BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 October, 2006, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلتوں نے مذہب تبدیل کر لیا

دلت
ترقی کے باوجود نچلی ذات کے ہندوؤں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔
ہندوستان کے مغربی شہر ناگ پور میں کئی دلتوں نے سنیچر کے روز ایک احتجاجی ریلی میں بدھ مت اور عیسائی مذہب قبول کرلیا ہے۔

یہ ریلی بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیراقتدار ریاستوں میں تبدیلی مذہب کے خلاف ایک نئے قانون کی مخالفت میں نکالی گئی۔ ہندو مذہب میں ذات پات کے نظام کے تحت نچلی ذات کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک عام بات ہے۔

ہفتہ کے روز ناگپور کے کستور چند پارک میں ہونے والی ریلی میں دلت رہنما ادت راج اور آل انڈیا کرسچن کونسل کی قیادت میں ہزاروں دلت جمع ہوئے۔ آج سے پچاس برس قبل ناگپور میں ہی ڈاکٹر امبیڈکر نے بدھ مذہب قبول کیا تھا۔

ریلی کے ایک منتظم البرٹ لیل نے بی بی سی کوبتایا کہ ایک تقریب میں ’پانچ سو سے زیادہ دلت عیسائی مذہب قبول کر رہے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زیادہ دلتوں نے بدھ مذہب اختیار کر لیا ہے۔‘

ریلی کے آغاز میں دلت رہنما ادت راج نے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آئین کے معمار ڈاکٹر امیبڈکر کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ’ آئین میں جین اور بدھ مذہب کو ہندو مذہب سے الگ بتایا گيا ہے لیکن گجرات حکومت نے انہیں ہندو مذہب کا حصہ بتا کر مذہبی آزادی پر حملہ کیا ہے۔‘

آل انڈیا کرسچن کونسل کے صدر ڈاکٹر جوزف ڈسوزا نے کہا کہ ’ڈاکٹر امبیڈکر نے بھارت میں مذہبی اور فرد کی آزادی کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کیا تھا اور آج ہم اسی آزادی کا اظہار کررہے ہیں۔‘

احتجاجی ریلی کی حمایت میں یورپ ممالک اور امریکہ سے بھی کئی لوگ ناگ پور آئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر کئی دلت رہنماؤں نے ہندو نظریاتی تنظیموں پر اس حوالے سے شدید نکتہ چینی کی کہ وہ اقلیتوں کے خلاف زور زبردستی کرتے ہیں۔

 بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت ریاستوں میں ایک قانون کے تحت جین اور بدھ مذہب کو ہندو مذہب کا حصہ بتایا گیا ہے۔گجرات میں ابھی اس بل کو گورنر نے منظوری نہیں دی ہے۔ تبدیل مذہب سے متعلق اس قانون کی بدھ اور جین کے ساتھ ساتھ عیسائی تنظیمیں بھی مخالفت کر رہی ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت ریاستوں میں ایک قانون کے تحت جین اور بدھ مذہب کو ہندو مذہب کا حصہ بتایا گیا ہے۔گجرات میں ابھی اس بل کو گورنر نے منظوری نہیں دی ہے۔ تبدیلئ مذہب سے متعلق اس قانون کی بدھ اور جین کے ساتھ ساتھ عیسائی تنظیمیں بھی مخالفت کر رہی ہیں۔

ہندو مذہب میں ذات پات کی بنیادیں اتنی مضبوط ہیں کہ آزادی کے پچاس برس بعد بھی ان کا چلن عام ہے اور اس کے سبب نچلے طبقے کے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔

بڑے پیمانہ پر تبدیل مذہب کے اس عمل سے ان دلتوں کو فائدہ کیا ہوگا، یہ بے معنی سوال ہے لیکن یہ سچ ہے کہ اس سے وہ یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر سماج میں امتیازی سلوک جاری رہا تو وہ ایسے مذہب کو چھوڑ کے وہ راستہ اختیار کریں گے جہاں انہیں انسانی بنیادوں پر برابری کے حقوق حاصل ہوں۔

اسی بارے میں
ریزرویشن کی سیاست
16 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد