BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 November, 2006, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلتوں کا قتل: چار پولیس اہلکار گرفتار

(فائل فوٹو)
ساٹھ کے قریب افراد نے مبینہ طور پر دلت خواتین کوگھر سے باہر نکال کر عصمت دری کی (فائل فوٹو)
مہاراشٹر کے ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے کہا کہ سی آئی ڈی نے چار دلت افراد کے قتل کی تحقیقات کے بعد چار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

بھنڈارہ ضلع کے کھیر لیجنی گاؤں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کیس میں مبینہ لاپروائی کے معاملہ میں گاؤں کے پولیس انسپکٹر، ہیڈ کانسٹبل سمیت چار پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کابینہ کی میٹنگ کے بعد مسٹر پاٹل نے اخباری نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مظاہروں سے پیدا ہونے والے ہنگامے کے پیچھے نکسلیوں کا ہاتھ ہے۔

حکومت مقتول خاندان کے کسان بھیا لال کو چھ لاکھ روپیہ معاوضہ دے رہی ہے۔

پاٹل کا کہنا تھا کہ انہیں سی آئی ڈی کی تفتیش پر بھروسہ ہے اور اگر انہیں لگے گا کہ سی آئی ڈی کی تفتیش صحیح نہیں ہو رہی ہے تو وہ کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کے لیئے بھی تیار ہیں۔

اس سے قبل مہاراشٹر میں سیاسی جماعت ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور دیگر دلت جماعتوں کی خواتین نے ممبئی میں بدھ کو دو دلت خواتین کی عصمت دری کے خلاف ایک احتجاج ریلی نکالی۔

اس دوران خواتین پولیس کا گھیرا توڑ کر وزراء کے دفتر میں گھس گئیں۔ یہ خواتین بھنڈارہ گاؤں میں دلت ماں اور بیٹی کی اجتماعی عصمت دری کے خلاف مظاہرہ کر رہی تھیں۔

اس معاملے پرمہاراشٹر پولیس کے اعلی اہلکار پی ایس پسریچا کے مطابق بھنڈارہ ضلع، ناگپور، یوت مال میں پر تشدد احتجاج کے بعد حالات اب قابو میں ہیں۔

بھنڈارہ کے کھیرلنجی گاؤں میں دلت خاندان کے چار افراد کے قتل کے بعد پولیس کی مبینہ لاپروائی کے خلاف مہاراشٹر کے کئی اضلاع میں لوگ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے منگل کو ایک پولیس جیپ کو آگ بھی لگادی۔

یہ احتجاج اب سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے اور دلتوں کی سیاسی تنظیموں نے حزب اختلاف میں شامل ایک جماعت کے مقامی رہنما پر ملزمان کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے۔

 بھنڈارہ کے کھیرلنجی گاؤں میں دلت خاندان کے چار افراد کے قتل کے بعد پولیس کی مبینہ لاپروائی کے خلاف مہاراشٹر کے کئی اضلاع میں لوگ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ایک پولیس جیپ کو آگ بھی لگادی

ریاستی نائب وزیر اعلی اور ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے بتایا کہ دلت خاندان قتل کیس کی تحقیقات سی آئی ڈے کے حوالے کر دی گئی ہے۔ پولیس نے اس کیس میں اب تک چالیس افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ڈی جی پسریچا نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ناگپور اور یوت مال میں حالات بے قابو ہو گئے تھے اس لیئے یوت مال کے کچھ علاقوں میں احتیاطی طور پر کرفیو نافذ کرنا پڑا تھا لیکن اب حالات معمول پر آچکے ہیں اس لیئے کرفیو ہٹا لیا گیا ہے۔

مسٹر پسریچا نے بتایا کہ پولیس کی لاپرواہی کے الزام میں مقامی سب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے اور مزید دو پولیس اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ معاملہ اس وقت سی آئی ڈے کے پاس ہے اور وہ یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ آخر پولیس نے دلت خاندان قتل کیس کی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر کیوں کی۔

اس دوران مہاراشٹر کے دلت رہنما رام داس اٹھاؤلے نے اس کیس کی سی بی آئی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ سی آئی ڈی تفتیش پر انہیں بھروسہ نہیں ہے۔

ممبئی سے چھ سو ساٹھ کلومیٹر دور مشرق کے بھنڈارہ ضلع کے ایک گاؤں میں دلت خاندان کے چار افراد کو وہاں کے اعلیٰ ذات ہندؤں نے قتل کر دیا تھا۔

 اٹھائیس ستمبر کو دلت کسان بھیا لال کی بیوی سریکھا اپنی بیٹی پرینکا بیٹے موہن اور سدھیر کے ہمراہ گھر میں تھیں کہ تقریباً ساٹھ کے قریب افراد اس کے گھر پہنچے انہوں نے سریکھا اور ان کی بیٹی پرینکا کوگھر سے باہر کھینچ کر مبینہ طور پر ان کی عصمت دری کی۔اس کے بعد ان کے دونوں بیٹوں کو کھینچ کر باہر لائے اور سب کو قتل کر کے لاشوں کو نالے میں پھینک دیا
پولیس ریکارڈ

پولیس کے مطابق دلت کسان بھیا لال کا اس گاؤں میں کھیت تھا اور اس کے اطراف اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے کھیت تھے۔ اعلیٰ ذات کے ہندو بھیا لال کے کھیت سے راستہ نکالنا چاہتے تھے جس کی بھیا لال نے مخالفت کی تھی۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق اٹھائیس ستمبر کو دلت کسان بھیا لال کی بیوی سریکھا اپنی بیٹی پرینکا بیٹے موہن اور سدھیر کے ہمراہ گھر میں تھیں کہ تقریباً ساٹھ کے قریب افراد اس کے گھر پہنچے انہوں نے سریکھا اور ان کی بیٹی پرینکا کو مبینہ طور پر گھر سے باہر کھینچا اور انہیں برہنہ کر کے ان کی عصمت دری کی۔اس کے بعد ان کے دونوں بیٹوں کو کھینچ کر باہر لائے اور سب کو قتل کر کے لاشوں کو نالے میں پھینک دیا۔

پولس پر الزام ہے کہ انہوں نے بھیا لال کی رپورٹ درج کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کی تھی تاکہ سارے ثبوتوں کو مٹایا جا سکے۔ پولیس پر ڈیڑھ ماہ تک ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا بھی الزام ہے۔ جب لوگوں نے پرتشدد احتجاج شروع کیا تو پولیس نے کارروائی کی اور ملزمان کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ ڈی جی پسریچا نے پولیس کی اس کوتاہی کا اعتراف کیا اور کہا کہ سی آئی ڈی اسی بات کی تفتیش کررہی ہے۔

انڈیا میں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ذریعے نچلے طبقے پر ظلم کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ آج بھی گاؤں میں دلت سماج کے لوگ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے ظلم کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد