امریکی خبریں اب بنگلور سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے جنوبی شہر بنگلور کے مرکز میں واقع ایک آفس میں درجن بھر افراد رات کی شفٹ میں کام کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ پیشے سے یہ لوگ صحافی ہیں اور دنیاکے سب سے بڑی خبر رساں ایجنسی’رائٹرز‘ میں کام کرتے ہیں۔ یہ صحافی امریکہ کی اقتصادی خبروں پر نظر رکھتے ہیں اور رات بھر کام کرتے ہیں تاکہ نیویارک حصص مارکٹ میں امریکی کمپنیوں کی خبروں کی براہ راست رپورٹنگ ممکن ہو سکے۔ لیکن یہاں سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر رائٹرز ایجنسی امریکہ کی خبریں بنگلور سے کیوں کور کروا رہی ہے۔ کیوں کہ ہندوستان کے یہ صحافی نیویارک دفتر میں رائٹرز کے صحافیوں کے مقابلے بہت کم پیسوں پر کام کرتے ہیں۔ رائٹر کے ایڈیٹر ان چیف ڈیوڈ شلسنگر کا کہنا ہے کہ ’اس قدم کے تحت، رائٹرز، خرچ میں اضافہ کیے بغیر امریکی کمپنیوں کی 'رپورٹنگ' کو مزید توسیع کرنا چاہتی ہے۔‘ مسٹر شلسنگر نے بی بی سی کو بتایا: ’اب ہم نیویارک میں کام کرنے والے صحافیوں کو بہتر خبر کے لیے بھیج سکتے ہيں اور یہ ہمارے کاروبار اور صحافت دونوں کے لیے بہتر ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے سبب یہ کام ممکن ہو سکا ہے۔ کیوں کہ اکثر امریکی کمپنی اپنی ’پریس ریلیز‘ ( کپمنی کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات ) انٹر نیٹ پر جاری کرتی ہیں اور بنگلور میں مقیم صحافی بھی یہ بنیادی معلومات نیویارک میں بیٹھے صحافیوں کی طرح جلد حاصل کرلیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے: ’اس وقت 'ٹیلی کمنیکیشن' سستا ہوگیا ہے۔ بنگلور میں لکھی گئی رپورٹ بھی نیویارک میں لکھی گئی رپورٹ کی طرح دنیا میں آسانی سے فراہم ہو جاتیں ہیں۔‘ رائٹرز کی ہندوستانی ایڈیٹر ابی سیکی مٹسو کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اچھے صحافیوں کی کمی نہیں ہے لیکن انہیں کچھ تربیت دیے جانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بھی اب خبر لکھنے کا طریقہ بدل گیا ہے اور پہلے کی طرح اب صرف ہیڈ لائن نہیں بلکہ پوری خبر بھی بناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس باصلاحیت اور نوجوان صحافی ہیں اور وہ امریکی بازار کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔‘ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ میں کام کرنےکے طریقے میں کچھ فرق ہے اور اس میں جو کمیاں ہیں انہیں بہتر ڈھنگ سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
حالانکہ رائٹر کے سامنے ایک مشکل بھی ہے۔ ہندوستان میں دیگر کمپنیوں میں دی جانے والی تنخواہوں سے دوگنا تنخواہ دینے کی باوجود رائٹرز میں گزشتہ ایک برس میں آدھے صحافیوں نے نوکری چھوڑ دی ہے۔ ہندوستان کی اقتصادی حالت بہترہورہی ہے اور اقتصادی خبروں پر مبنی کئی نئے ٹیلی ویژن چینلز کی شروعات سے اقتصادی صحافیوں کو بہتر تنخواہیں ہندوستان میں ہی ملنے لگيں ہیں۔ اخبارات بھی اب بہت اچھی تنخواہیں دے رہے ہیں۔ اس وقت بہت سے امریکی اخبار زیادہ خرچ سے پریشان ہیں اور وہ سب ہندوستان کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپر کے مطابق اس 'ٹرینڈ' میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ تنظیم نے گزشتہ بر س اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندوستان سے خبروں کی 'اس طرح' رپورٹنگ کرانے کا یہ ٹرینڈ اور بڑھے گا۔ خیال رہے کہ اس طریقے سے تمام میڈیا تنظمیں متاثر ہیں اور اس طرح کی آوٹ سورسنگ سے استفادہ کر رہی ہیں۔ بی بی سی بھی اس جانب اپنا قدم بڑھانے جارہی ہے اور کپمنی کی اکاؤنٹگ کا کام ہندوستان کے چینئی شہر کی ایک کمپنی ’ایکزانسہ‘ کے ہاتھوں میں ہوگا۔ |
اسی بارے میں انفوسِس: پیسے کے عوض تصفیہ11.05.2003 | صفحۂ اول انفوسس کا زبردست کاروبار 13 April, 2004 | انڈیا بل گیٹس: بلاگ انتہائی موثر ہے 23 May, 2004 | نیٹ سائنس ’امریکہ کو ویزا پالیسی سے گھاٹا‘31 January, 2005 | صفحۂ اول آئی ٹی: پاکستان پیچھے کیوں؟07 December, 2005 | Debate وپِرو کے منافع میں زبردست اضافہ22 April, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||