بھارت: چلتی کار میں گینگ ریپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی پولیس نے ایک بائیس سالہ خاتون کی چلتی کار میں اجتماعی آبروریزی کے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دو مہینے پہلے بھی دلی میں ایک کالج کی طالبہ کے ساتھ بھی اسی طرح کا ایک واقعہ ہوا تھا۔ابھی اس کیس کے تمام ملزمان کو پولیس گرفتار بھی نہیں کر پائی تھی کہ ایک اور واقعہ پیش آ گیا ہے۔ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ مغربی دلی میں علی الصبح کام پر جانے سے گھر سے باہر نکلی تھی کہ چار افرد اسےایک کار میں اٹھا کر لے گئے تھے۔ ملزمان نے عورت کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کرنے کے بعد اسے دور دراز علاقے میں چھوڑ کر چلے گئے۔ ملزموں کا تعلق مایہ پوری علاقے سے ہے۔ یہ علاقہ دھولا کنواں سے تھوڑی دور کے فاصلے پر واقع ہے جہاں مئي میں ایک طالبہ کو اغوا کیا گيا تھا۔ دلی یونیورسٹی کی اس طالبہ کے ساتھ بھی چلتی کار میں چار افراد نے اجتماعی آبروریزی کی تھی اور پھر اسے نیچے پھینک دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آبروریزی کا ایک معاملہ درج کیا گیا ہے لیکن اس بارے میں ابھی کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس واقعے سے خاتون صدمے میں ہے اور اسکا ایک ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے اس خاتون کو مشتبہ ملزمان کے تصویری خاکے دکھائےہیں لیکن متاثرہ خاتون نے ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا وہی افراد تھے یا کوئی دوسرا گروہ بھی اس واردات میں شامل ہے۔ دارالحکومت دلی میں خواتین کے خلاف جرائم کمی کے بجائے دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بہت سے لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ شاید دلی خواتین کے لیے محفوظ جگہ نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||