BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 January, 2007, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: کھادی کی صنعت بچانے کی کوششیں

کھادی
بہار میں ہر سال ایسے میلے لگائے جا رہے ہیں جہاں دیگر ریاستوں کی کھادی بھی دستیاب ہوتی ہے۔
ہندوستان کی تحریک آزادی میں شہرت حاصل کرنے والی بہار کی کھادی کو اب بچانے کی جد و جہد جاری ہے۔

بہار میں کبھی کھادی تحریک کے ساتھ تین لاکھ ’کتِّن، بُنکر‘ اور دیگر افراد منسلک تھے، اب ان کی تعداد محض سولہ ہزار رہ گئی ہے۔

ریاستی کھادی اور دیہی صنعت کے ادارے کے سیکریٹری شکدیو شرما کے مطابق سنہ انیس سو ستر میں بہار میں کھادی کا کاروبار پچاس کروڑ روپے کا تھا جو موجودہ دور میں دو سو کروڑ روپے کے برابر ہے۔ مسٹر شرما نے بتا یا کہ ’آج بہار کی کھادی کاروبار محض دس کروڑ تک محدور ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ کھادی کے معاملے میں بہار ملک میں آج آٹھویں نمبر پر ہے جبکہ کبھی ریاست اتر پردیش کے بعد اسے ملک میں دوسرا مقام حاصل تھا‘۔

مسٹر شرما کے مطابق بہار میں کھادی کے زوال کے لیے ٹریڈ یونین اور ریاستی حکومت ذمہ دار ہیں۔

ان کی شکایت ہے کہ ہر سال حکومت اعلان کرتی ہے کہ وہ کھادی کے کپڑوں پر تحریک آزادی کے رہنما موہن داس کرم چند گاندھی کے یوم پیدائش سے یوم وفات کے درمیان رعایت دےگی۔

بھارتی جھنڈا
سرکاری اعلان کے مطابق بازار میں کپڑوں کی قیمت کم کر لی جاتی ہے لیکن گزشتہ کئی برسوں سے حکومت رعایت کی رقم ادا نہیں کر رہی ہے۔ نتیجتاً آج وہ رقم بیس کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔

نتیانند شرما سنہ انیس سو انسٹھ سے کھادی تحریک سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بہار میں کھادی کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خود سرکاری دفتروں میں کھادی کا استعمال کم ہونے لگاہے‘۔

ان کے مطابق ’صرف قومی پرچم بچا ہے جو سرکاری دفتروں میں کھادی کی سرکاری دکانوں سے لیا جاتا ہے‘۔ کھادی کے ادارے ٹیبل سے لے کر قومی ہیروز کے کافن اور کفن پر استعمال ہونے والے جھنڈے بناتے ہیں۔

مسٹر نتیانند کہتے ہیں کہ ریلوے کی جانب سے بھی کھادی کے کپڑے خریدنے کی بات ہوتی ہے لیکن وہاں بھی ’آرڈر‘ کے مطابق کپڑے نہیں خریدے جاتے۔

مسٹر شرما کہتے ہیں کہ ’پہلے کھادی نیتا کی ہوتی تھی، اب کھادی عام آدمی اپنا رہا ہے‘۔ اس کے لیے بہار میں ہر سال ایسے میلے لگائے جا رہے ہیں جہاں دیگر ریاستوں کی کھادی بھی دستیاب ہوتی ہے۔

چرکھا اور دِل
 یہ کام صرف پیسے کے لیے نہیں کرتی، اس سے زیادہ پیسے تو ہوٹل میں برتن صاف کرنے والا کما لیتا ہے، جس دن چرکھا پر ہاتھ نہ پڑے دل نہیں لگتا
سشیلا دیوی
آج کل ایسا ہی میلہ مظفرپور میں لگا ہے۔ میلے میں اپنا چرخا لیے سشیلا دیوی ہر روز دھاگا تیار کرتے مل جاتی ہیں۔

سشیلا دیوی گزشتہ تیس برسوں سے یہ کام کر رہی ہیں۔ دن بھر میں وہ آدھا کیلو سوت کاتتی ہیں۔ اس کے لیے انہیں سترہ روپیے پچاس پیسے ملتےہیں۔ لیکن سشیلا دیوی کہتی ہیں کہ وہ یہ کام صرف پیسے کے لیے نہیں کرتیں ہيں ۔ان کا کہنا ہے کہ’اس سے زیادہ پیسے تو ہوٹل میں برتن صاف کرنے والا کما لیتا ہے‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جس دن چرکھا پر ہاتھ نہ پڑے دل نہیں لگتا‘۔

کھادی اور دیہی صنعتی ادارے کے سیکرٹری شک دیو شرما بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اتنی کم اجرت میں لوگوں کو سوت کاتنے کے لیےتیار کرنا مشکل ہے اور اس میں اضافہ کی اشد ضرورت ہے۔

بہار کی موٹی کھادی اور بھاگلپور یونٹ کے ذریعہ تیار کردہ ریشمی کپڑے آج بھی ریاست سے باہر کافی مقبول ہیں۔موٹے سوت کے کرتے اور اونی بنڈی بہار کی کھادی کی ایک طرح سے پہچان ہے۔

موٹے دھاگے سے تیار کردہ چادر اپنی کم قیمت کی وجہ سے ہر طبقے میں پسند کیے جاتےہیں۔ اسی طرح کم قیمت میں کالے کمبل بھی دستیاب ہیں۔ شکدیو کہتے ہیں کہ کھادی کو کپڑے سے آگے نکال کر دیہی صنعت سے منسلک کرنے کا خاطر خواہ فائدہ ملا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کھادی تحریک سے منسلک اداروں کے ذریعہ تیار کردہ سرسوں تیل، شہد، سرکہ، آنولے کا مربہ، مختلف اچار اور مسالے کافی مقبول ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ اگر بتی، چندن کی لکڑی سے بنے سامان، ہلدی اور نیم سے تیار کردہ صابن اور بعض اداروں کے ذریعہ تیار کردہ جوتے چپل بھی کافی مقبول ہیں۔

حال میں کھادی تحریک میں بانس سے بنے سامان بیچنے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بانس اور جوٹ کے ذریعہ تیار کردہ بیگ اور پرس بھی کھادی کے چاہنے والوں میں کافی مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔

کھادی کے صنعتی ادارے آج بھی ہاتھ سے چلنے والی چکی ’جانتا‘ سے پیس کر چنے کا ستو بیچتے ہیں جو کافی مقبول ہے۔

بہار میں کھادی صنعت سے منسلک اہلکاروں کو امید ہے کہ حکومت اگر اپنے وعدے پر قائم رہے تو ریاست کو کھادی میں وہی مقام حاصل ہو سکتا ہے جو اس کے عروج کے وقت اسے حاصل تھا۔

مسٹر شکدیو شرما کہتے ہیں کہ اس زبوں حالی کے باوجود اچھی بات یہ ہے کہ کھادی مر نہیں رہی، بلکہ یہ زندہ ہونے کی جدو جہد میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں
وزیراعلیٰ کی’ کیٹ واک‘
19 November, 2006 | انڈیا
جیل میں گاندھی گیری
19 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد