 | | | امید کے برعکس مینوفیکچرنگ سیکٹر میں اضافہ دیکھا گیا ہے |
انڈیا کی حکومت کے مطابق ملک کی معیشت رواں مالی سال میں نو اعشاریہ دو فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے۔ رواں مالی سال مارچ میں ختم ہورہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ اٹھارہ برسوں میں معیشت کی شرح نمو میں مینوفیکچرنگ اور سروسز سیکٹرز کا کردار سب سے زیادہ اہم ثابت ہورہا ہے۔ نو اعشاریہ دو فیصد کی شرح ترقی کا حکومتی اندازہ انڈیا کے مرکزی بینک کی پیشین گوئی کے مطابق ہے جو کہ آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد اور نو فیصد کے درمیان کی گئی تھی۔ گزشتہ ہفتے انڈیا کی حکومت نے کہا تھا کہ گزشتہ مالی سال میں معیشت کی شرح ترقی اس کی آٹھ اعشاریہ چار فیصد کی پیشین گوئی سے زیادہ یعنی نو فیصد تھی۔ نو اعشاریہ دو فیصد شرح ترقی کے موجودہ حکومتی اندازے کے بعد بازار حصص میں 14570 پوائنٹ کا ریکارڈ دیکھا گیا۔ کرِسِل کنسلٹنسی کے لیے کام کرنے والے ماہر اقتصادیات ڈی کے جوشی کا کہنا ہے کہ موجودہ ’شرح ترقی اس بار برقرار رہے گی ۔‘  | معیشت کی شرح ترقی  معیشت کی شرح ترقی برقرار رہنے کی وجوہات میں برآمدگی میں اضافہ، صارفین کی جانب سے خرچ اور سرمایہ کاری اہم ہیں۔  ڈی کے جوشی |
ڈی کے جوشی کے خیال میں معیشت کی شرح ترقی برقرار رہنے کی وجوہات میں برآمدگی میں اضافہ، صارفین کی جانب سے خرچ اور سرمایہ کاری اہم ہیں۔حکومتی اداروں کے مطابق مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیداوار میں گیارہ اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہونے کی امید ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ صرف نو اعشاریہ ایک فیصد تھا۔ امید کی جارہی ہے کہ سروسز سیکٹر میں بھی اس سال گیارہ اعشاریہ دو فیصد کا اضافہ ہوگا جبکہ گزشتہ سال یہ نو اعشاریہ آٹھ فیصد تھا۔ تاہم زراعت میں صرف دو اعشاریہ سات فیصد کی شرح ترقی کی امید کی جارہی ہے۔ انڈیا کا ملکی پیداوار زراعت پر بیس فیصد منحصر ہے اور ساٹھ فیصد لوگ اس سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ زرعی پیداوار میں چار فیصد تک اضافے کی ضرورت ہے، تبھی انڈیا کی معیشت کی شرح ترقی سات سے آٹھ فیصد کے درمیان برقرار رکھی جاسکتی ہے۔
|