بھارتی میڈیا نفع نقصان کے جال میں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی معاشرے کا ایک اہم ستون’میڈیا‘ اور خاص طور پر الیکٹرونک میڈیا اس وقت ایک عجیب و غریب دور سے گزر رہا ہے۔ ماڈل جسیکا لعل ، پریہ درشنی مٹو اور نٹھاری جیسے معاملات میں متاثرہ افراد کو انصاف دلانے کے عمل میں ميڈیا نے ایک اہم کردار ادا کیا لیکن اسی دوران میڈيا پر یہ الزام بھی عائد کیے گئے کہ وہ تمام معاملات پر فیصلہ کن رائے نشر کر رہا ہے اور انصاف کے عمل کو متاثر کر رہا ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہندوستان کا میڈیا معاشرے کے سبھی طبقوں کو انصاف دلانے کے لیے کوشاں ہے یا پھر وہ ایک مخصوص طبقے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ملک میں موجود بیس سے بھی زيادہ نیوز چینل ’خبر وہی جو سچ دکھائے‘، ’سب سے تیز‘ ، ’ہر حال میں خبر‘ جیسے اور اس قسم کے کئی دعوے کرنے میں مصروف ضرور ہیں۔ چوبیس گھنٹے خبروں کی بارش کرنے والے یہ تمام نیوز چینل ہر لمحہ خبروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ نیوز چینلز کے اس بے خوف رویہ اور بلند حوصلوں کی مدد سے عوام کے لیے معلومات حاصل کرنا بے حد آسان بن چکا ہے اور انہیں چینلز کی مدد سے جہاں عراق اور افغانستان جیسی جنگوں کو ناظرین نے اپنے ’ڈرائنگ روم‘ میں بیٹھ کر دیکھا تو وہیں میڈیا کی مدد سے ہی ریاست ہریانہ کے دوردراز گاؤں میں معصوم بچّے پرنس کو ایک گہرے گڑھے سے باہر نکالنے ميں کامیابی حاصل ہوئی۔ اور یہی نہیں بلکہ اسی الیکٹرونک میڈیا نے ماڈل جیسیکا لعل اور پریہ درشنی مٹو کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے مہم بھی شروع کی۔ میڈیا کے ناقد سدھیش پچوری حال ہی میں پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں’انتیس دسمبر کو نٹھاری کا معاملہ سامنے آیا۔ تین روز تک مسلسل مقامی نیوز چینل اس پر خبریں نشر کرتے رہے لیکن اس کے باوجود کسی بڑے چینل کا دھیان اس پر نہیں گیا لیکن جب دباؤ بڑھا تو بڑے چینل وہاں گئے اور اسے ایک سماجی معاملہ بنانے کی کوشش کی‘۔
مسٹر پچوری نے مزيد کہا کہ ملک کا میڈیا ’خصوصی‘ طبقے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا’ کہ جیسیکا لعل معاملہ مڈل کلاس کی دلچسپی کے سبب میڈيا کی توجہ کا مرکز رہا لیکن اس کے برعکس مہاراشٹر کے کھیرلانجی علاقے میں ایک دلت خاندان کی عورتوں کے ساتھ ریپ اور پھر پورے خاندان کے قتل کے معاملے پر توجہ نہیں دی گئی‘۔ مسٹر پچوری کی دلیل اس بات سے مضبوط ہوتی ہے جب ٹی وی چینلز کے پروگرامز کا تجزیہ کريں تو پتہ چلتا ہے کہ میڈیا ميں ملک کی اس ستّر فیصد آبادی کو ترجیح نہیں دی جا رہی ہے جو معاشی اعتبار سے کمزور ہے اور جو کنزیومر سوسائٹی کا حصہ نہیں ہے۔ آخر اس تفریق کی کیا وجہ ہے۔ پرسار بھارتی کے سابق سربراہ ایس ایس گل کے مطابق ’ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نجی چینلز نفع کے لیے چلائے جاتے ہیں اور یہ ’ کمرشل‘ چینلز ہیں۔ اس لیے ان کی دلچسپی صرف کمرشل پہلؤوں میں ہی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’اسی لیے یہ چینلز صرف ان لوگوں کو ذہن میں رکھ کر پروگرام نشر کرتے ہیں جو ان کے پروگرامز کے دوران دکھائے جانے والے اشتہارات دیکھ کر مصنوعات خرید تے ہیں‘۔
