دلت لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے کھیرانجی معاملے کو دوہراتے ہوۓ ریاست مدھیہ پردیش میں اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان پر مبینہ طور پر ایک نابالغ دلت لڑکی کو زندہ جلانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چھوٹے سنگھ راجپوت نامی اس شخص نے آشا بائی کو مٹی کا تیل چھڑک کر اس لیے جلا دیا کیونکہ وہ چھوٹے سنگھ کے خلاف عصمت دری کے معاملے میں اپنا بیان تبدیل کرنے کو تیار نہیں تھی۔ ہوشنگ آباد کے سہلواڑہ گاؤں کے چھوٹے سنگھ راجپوت کے خلاف اسی گاؤں کی پندرہ سالہ آشا بائی کٹیا کی عصمت دری کا مقدمہ ایک برس سے جاری ہے۔ پولیس کے ایک اہلکار جے ایس جگي کا کہنا ہے کہ گزشتہ منگل کو چھوٹے سنگھ نے آشا بائی سے مقدمہ واپس لینے کے لیے کہا اور اس کے انکار پر اسی رات وہ آشا بائی کے گھر پہنچ گیا اور اس کے جسم پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ گاؤں کے نریندر سنگھ راجپوت کا کہنا ہے کہ لوگ جب شور شرابہ سن کر وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جھونپڑی میں آگ لگی ہوئی تھی جس کو گاؤں والوں نے بجھایا اور لڑکی کو اسپتال لے گئے۔ چھوٹے سنگھ کے عزیز جائے وقوعہ پر چھوٹے سنگھ کی موجودگی کی بات سے انکار کررہے ہیں لیکن اسپتال میں اپنی موت سے پہلے آشا بائی نے پولیس کو ایک بیان دیا جس میں اس نے بتایا کہ چھوٹے سنگھ نے تیل چھڑک کر اسے آگ لگائی۔ پولیس نے چھوٹے سنگھ کے خلاف قتل اور نچلی ذاتوں کے تحفظ کے خصوصی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ریاست مدھیہ پردیش میں خواتین کے خلاف ظلم اور تشدد کے واقعات میں تیزی آ رہی ہے۔ ہوشنگ آباد سے اس واقعہ کے چند روز قبل ایک شخص نے ایک عورت کی جھونپڑی میں اس لیے آگ لگا دی تھی کیونکہ اس عورت کی گائے نے کھیت میں گھس کر اس کی فصل خراب کردی تھی۔ | اسی بارے میں دلتوں کا قتل: چار پولیس اہلکار گرفتار08 November, 2006 | انڈیا دلتوں نے مذہب تبدیل کر لیا14 October, 2006 | انڈیا دلتوں سے امتیازی سلوک جاری ہے 06 December, 2005 | انڈیا بھارت: چلتی کار میں گینگ ریپ20 July, 2005 | انڈیا بھوپال: گینگ ریپ کے ملزمان گرفتار11 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||