکار ہے۔

شہر کے قدیمی علاقے لیاری میں پون داس کمپاؤنڈ میں ہندو کمیونٹی کے دو قدیم مندر واقع ہیں، جہاں بٹوارے سے قبل’ آشرم‘ تھا۔ پاکستان بننے کے بعد اس پر لوگوں نے قبضہ کرلیا اور مورتیاں اٹھا کر باہر رکھ دیں۔

اب ایک مندر خستہ حالت میں کچرے سے بھرا ہوا ہے، تاہم اس میں ’شنک‘ اور ایک مورتی ابھی تک موجود ہے، دوسرے میں ایک عامل نے آستانہ بنالیا ہے۔

پون کمپاونڈ میں ساٹھ سالہ بدھا رام مہیشوری بھی رہتے ہیں جس کے والدین بھارت ہجرت کرنے کے دو ماہ بعد واپس کراچی آگئے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد یہاں افراتفری کا ماحول تھا اس لیئے یہ لوگ خوف کے مارے بھارت چلے گئے، مگر وہاں غربت زیادہ تھی، اناج نہیں تھا اس کے مقابلے میں کراچی میں دھندا اچھا ہوتا تھا اس لیئے واپس آگئے۔

بدھا رام کے مطابق جب کراچی واپس پہنچے تو ان کے گھروں پر قبضہ ہوچکا تھا، آشرم کی یہ جگہ خالی دیکھی تو یہاں آ کر رہنے لگے۔

ہم بہت پریشان ہیں کس کو شکایت کریں۔اوماکا دیوی

انہوں نے بتایا کہ اس کمپاؤنڈ میں مندر اور آشرم ہوا کرتے تھے جہاں سادھو اور سنت آکر عارضی پڑاؤ کرتے۔ واپس آئے تو مندر پر قبضہ ہوچکا تھا مورتیاں باہر پھینک دی گئیں تھیں، جنہیں ہمارے بزرگوں نے اٹھا کر ایک درخت کےسائے میں رکھا۔ بعد میں ایک چھوٹے کمرے میں مندر قائم کیا گیا۔

کراچی میں ہندؤں کی چھوڑی گئی پراپرٹی کو حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور اس مقصد کے لیئے ایویکیو ٹرسٹ بنایا گیا۔ پون داس کمپاؤنڈ بھی اسی ٹرسٹ کی ملکیت ہے۔

پچیس گھروں میں سے گیارہ گھر ہندؤں کے ہیں جو کمپاؤنڈ کے پچھلے حصے میں رہتے ہیں اور چوکیداری اور مزدوری سمیت چھوٹی ملازمتیں کرتے ہیں۔ بدھا رام کے مطابق اس کمپاؤنڈ کے مکین تبدیل ہوتے رہے ہیں، ہر مکان میں کوئی چار سال رہا تو کسی نے دس سال قیام کے بعد دوسرے کو بیچ دیا۔

کمپاونڈ میں اس وقت قصائیوں کی اکثریت آباد ہے جو گھر کے باہر ہی گائے اور دیگر جانور ذبح کرتے ہیں۔گھروں اور موجودہ مندر کے سامنے بھی لکڑی کے وہ ٹکڑے موجود ہیں جن پر گوشت کاٹا جاتا ہے۔

قانوناً رہائشی علاقوں میں جانور ذبح کرنے پر پابندی ہے، جس کی شکایت ہندؤں سمیت ایک مسلمان تاجر بھی کرچکا ہے۔

دکاندار داؤد کے مطابق محکمہ مویشیاں کے اہلکار کو سب پتہ ہے مگر وہ کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ جبکہ انہوں نے محستب اعلیٰ کوبھی شکایت کی تھی جنہوں نے مذبحہ خانہ بند کرانے کا حکم دیا تھا جس پر بھی عمل نہیں کیاگیا۔

پوجا
گھر کے اندر مندر میں پوجا

داؤد کاکہنا ہے کہ ان کا مذہب اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی مسلمان کسی اور کے مذہبی معاملات میں ہاتھ ڈالے۔میں نے ان ہندؤں کی ہر بار حمایت کی ہے مگر میری بات نہیں مانی گئی۔

ان لوگوں پر اپنے ایک چھوٹے کمرے کے مندر میں مذہبی رسم ست سنگ کرنے پر بھی غیر اعلانیہ پابندی ہے۔ جس وجہ سے یہ لوگ تہوار پر دیگر علاقوں کے مندروں میں جاکر ست سنگ میں شریک ہوتے ہیں۔

قدیمی مندر کے کمرے میں قائم آستانے کے عامل فرید حسین میاں کا کہنا ہے کہ وہ پچاس سال سے یہاں رہتے ہیں اور یہ آستان ان کے دادا کے دور سے چل رہا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مندر میں آستانہ بنانے کو غلط نہیں سمجھتے، تو انہوں نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ’ میں وہاں ڈانس تو نہیں کر رہا کلام پڑھتا ہوں۔‘

مندر میں کلام پڑھتا ہوں: بدھا رام

مندر کے اس کمرے کی دیواروں پر ابھی کچھ تصویریں باقی جبکہ کچھ پر مٹی سے لیپا کردیاگیا ہے، مگر فرید حسین میاں کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی ہے جو چیزیں جیسی تھیں ویسی ہیں، تصویریں خود خراب ہوگئیں ہیں۔

اقلیتی کونسلر بوبی کے مطابق مندر میں اس سے قبل رہنے والوں نے کبھی تصویروں کو نہیں چھیڑا کیونکہ انہیں خوف تھا کہ یہ ایک مذہبی جگہ ہے جو واپس کرنی پڑے گی۔

لوگوں کے رویے نے ہندؤ کمیونیٹی کے ان گیارہ گھرانوں کو بد دل کردیا ہے، پچہتر سالہ اوما کا جو پاکستان بننے کے بعد بھارت نہیں گئیں تھیں، کہنا ہے کہ ہمیں یہاں بہت حقیر سمجھا جاتا ہے اگر دیوار پر ہاتھ لگ جائے تو کہتے ہیں ناپاک ہوجائےگی، ہم بہت پریشان ہیں کس کو شکایت کریں۔

انہوں نے کہا کہ’ چھوٹی چھوٹی بات پر ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، ہم ڈر کر گھر میں بیٹھے جاتے ہیں، ہم نے تو برداشت کیا مگر آج کی نسل برداشت نہیں کرتی ہے۔‘

بدھا رام بھی کہتے ہیں کہ بزرگوں کی واپسی کا فیصلہ غلط تھا، ہمیں واپس نہیں آنا چاہئے تھا۔ ہمارے رشتہ دار جو وہاں رہے ہیں وہ ہم سے زیادہ خوشحال ہیں۔ ہم یہاں ہم خوف کی زندگی جی رہے ہیں۔

اسی بارے میں
پاکستان کا پہلا ہندو فوجی
26 September, 2006 | پاکستان
ہندوؤں کا مطالبہ منظور
05 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد