| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اور بھارتی ماڈلز ہم قدم
ایسے میں جب کہ پاکستانی اور بھارتی سیاستدان اور رہنما ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا رہے اور دونوں ملکوں کی افواج طویل عرصے سے سرحدوں پر چوکس ہیں دلی میں دونوں ملکوں سے تعلق رکھنے والی فیشن ماڈلز نے کیٹ واک میں ہم قدم ہوکر ثابت کیا ہے کہ برصغیر کے لوگوں میں بہت سے قدریں مشترک بھی ہیں۔ ان ماڈلز نے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ ایک دوسرے کے ملبوسات کی نمائش میں دلچسپی ظاہر کی۔ برائڈل ایشیا نامی یہ نمائش گزشتہ پانچ برس سے ہر سال منعقد ہوتی ہے جس میں برصغیر میں فیشن کے مداح اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سال جون میں تین بھارتی ڈیزائنر پاکستان گئے تھے جس کے جواب میں اس ہفتہ دہلی میں ہونے والی اس نمائش میں تین پاکستانی ڈیزائنر شرکت کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ کیٹ واک میں بھی چار پاکستانی ماڈلز نے بھارتی ماڈلز کے ساتھ شرکت کی۔ پاکستانی ماڈل نادیہ کو یہ دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ دونوں ملکوں کی دلہنوں کے لباس میں زبردست مماثلت پائی جاتی ہے۔ نادیہ نے کہا: ’ہماری ثقافتی جڑیں یکساں ہیں اور مجھے بھارتی لباس میں کسی طرح کی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔‘ برائڈل ایشیا کی منتظم دیویا گروارا کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے فیشن میں بڑی حد تک مماثلت ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’یقیناً ساڑھی بھارت میں زیادہ مقبول ہے جبہ شلوار قمیص پاکستان میں، تاہم دونوں ملکوں کی خواتین دونوں طرح کے لباس زیب تن کرتی ہیں۔‘
جیسے بھارت میں ماڈلز کا خواب بالی ووڈ تک پہنچنا ہوتا ہے ویسے ہی پاکستانی ماڈلز بھی فلم میں کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ اداکارہ اور ماڈل شمائل بخت خان نے بعض پاکستانی فلموں میں کام بھی کیا ہے اور ان کی ایک فلم ’لڑکی پنجابن ہے‘ ریلیز کی منتظر ہے۔ یہ فلم پاکستانی نژاد برطانوی شہری افضل خان نے بنائی ہے جو پاکستانی اور بھارتی اہل فن کی مشترکہ کاوش ہے۔ افضل خان نے بتایا کہ فلم کے کچھ مناظر ملائشیا میں فلمائے گئے ہیں جن کے ہدایت کار بھارت کے ششی لال نائر ہیں جبکہ باقی فلم سید نور کی زیر ہدایات پاکستان میں بنی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||