وزیراعلیٰ کی’ کیٹ واک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنگ آزادی میں عوام کی نمائندگی کرنے والے کھدر کو بازار میں چمکانے کے لیے سیاست داں اب فیشن شوز کا سہارا لے رہے ہیں۔ جےپور میں سیاست اور فیشن کا فاصلہ اس وقت ختم ہو گیا جب راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کھدر کے کپڑے کو بڑھاوا دینے کے لیےدیگر ماڈلوں کےساتھ خود ماڈلنگ کرنے ریمپ پر آ گئیں۔ حالانکہ مہاتما گاندھی کے نظریے سے متاثرتنظیموں نےوزیراعلیٰ کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ ’ کھادی ایک نظریہ ہے تجارت نہیں‘۔ مشہور فیشن ڈیزائنر بی بی رسیل نےسنیچر کو فائیوسٹار ہوٹل رام باغ میں کھادی کے کپڑوں کی نمائش لگائی تھی۔اس موقع پر کئی نامورشخصیات موجود تھیں جن میں رتک روشن، جوہی چاولا، آشوتوش گواریکر اور شوبھا ڈے بھی شامل تھے۔ ریمپ پر کیٹ واک کے دوران ماڈل اور اداکار راہل دیو نے وزیراعلیٰ کا ساتھ دیا۔ کھادی کی لال ساڑھی میں کیٹ واک کے بعد وزیراعلی نے کہا:’ کھادی کو بڑھاوا دینے کے لیے ہمیں ریمپ واک کرنے میں کوئی عار نہیں ہے‘۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ بنگلور میں بھی ریمپ واک کر چکی ہیں۔ سمگرسیوا سنگھ کے صدر سوائی سنگھ کہتے ہیں’ یہ گاندھی کے خوابوں کا قتل ہے۔گاندھی نے کھادی کو ایک خاص نطریے سے وابستہ کیا اور اسے عام آدمی تک پہنچایا لیکن ایسے فیشن شو سے یہ کپڑا غریبوں سے دور ہو جائے گا‘۔ راجستھان کانگریس کے صدر رگھو شرما کہتےہیں :’ اگر غریبوں کا بھلا کرنا ہے تو وزیراعلیٰ کو ریمپ پر نہیں غریبوں اور مظلوموں کی بستیوں میں اترنا چاہیئے‘۔ دوسری طرف فیشن شو کے آرگنائزرز کا کہنا تھا کہ اس سے کھادی کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا جس کا فائدہ اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو ہوگا۔ راجستھان میں سوتی، اونی اور ٹیری کھادی کے کاموں میں لاکھوں مزدور لگے ہیں۔ اس کے علاوہ راجستھان اون پیدا کرنےوالا ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ | اسی بارے میں ’دُبلی پتلی لڑکیاں خوبصورت نہیں‘17 September, 2006 | فن فنکار گاندھی:شخصیت پر ایک نئی نظر21 March, 2006 | فن فنکار پاکستانی اور بھارتی ماڈلز ہم قدم02 October, 2003 | فن فنکار لیکمے فیشن شو تنازعات کا شکار رہا02 April, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||