سوال یہ ہے کہ عوام کے لیے معلومات کا ذریعہ ذرائع ابلاغ کیسے نفع اور نقصان کے جال ميں پھنس گیا؟ اور وہ صرف ایک خاص طبقے کے لیے اپنی تمام سروسز فراہم کرنے لگا؟ اس حوالے سے ادیب اشوک واجپئی کا کہنا ہے’ميڈیا پر بہت بڑا بوجھ پیسے حاصل کرنے کا ہے اور وہ پیسے عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں۔ پیسہ تو صرف ’چکنے چپڑے‘ لوگوں کا ہے اور اسی وجہ سے میڈیا آہستہ آہستہ ’چکنے چپڑے‘ لوگوں کا ميڈیا بن گیا ہے‘۔ تاہم سٹار نیوز کے سی ای او ادے شنکر اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ہندوستان کا میڈیا نفع و نقصان کے جال میں پھنس گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے’میڈیا پہلے دن سے ہی ایک کاروبار تھا۔گاندھی اور راجا رام موہن رائے جیسے لوگ جب اخبارات نکالتے تھے تو اس کا ایک مقصد ’پروپیگنڈہ‘ ہوتا تھا‘۔
انہوں نے کہا ’اشتہارات اور سبسکرپشن فروخت کر کے ہی میڈیا کو چلایا جا سکتا ہے۔ آخر کار لوگوں کو تنخواہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس ليے آپ سماج سدھار نہيں کر سکتے‘۔ لیکن یہ نیوز چینلز جن ناظرین کے لیے اپنے پروگرام نشر کرتے ہیں ان کے خیالات کچھ مختلف ہیں۔ صغیر حسین جو اس وقت بی اے کے طابعلم ہیں ان کا کہنا ہے’پہلے ذرائع ابلاغ کا ایک ’مشن‘ ہوتا تھا لیکن اب یہ صرف ایک کاروبار ہے‘۔ وہیں دوسری جانب 25 سالہ نیلم راوت کے خیال ميں ’ آج کل تو ہر چیز ميں بزنس ہوتا ہے تو اگر میڈیا میں ہو رہا ہے تو کیا برا ہے‘۔ فی الوقت ہندوستان جہاں ایک طرف اپنی تیزي سے ترقی کر رہی معیشت کے ڈنکے بجا رہا ہے اور ’سپر پاور‘ بننے کے خواب دیکھ رہا ہے وہیں ہندوستان کے معاشرے کا چوتھا ستون میڈیا بھی ملک کا وہی پہلو پیش کرنے میں مصروف ہے جس سے صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ’انڈیا از رائزنگ‘ یعنی ہندوستان ترقی کر رہا ہے۔ تاہم ملک کی ستّر فیصد آبادیت جو کہ غریب ہے اور’مڈل کلاس‘ سے تعلق نہیں رکھتی میڈیا کی صنعت کے نئے ریڈار پر کم ہی بیپ کرتی ہے۔ ماننے والوں کا کہنا ہے کہ غریب ہندوستانی جو چوبیس گھنٹے دو وقت کی روٹی کی کمر توڑ تگ ودود میں لگا رہتا ہے، اچھی اور چمکدار کہانی نہیں بناتا۔ | اسی بارے میں امریکی خبریں اب بنگلور سے02 February, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ: میڈیا کا رد عمل28 July, 2006 | انڈیا میڈیا ٹرائل، دولہا بازار، ہوم ورک ڈلیوری16 July, 2006 | انڈیا انڈین میڈیا: سیکس، منشیات پر مرکوز20 July, 2006 | انڈیا بھارتی ذرائع ابلاغ: غیر ملکی سرمایہ 02 June, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||