BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 February, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کس کا ہندوستان بدل رہا ہے ؟

ہندوستانی بچے
کھیلنے کودنے کی عمر میں ان بچوں کو کہیں نہ کہیں اس بات کہ احساس ہے کہ وہ غیر محفوظ ہیں۔
ترقی یافتہ ہندوستان کی شکل دھیرے دھیرے بہتر ہو رہی ہے۔ وہ تقریباً ہر شعبہ میں ترقی کر رہا ہے چاہے وہ اقتصادی ہو یا پھر سماجی۔

اس کا دعویٰ ہے کہ وہ جلد ہی ملک سے غریبی ختم کرنے میں کامیاب ہوگا ہندوستان کا ہر طبقہ خوشحال ہوگا کیونکہ اس کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کا فائدہ تمام طبقوں کو پہنچے گا۔

یہ ہندوستان کی ایک شکل ہے

ہندوستان کا دوسرا روپ یہ بھی ہے کہ کئی ریاستوں میں قرض کے بوجھ سے کسان خودکشیاں کر رہے ہیں۔ عورتوں پر تشدد آج بھی ایک عام بات ہے اور اقلتیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔

اس کا ایک روپ یہ بھی کہ نٹھاری جیسے واقعات ہوتے ہیں جس میں بچوں اور عورتوں کو استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نٹھاری میں بچوں کو نہ صرف اغوا اور قتل کیا گیا بلکہ انہیں ہلاک کرنے سے پہلے ان کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی۔

ابھی ان کے ساتھ زیادتی کی تصدیق نہیں کی گئی لیکن شاید کسی بھی ملک کے لیے اس سے زیادہ افسوسناک بات کوئی نہیں ہوسکتی کہ چھوٹے بچے، جو کل اس ملک کا مستقبل بنیں گے،محفوظ نہیں ہیں۔ بچوں کا ایک محفوظ ماحول میں نہ ہونا کسی صحت مند سماج کی نشانی نہیں ہے۔

ایسا نہیں کہ بچوں کا استحصال صرف ہندوستان میں ہی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہوتا ہو لیکن اگر کوئی ملک اپنے آپ کو ترقی پسند ملک کی شکل میں تصور کرنا چاہتا ہے یا پھر اس تصور کو حقیقت کا روپ دینا چاہتا ہے تو اسے اپنے شہریوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کی حفاظت اس کی پہلی ترجیح ہے۔

تیرہ برس کا عارف
 تیرا برس کا عارف دلی کی ایک پوش مارکیٹ میں کوڑا اٹھانے کا کام کرتا ہے۔ پولیس اور چوکی دار اسے ٹوفی اور پیسے دیکر بہکاتے ہیں اور اسے’ رات کے آٹھ بجے کے بعد بلاتے ہیں‘

نٹھاری معاملہ میڈیامیں خوب چھایا رہا اس معاملے پر بحث ہوئی اور ریاستی نظام کی شدید مذمت کی گئی۔ یہ سوال بھی اٹھا کہ ملک کے غریب طبقے کے بچے زیادہ محفوظ نہیں ہیں۔ یہ درست ہے لیکن کیا بچوں کا استحصال کسی ایک طبقے تک محفوظ ہے؟ کیا نٹھاری جیسے معاملات سبھی بچوں کی حفاظت پر ایک سوالیہ نشان نہیں لگا دیتے۔

دلی کے نظام الدین علاقے کی درگاہ بستی میں 9 برس کی کلثوم اپنی ماں کے ساتھ ایک جھونپڑی میں رہتی ہے۔ جب میں نے کلثوم سے پوچھا کہ کیا اسے باہر جاتے وقت کسی سے ڈر لگتا ہے۔ تو کلثوم کا جواب تھا، ہاں! آدمی سے۔ کلثوم کو سکول جاتے وقت ایک بوڑھا آدمی پریشان کرتا ہے اور اکثر اس کا پیچھا کرتا ہے۔

تیرہ برس کا عارف دلی کی ایک ’پوش‘ مارکیٹ میں کوڑا اٹھانے کا کام کرتا ہے۔ پولیس اور چوکیدار اسے ٹافی اور پیسے دیے کر بہکاتے ہیں اور اسے’ رات آٹھ بجے کے بعد بلاتے ہیں‘۔ عارف ٹی وی میں بچوں کے اغوا اور قتل کی خبریں سن کر اس پولیس انکل کو دیکھ کر بھاگ جاتا ہے۔

