مڈل کلاس:’نئے انڈیا کی شہ رگ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان جب ساٹھ برس قبل برطانوی تسلط سے آزاد ہوا تو وہ ایسے ملک کی شکل میں تھا جو دوسو برس کی غلامی، استحصال اور انتشار سے اقتصادی طور پر کھوکھلا ہوچکا تھا۔ ہرطرف غربت، جہالت اور افلاس کا بسیرا تھا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ہندوستان کو ’بھوکوں ننگوں‘ کا دیس کہا جاتا تھا۔ آج وہی ہندوستان اقتصادی ترقی کی بڑی بڑی منزلیں طے کر رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس سے پچیس برس میں ملک میں ایک بہت بڑا متوسط طبقہ پیدا ہوا ہے جو ’نئے ہندوستان کی شہ رگ‘ ہے۔ جو ملک کی ترقی کے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور جو ملک کے مستقبل کی سمت متعین کررہا ہے۔ لیکن مغرب کے اس عمومی تصور کے بر عکس ہندوستان کے بیشتر دانشور اور سماجی امور کے ماہرین اس ’گریٹ انڈین مڈل کلاس‘ کے تصور سے اتفاق نہیں کرتے۔
دانشور یوگیندر یادو کا کہنا ہے:’اقتصادی اعتبار سے پندرہ فیصد لوگوں کو متوسط طبقے یا مڈل کلاس میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دس پندرہ برسوں میں اس طبقے کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہندوستان میں غربت ختم ہوگئی ہے۔ امیر لوگ اور امیر ہوئے ہیں اور ان کی تعداد بڑھی ہے جبکہ غریبوں کی حالت پہلے سے بھی خراب ہوئی ہے، یہ ہمارے ملک کی حقیقت ہے‘۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سماجی علوم کے پروفیسر دیپانکر گپتا کہتے ہیں کہ مغربی ممالک میں نوے فیصد آبادی مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔وہ مڈل کلاس سوسائٹی جہاں قانون پر عمل ہوتا ہے جہاں قانون اور ضابطے کو مانا جاتا ہے۔ ہر اصول سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔ لیکن ہندوستان میں مڈل کلاس کی بات کرتے ہیں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس کے پاس کتنے فون ہیں، کتنی گاڑیاں اور کتنے مکان ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معیشت کی ترقی کا فائدہ ایک چھوٹے سے طبقے تک محدود ہے اور بقول ان کے ملک میں صرف دو فیصد طبقہ ایسا ہے جو امیر یا متوسط طبقے کے زمرے میں آئے گا۔ ملک میں بیس فیصد سے زيادہ آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے:’گاؤں دیہاتوں کی حالت بہت خراب ہے۔ بیالیس فیصد لوگ گاؤں چھوڑ رہے ہیں۔ منظم سیکٹر میں ملازمتیں پچیس سال سے نہیں بڑھی ہیں۔ غیر منظم سیکٹر میں ملازمتوں میں ضرور اضافہ ہوا ہے جہاں اجرتوں پر کو ئی کنٹرول نہیں ہے اور جہاں مزدور انتہائی غیر انسانی حالت میں کام کر رہے ہیں۔ آزادی کے ساٹھ برس بھی چالیس فیصد آبادی جھگی جھوپڑی میں رہتی ہے‘۔
