پاکستان کا پہلا ہندو فوجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی انسٹھ برس کی تاریخ میں دانش ولد بھیرو مل پہلا ہندو نوجوان ہے جسے فوج میں بھرتی کیا گیا ہے۔ اقلیتی کمیشنڈ فوجی افسر کیپٹن ڈاکٹر دانش مینگھواڑ کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کی کمیونٹی کے اکثر لوگ یا تو کسان ہیں یا موچی کا کام کرتے ہیں۔ ہندوں میں مینگھواڑوں کو شیڈول کاسٹ تسلیم کیا جاتا ہے، جو بھارتی راجستھان کے پڑوسی ضلع تھرپارکر میں ایک بڑی تعداد میں آْباد ہیں۔ تھر کے گاؤں مٹھڑیو چارن میں دانش کا گھرانہ روشن خیال تصور کیا جاتا ہے۔ دانش کے داد استاد تھے جبکہ والد نے بھی اس پیشے کو اختیار کیا مگر چچا اور بڑے بھائی ڈاکٹر ہیں۔ دانش نے ابتدائی تعلیم ٹنڈوجان محمد اور حیدرآباد میں حاصل اور بعد میں لیاقت میڈیکل سائنسز یونیورسٹی میں گریجوئیشن کی۔ سندھ میں نوجوانوں اور خاص طور پر اقلیتوں کا فوج میں بھرتی کا کوئی رجحان نظر نہیں آتا تو پھر دانش کیسے بھرتی ہوگئے۔ اس بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ صدر مشرف کے جب یہ بیانات آئے کہ اقلیتوں کو بھی آرمڈ فورسز میں آگے آنا چاہیئے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔ اس کے بعد دانش کی دلچسپی بھی اس طرف ہوئی اس کے علاوہ سندھ میں سمندری طوفان اور زلزلے کے دنوں میں پاک فوج کا جو کردار رہا اس نے مجھ کافی حد تک متاثر کیا تھا۔ دانش کا کہنا ہے صدر مشرف کے دور حکومت میں پسماندہ علاقے تھر میں میٹھے پانی کا منصوبہ شروع ہوا، سڑکیں تعیمر ہوئیں، آرمی پبلک سکول قائم ہوا۔ جس سے ان کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی۔ صدر مشرف دانش کی آئیڈیل شخصیت رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر مشرف نے ملکی مفادات میں جو فیصلے کیئے ہیں ان سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔ دانش نے تسلیم کیا کہ فوج کی تعلیم اور تربیت میں سختی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سختیاں اس لیئے ہوتی ہیں کہ اس سے ڈسپلین قائم ہوتا ہے اور سختی سے انسان میں فیصلے کرنےکی قوت پیدا ہوتی ہے اور وہ مشکلات کا سامنا کرنا سیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا اس وجہ سے سندھ کے لوگوں کا اس طرف رجحان کم ہے میں ان کو مشورہ دوں گا کہ ان کو بھی فوج میں جانا چاہئے کیونکہ تھوڑی بہت سختی تو برداشت کرنی پڑتی ہے۔ تربیت کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے دانش نے بتایا کہ پورے کورس میں ساتھیوں کا رویہ اچھا اور معاون رہا۔’ ہم میں ایسی کوئی تفریق نہیں تھی، سب نے ہر مشکل میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، ساتھیوں نے کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہوں۔‘ پاکستانی معاشرے میں عام طور پر ہندؤں کے ساتھ کھانے پینے کو اچھا نہیں تصور کیا جاتا مگر دانش کا کہنا ہے کہ دوران تربیت ایسی تعصب والی کوئی بات نہیں تھی۔ ’ہم ایک ہی برتن میں کھانا کھاتے تھے، ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور میں نے کبھی کوئی فرق محسوس نہیں کیا۔‘ اپنے گاؤں تھر پارکر لوٹتے ہوئے جہاں بارشوں کے بعد ہریالی ہی ہریالی ہے۔ دانش کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کو مسلح افواج میں جانا چاہیئے یہ ملک ہمارا ہے اس کے دفاع کے لیئے ہمیں آگے آنا چاہئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اقلیتوں میں سے مسیحی پاک فوج میں بھرتی ہوتے رہے ہیں گزشتہ ماہ پہلے سکھ کیڈٹ ہرچن سنگھ کو شامل کیا گیا جس کے بعد دانش کو پہلے ہندو افسر کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ دانش کو پہلی پوسٹنگ لاہور میں دی گئی ہے اور انہیں تین نومبر کو رپورٹ کرنا ہے۔ | اسی بارے میں پاک فوج کا پہلا سکھ افسر20 December, 2005 | پاکستان ہندوؤں کا مطالبہ منظور05 January, 2005 | پاکستان شاملائی کے سکھ کے مسائل09 November, 2005 | پاکستان کراچی: مسیحیوں کا احتجاج25 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||