کھیلنے کودنے کی عمر میں ان بچوں کو کہیں نہ کہیں اس بات کہ احساس ہے کہ وہ غیر محفوظ ہیں۔ انہیں ڈر لگتا ہے۔ کسی کو کسی آدمی سے، تو کسی کو یہ نہیں پتا کس سے، لیکن ڈر لگتا ہے۔ بچوں میں یہ ڈر ان کے اپنے تجربات سے ہی پیدا ہوا ہے۔

ہندوستان
ہندوستان کے کئی روپ

آخر یہ ڈر کس طرح کا ہے؟ سرکردہ نفسیاتی ماہر جیوتسنا سوروپ بتاتی ہیں کہ ہیں’بچوں کو اپنے جنسی اور جسمانی استحصال کا سب سے زیادہ ڈر ہوتا ہے۔ میڈیا میں ہرروز بچوں کے اغوا اور قتل کی خبریں انہیں چوکس رکھتی ہیں اور ان کو اچھی طرح پتا ہوتا کہ ان کے ساتھ کون کس طرح سے پیش آرہا ہے‘۔

نٹھاری کی خبر جیسے ہی ذرائع ابلاغ میں سرخیاں بنی تو یہ سوال اٹھا کہ کیا صرف غریب طبقے کے بچے ہی غیر محفوظ ہیں ؟ اسی سوال کا جواب جب میں نے ایک پبلک اسکول کی بعض طالبات سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ وہ شام کو گھر سے باہر اکیلے نہیں جا سکتیں انہیں ہمیشہ اپنے ماں یا باپ کو ساتھ لے جانا پڑتا ہے۔

ان لڑکیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں غیر محفوظ ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے سماج میں رہتی ہیں جہاں لڑکیوں کو کمزور سمجھا جاتا ہے۔ ان سب لڑکیوں کا تعلق مڈل کلاس سے ہے۔ ان لڑکیوں کےتاثرات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ کہیں نہ کہیں معاشرے کا ہر طبقہ ڈر کے احساس میں مبتلا ہے اور اس احساس سے ان بچوں کو نہ صرف ان کا ماحول بلکہ ان کے والدین بھی واقف کراتے ہیں۔

رچنا کھنہ اور زیبا سلیم چھوٹے بچوں کی مائیں ہیں۔ رچنا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لڑکے کو ہمیشہ کسی نہ کسی کی نگرانی میں رکھتی ہیں اور ان کا بچہ اب اکیلے پارک میں کھیلنے سے محروم ہے اس کی آزادی ختم ہوگئی ہے۔

جیوتسنا سروپ
’ بچوں کا اصتحصال کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں ‘

زیبا سلیم کو یقین ہے کہ ان کی پانچ سال کی بیٹی کافی سمجھدار ہے اور وہ اکیلے آس پڑوس میں جا سکتی ہے لیکن وہ اپنی بیٹی کو نوکر اور کسی رشتہ دار کے ساتھ اکیلے نہیں بھیجتیں۔

یہ ڈرحقیقی ہے یا پھر انسان کے ذہن کی ایک سوچ؟ نفسیاتی ماہر جیوتسنا سوروپ کا کہنا ہے’ماں باپ بچوں کی حفاظت کے لیے اس لیے فکر مند ہوتے ہیں کیونکہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا کہیں بھی موجود ہو سکتا ہے۔ کئی بار گھر میں ہی چاچا، ماما یا کسی بھی قریبی رشتہ دار کے ہاتھوں بچوں کا جنسی استحصال ہوتا ہے‘ ۔

ایک سچائی یہ بھی ہے کہ سماج میں یہ ڈر نیا نہيں ہے اور جب جب نٹھاری جیسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو ڈر کا یہ احساس مضبوط ہو جاتا ہے لیکن نٹھاری جیسے معاملے تو وقت کے ساتھ سرخیوں سے نکل کر ٹی وی اور اخبارات کی خبروں میں آخری صفحوں میں چلے جاتے ہیں لیکن ڈر کا احساس ذہن میں ہمیشہ کے لیے گھر کر لیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ڈر کے سائے میں پلتے یہ بچے کسی ترقی پسند ملک کا مستقبل ہوسکتے ہیں؟ شاید نہیں!

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد