کیا گاندھی کا فلسفہ آج بھی اہم ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا دنیا میں سماجی انصاف کے قیام میں گاند ھی کےفلسفے کی آج بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ نصف صدی پہلے تھی۔ واشنگٹن میں گزشتہ ہفتے اس موضوع پر دنیا بھر کے انیس ترقی یافتہ ممالک کے ایک سو پچپن سکالروں کو سماجی انصاف کے شعبے میں گاندھی کے مثبت کردار پر تبادلہ خیال کرنے کی دعوت دی گئی۔ یہ سکالرز انڈیا، چین، روس، انڈونیشیا، مصر،گھانا، جنوبی افریقہ، ویتنام، تھائی لینڈ اور فلسطین سمیت انیس ممالک کی نئی نسل کے ان لیڈروں کی نمائندگی کر رہے تھے جو اپنے اپنے ملکوں میں سماجی انصاف کے ليئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان سکالروں کو ’لیڈر شپ ان سوشل جسٹس انسٹی ٹیوٹ‘ کے زیرِاہتمام منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں فورڈ فاؤنڈیشن نے مدعو کیا تھا۔ مباحثے سے قبل ان سکالروں کو مشہور فلم ’گاندھی‘دیکھنے کا موقع دیا گیا۔ ’گاندھی‘ نسل پرستی، عدم مساوات، آزادی اظہار پر پابندی اور غلامی کے خلاف جدوجہد پر مبنی ایسی فلم ہے جس میں گا ندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفے کو کامیاب ہوتے دکھایا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر گاندھی جی کی شخصیت کی اہمیت تو مسّلم ہے لیکن حالیہ دنوں میں گاندھی جی کی خدمات پر انیس ممالک کے نمائندوں کے درمیان بحث مباحثے کی اپنی طرح کی یہ واحد مثال تھی۔ انڈیا کے علاوہ چین اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والےاور انسانی حقوق کے شعبے میں کام کرنے والے نمائندوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا اس چیز کا مطالعہ کیا جانا چاہیئے کہ جب لیڈر کی شخصیت ایشو سے اہم ہو جاتی ہے تو اس کا تحریک پر کیا اثر ہوتا ہے۔ ان نمائندوں نے سوال اٹھایا کہ ’ کیا گاندھی جی کی شخصیت ایشو سے بڑی نہیں ہوگئی تھی‘؟ کانفرنس میں ایسے نمائندوں کی کمی نہیں تھی جنہوں نےمغربی ممالک کی جنگ کی پالیسیوں کے خلاف گاندھی جی کےعدم تشدد پر مبنی تحریک کو آج کے دور کے لیئے ناکافی قرار دیا لیکن بیشتر نمائندوں نے اسے آج کے دور میں بھی کارآمد تسلیم کیا۔ جنوبی افریقہ کی سکالر ایڈیتھ پساوان کا کہنا تھا کہ آج کے دور ميں جب حکومتیں استحصال زدہ عوام کی آواز ہر ممکن طریقے سے کچلنے کی کوشش کرتی ہیں توایسی حالت میں عدم تشدد پر مبنی تحریک کی آوازیں شاید ہی کارگر ہوں۔
ایک نمائندے کی رائے تھی کہ گاندھی جی کو عدم تشدد کی طاقت کا پورا احساس تھا جس کی بدولت وہ انگریزحکام کو تشدد کرنے پر مجبور کر دیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ گاندھی اپنے مطالبات منوانے کے لیئے ہزاروں لوگوں کے ساتھ سڑکوں پر آ جاتے تھے اور اس کے دباؤ میں آ کر انگریزی حکومت ہجوم کو قابو کرنے کی کوشش کرتی جو اکثر پرتشدد روپ اختیار کر لیتی تھی۔ انسانی حقوق، تعلیم، جنس اور غربت سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والے نمائندوں کے درمیان یہ بحث بھی کافی زوروں پر رہی کہ آخر گاندھی کو ہی اس کانفرنس میں سماجی انصاف کے جدوجہد کے علمبردار کے روپ میں کیوں منتخب کیا گیا؟ لیڈر شپ ان سوشل جسٹس انسٹی ٹیوٹ کے پاکستانی نژاد ڈائریکٹر عقیل ترمذی نے اس موضوع پر کہا کہ’لیڈر شپ ان سوشل جسٹس انسٹی ٹیوٹ کا مقصد سماجی انصاف کے قیام، رنگ و نسل پر مبنی نفرت کے خاتمے اور انسانی حقوق کے نفاذ کے لیئے جدوجہد کرنے والوں کے لیئے گاندھی ہمیشہ توانائی فراہم کرتے رہے ہیں۔ ہمارے سامنے ایسی شخصیتوں کی فہرست میں تین شخصیات مہاتما گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا اور ہم نے کافی سوچ بچار کے بعدگاندھی جی کا انتخاب کیا‘۔ | اسی بارے میں ’چرچل گاندھی کو مرنےدیناچاہتےتھے‘ 01 January, 2006 | انڈیا کانگریس کا دانڈی مارچ12 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||