دانشور اور ’گریٹ انڈین مڈل کلاس‘ کتاب کے مصنف پون کمار ورما کا کہنا ہے کہ کسی متوسط طبقے کو اس ملک کے تناطر میں دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ہندوستان میں جس شخص کے پاس تین وقت کی روٹی، رہنےکو مکان ہو جو بچوں کو سکول بھیج سکے جو علاج کرانے کی استطاعت رکھتا ہو اور جس کے پاس پنکھا، گھڑی اور سائیکل جیسی روزمرہ کی اشیاء ہوں وہ مڈل کلاس کا حصہ بن چکا ہے۔ ’میرا خیال ہے کہ یہ طبقہ چالیس سے پچاس کروڑ کے درمیان ہوگا۔ اس میں قوت ِخرید ہے اور یہ طبقہ بڑھتا جارہا ہے‘۔ پون کمار ورما اس دلیل سے متفق نہیں ہیں کہ’ہندوستان میں دیہی اور شہری علاقوں میں تفاوت یا فرق بڑھتا جارہا ہے جو سب سے بڑا گاؤں ہے وہ چھوٹا شہر بن چکا ہے اور چھوٹا شہر بڑا گاؤں بن چکا ہے۔ آگے بڑھنے کی چاہ ہر جگہ ہے۔ دیہی علاقوں میں آٹھ کروڑ کیبل ٹی وی کنکشنز ہیں۔ وہ بھی وہی چیز دیکھ رہے ہیں جو شہروں میں دیکھ رہے ہیں۔ اب ان کے خواب اور تمنائیں وہی ہیں جو شہریوں کی ہیں‘۔ آزادی کے بعد متوسط طبقے کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ اس وقت ہوا جب انیس سو ستر کے عشرے میں بینکوں اور دیگر اداروں کو قومی تحویل میں لیا گيا۔ انیس سو اکانوے میں اقتصادی اصلاحات کے آغاز کے سبب اس طبقے کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ پچیس برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے بڑھتے گئے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت کےمواقع بھی بڑھے۔ آج ملک کے تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایک بڑی تعداد دیہی علاقوں کے طلبہ کی ہے۔ مسٹر ورما کہتے ہیں: ’یہ ایک نئے ہندوستان کے آغاز کی علامت ہے‘۔ پون کمار ورما کا خیال ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کی تعداد ہر سال بڑھتی جارہی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ طبقہ اپنی دنیا تک محدود ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو اس کی ترجیحات ہیں وہی ملک کی ترجیحات ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ جس طرح اس طبقے کوصرف اپنے مفادات میں دلچسپی ہے، انہیں اندیشہ ہے کہ ’ایسا نہ ہوکہ اس کی ترجیحات الگ ہوجائیں اور باقی دنیا الگ ہوجائے‘۔ پروفیسر دیپانکر گپتا کہتے ہیں کہ ملک کا جو خوشحال طبقہ ہے، اس کی زندگی عام لوگوں کی زندگی سے بالکل مختلف ہے۔ ’یہ طبقہ غریبوں کے لیے کوئی جذبات نہیں رکھتا اور اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے‘۔ یوگیندر یادو کہتے ہیں کہ ہر سماج میں کچھ لوگ زیادہ خوشحال ہوتے ہیں کچھ کم۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو لوگ مالی طور پر بہتر زندگی گزار رہے ہیں، کیا وہ لوگ اس ملک کے تمام گروہوں سے آ رہے ہیں یا وہ کسی مخصوص ذات برادری سے آرہے ہیں۔ ’ہمارے ملک میں دقت یہی ہے کہ یہ لوگ ہندؤوں کی صرف اعلیٰ ذات برادریوں سے آرہے ہیں اس لیے جب تک اس میں تمام مذاہب، ذات اور برادری کی نمائندگی نہیں ہوتی تب تک اس ملک کا مڈل کلاس طبقہ پورے ملک کا اعتماد نہیں جیت سکتا‘۔ |
اسی بارے میں غربت کا خاتمہ ایک چیلنج: منموہن15 August, 2007 | انڈیا سب سےبڑی غربت مٹاؤ سکیم 02 February, 2006 | انڈیا ’ریاستیں ترقی کی رفتار بڑھائیں‘28 September, 2006 | انڈیا بھارت میں شہروں کی ترقی کا اعلان03 December, 2005 | انڈیا انڈیا: اقتصادی ترقی کے نئے تقاضے 27 February, 2006 | انڈیا بھارت کا دیہی ترقی کا پروگرام15 November, 2004 | انڈیا بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||