BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 February, 2007, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی خبریں اب بنگلور سے

رائٹرز کا بنگلور بیورو
ہندوستان کے جنوبی شہر بنگلور کے مرکز میں واقع ایک آفس میں درجن بھر افراد رات کی شفٹ میں کام کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ پیشے سے یہ لوگ صحافی ہیں اور دنیاکے سب سے بڑی خبر رساں ایجنسی’رائٹرز‘ میں کام کرتے ہیں۔

یہ صحافی امریکہ کی اقتصادی خبروں پر نظر رکھتے ہیں اور رات بھر کام کرتے ہیں تاکہ نیویارک حصص مارکٹ میں امریکی کمپنیوں کی خبروں کی براہ راست رپورٹنگ ممکن ہو سکے۔

لیکن یہاں سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر رائٹرز ایجنسی امریکہ کی خبریں بنگلور سے کیوں کور کروا رہی ہے۔ کیوں کہ ہندوستان کے یہ صحافی نیویارک دفتر میں رائٹرز کے صحافیوں کے مقابلے بہت کم پیسوں پر کام کرتے ہیں۔

رائٹر کے ایڈیٹر ان چیف ڈیوڈ شلسنگر کا کہنا ہے کہ ’اس قدم کے تحت، رائٹرز، خرچ میں اضافہ کیے بغیر امریکی کمپنیوں کی 'رپورٹنگ' کو مزید توسیع کرنا چاہتی ہے۔‘ مسٹر شلسنگر نے بی بی سی کو بتایا: ’اب ہم نیویارک میں کام کرنے والے صحافیوں کو بہتر خبر کے لیے بھیج سکتے ہيں اور یہ ہمارے کاروبار اور صحافت دونوں کے لیے بہتر ہے۔‘

بنگلور کا رخ
 مقامی نامہ نگاروں کے مطابق بعض خبررساں ایجنسیاں بھی رائٹرز کے اس تجربے کو عمل میں لا رہی ہیں اور بنگلور کا رخ کر رہی ہیں۔ مسٹر شلنسگر نے زرو دے کر کہا کہ یہ ’آوٹسورسنگ‘ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلور کا رائٹرز بیورو دنیا کے کسی بھی رائٹرز بیورو کی طرح ہے اور یہاں ملازم صحافی ایسے کام کرتے ہيں جیسے دنیا میں رائٹرز کے دیگر صحافی کام کرتے ہیں۔
مقامی نامہ نگاروں کے مطابق بعض خبررساں ایجنسیاں بھی رائٹرز کے اس تجربے کو عمل میں لا رہی ہیں اور بنگلور کا رخ کر رہی ہیں۔ مسٹر شلنسگر نے زرو دے کر کہا کہ یہ ’آوٹسورسنگ‘ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلور کا رائٹرز بیورو دنیا کے کسی بھی رائٹرز بیورو کی طرح ہے اور یہاں ملازم صحافی ایسے کام کرتے ہيں جیسے دنیا میں رائٹرز کے دیگر صحافی کام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے سبب یہ کام ممکن ہو سکا ہے۔ کیوں کہ اکثر امریکی کمپنی اپنی ’پریس ریلیز‘ ( کپمنی کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات ) انٹر نیٹ پر جاری کرتی ہیں اور بنگلور میں مقیم صحافی بھی یہ بنیادی معلومات نیویارک میں بیٹھے صحافیوں کی طرح جلد حاصل کرلیتے ہیں۔

انکا کہنا ہے: ’اس وقت 'ٹیلی کمنیکیشن' سستا ہوگیا ہے۔ بنگلور میں لکھی گئی رپورٹ بھی نیویارک میں لکھی گئی رپورٹ کی طرح دنیا میں آسانی سے فراہم ہو جاتیں ہیں۔‘

رائٹرز کی ہندوستانی ایڈیٹر ابی سیکی مٹسو کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اچھے صحافیوں کی کمی نہیں ہے لیکن انہیں کچھ تربیت دیے جانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بھی اب خبر لکھنے کا طریقہ بدل گیا ہے اور پہلے کی طرح اب صرف ہیڈ لائن نہیں بلکہ پوری خبر بھی بناتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس باصلاحیت اور نوجوان صحافی ہیں اور وہ امریکی بازار کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔‘ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ میں کام کرنےکے طریقے میں کچھ فرق ہے اور اس میں جو کمیاں ہیں انہیں بہتر ڈھنگ سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی صحافی اتنے تیز نہیں
’ہندوستان میں کام کرنے میں کچھ حد تک سست روی کا پہلو ہوتا ہے۔ لہذا انہیں وقت کے حساب سے تیزی سے کام کرنے کی ضروت ہے۔ صحیح اور منظم رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ 'بریکنگ نیوز' کے لیے ان میں سمجھ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘

حالانکہ رائٹر کے سامنے ایک مشکل بھی ہے۔ ہندوستان میں دیگر کمپنیوں میں دی جانے والی تنخواہوں سے دوگنا تنخواہ دینے کی باوجود رائٹرز میں گزشتہ ایک برس میں آدھے صحافیوں نے نوکری چھوڑ دی ہے۔

ہندوستان کی اقتصادی حالت بہترہورہی ہے اور اقتصادی خبروں پر مبنی کئی نئے ٹیلی ویژن چینلز کی شروعات سے اقتصادی صحافیوں کو بہتر تنخواہیں ہندوستان میں ہی ملنے لگيں ہیں۔ اخبارات بھی اب بہت اچھی تنخواہیں دے رہے ہیں۔ اس وقت بہت سے امریکی اخبار زیادہ خرچ سے پریشان ہیں اور وہ سب ہندوستان کی طرف رخ کر رہے ہیں۔

ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپر کے مطابق اس 'ٹرینڈ' میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ تنظیم نے گزشتہ بر س اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ہندوستان سے خبروں کی 'اس طرح' رپورٹنگ کرانے کا یہ ٹرینڈ اور بڑھے گا۔

خیال رہے کہ اس طریقے سے تمام میڈیا تنظمیں متاثر ہیں اور اس طرح کی آوٹ سورسنگ سے استفادہ کر رہی ہیں۔ بی بی سی بھی اس جانب اپنا قدم بڑھانے جارہی ہے اور کپمنی کی اکاؤنٹگ کا کام ہندوستان کے چینئی شہر کی ایک کمپنی ’ایکزانسہ‘ کے ہاتھوں میں ہوگا۔

بل گیٹسعمر کی دکن ڈائری
زمین، سمگلر کا کتا اور ’بل گیٹس‘ یونیورسٹی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد