کانگریس کا دانڈی مارچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاتما گاندھی کی تاریخی نمک ستیہ گرہ کی پچھہترہویں سالگرہ کے موقع پر کانگریس پارٹی نےدانڈی مارچ کا اہتمام کیا ہے۔ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اس مارچ کا افتتاح کرتے ہوئے خود اس مارچ میں حصہ لیا اور کہا کہ انہیں گاندھی جی کے فلسفے پر پورا یقین ہے۔ سونیا کی قیادت والے دانڈی مارچ میں کانگریس کے تقریبا سبھی سینیئر رہنماؤں نے شرکت کی۔اس موقع پر پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ’ میں اعلان کرتی ہوں کہ گاندھی جی کے نظریات پر مجھے پورا یقین ہے۔ انکی زندگي ایک پیغام ہے جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور حوصلہ افزا بھی‘۔ تحریک آزادی کے دوران مہاتما گاندھی نے انیس سو تیس میں برطانوی راج کی مخالفت میں تاریخی دانڈی مارچ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے حامیوں کے ساتھ احمدآباد کے سابر متی آشرم سے ساحلی گاؤں دانڈی تک پیدل سفر طے کیا تھا۔ گاندھی جی نے دوسو اکتالیس کلو میٹر کا سفر چوبیس روز میں مکمل کیا تھا اور نمک کے متعلق برطانوی قانون کی کی خلاف ورزی کی تھی۔ تاریخی نوعیت کی اس ستیہ گرہ اور سول نافرمانی کی کئی وجوہات تھیں اور اسکے دور رس اثرات بھی مرتب ہوئے تھے لیکن آج کےگجرات میں کانگریس کے اس دانڈی مارچ کے مقاصد اور وجوہات واضح نہیں ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کا اس سے لوگوں پر گاندھی جی کے نظریات کا نفسیاتی اثر پڑیگا۔ لیکن بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی مفاد کے لیے ہے۔ گجرات میں بی جے پی کی جڑیں کافی مضبوط ہیں اور یہ ہندو مسلم فسادات کی حیثیت سے کافی حساس ریاست ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کانگریس ریاست میں اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے اور اسی طاقت کے مظاہرے کے لیے اس نے دانڈی مارچ کا اہتمام کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||