کانشی رام: سماج و سیاست پر گہرا اثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی سماج اور سیاست کو دو دہائی تک اپنی شخصیت کی بدولت متاثر کرنے والے کانشی رام اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ آزاد ہندوستان میں دلت سماج کو بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے بعد جھنجوڑ کر جگانے میں اگر ایسی کوئی شخصیت پیدا ہوئی تو وہ کانشی رام ہی تھے۔ اس بات کا اعتراف وہ تجزیہ کار بھی کرتے ہیں جوکانشی رام کے اصولوں کے سخت مخالف رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بابا صاحب نے استحصال زدہ پسماندہ ترین دلت سماج کوخصوصی آئینی حقوق دلوانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن کانشی رام نے اس سماج کے اندر خوداعتمادی کا جذبہ بھرنے اور ان کو اپنی سیاسی طاقت کا احساس کرانے میں جو کردار نبھایا وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ حالانکہ یہ بھی سچ ہے کانشی رام نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اپنے ویسے رفقاء کو بھی اپنے راستے سے درکنار کردیا جنہوں نے انہیں کانشی رام بننے میں اپنے ذاتی کیریئر تک کو داؤ پر لگا دیا تھا۔ ان میں دو اہم شخصیت ڈی کے کھاپڑ ڈے اور دینا بھانا ہیں۔ ڈی کے کھاپڑ ڈے اپنی آخری سانسوں تک دلتو کو قومی سطح پرمتحد کرتے رہے اور پانچ سال قبل وفات کر گئے۔ دینا بھانا اور کھاپڑڈے ان رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں نے کانشی رام کے ساتھ مل کر بامسیف نامی سماجی تنظیم کی داغ بیل رکھی تھی۔ جب کانشی رام سماجی تنظیم کی جگہ بھارتی سیاست میں اپنے وجود کا احساس کرانے کے لئے آگے آئے تو بام سیف کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی جن میں سے ایک حصے کی قیادت کھاپڑڈے نےسنبھالی۔ راقم الحروف کھاپڑڈے کی قیادت میں نکلنے والا ہندی ماہ نامہ ’بہوجنوں کا بہوجن بھارت‘ کے اداریہ سے کچھ عرصہ تک منسلک رہا۔
اس کے بعد کانشی رام کا وہ طمانچہ برسوں تک سیاسی اور صحافتی حلقے میں چرچہ کا موضوع بنا رہا جو انہوں نے نئی دلی میں ایک مشہور صحافی کے گال پر یہ کہتے ہوئے رسید کیا تھا کہ ہندوستانی میڈیا دلتوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کھاپڑڈے کے مطابق کانشی رام (اور خود کھاپڑڈے بھی) دلتوں کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی بدحالی کے پیچھے برہمن وادی سازش مانتے تھے۔ کانشی رام نے دلتوں کو متحد کرنے کے لئے ایک اچھی خاصی نوکری چھوڑ دی۔ اس کے بعد وہ برسوں تک جدوجہد میں مصروف رہے۔ اس دوران فاقہ کشی بھی ان کے جدو جہد کا حصہ رہی۔ بامسیف کے قومی صدر وامن میسرام اس زمانے کی یاد کرتے ہیں جب سن 1977-78 میں وہ ایک نوجوان کارکن کی حیثیت سے کانشی رام کی ٹیم سے منسلک ہوئے تھے۔ میسرام کہتے ہیں:’ کانشی رام دو دنوں سے بھوکے تھے۔ انہوں نے مجھ سے ایک کلو جلیبی اور ڈیڑھ درجن کیلے خرید کر لانے کو کہا۔ میں نے سمجھا کہ ہو سکتا ہے کہ سب مل جل کر کھائیں گے لیکن ساری چیزیں خود کانشی رام ہی کھا گئے۔‘ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش سے کانگریس کے روایتی اقتدار کو اکھاڑ پھینکنے میں کانشی رام اور ان کی بہوجن سماج پارٹی کا اہم رول رہا ۔ یہ سب کر گزرنے میں انہیں قریب ایک دہائی تک ان تھک کوششیں کرنی پڑی۔ بہوجن لفظ کےاستعمال کے متعلق بامسیف کے سابق قومی صدر ڈی کے کھاپڑڈے کہا کرتے تھے کہ ’تمام دلت ذات اس دائرے میں آتے ہیں۔ اس میں بھارتی مسلمان، جنہوں نے کسی زمانے میں چھواچھوت سے تنگ آ کر اسلام قبول کر لیا تھا وہ بھی شامل ہیں۔‘ ان کے مطابق 85 فیصد مسلمان دلت ہیں اور اسی لئے کانشی رام نے بامسیف یعنی بیک ورڈ اینڈ مائنریٹی کمیونٹی ایمپلائی فیڈریشن نامی تنظیم کے ذریعہ تمام دلتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں ان کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ 1990 کی آخری دہائی میں جب بابری مسجد منہدم ہوئے کئی سال گزر گئے تھے اور ملائم سنگھ خود کو مسلمانوں کا سب سے بڑا خیرخواہ ہونے کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے تھے تب اتر پردیش اسمبلی میں سب سے زیادہ مسلم ارکان کانشی رام کی بہوجن سماج پارٹی کے ہی تھے۔ کانشی رام اپنے مقصد کے حصول کےلئے جنون کی حدوں کو بھی پار کر جاتے تھے۔ دینا بھانا نے برسوں تک ان کے ساتھ کام کیا اور بعد میں ان سے الگ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ان دنوں کی بات ہے جب وسائل کی کمی کے باعث ہم اپنی تحریک کے لئے سائکل سے سفر کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کانشی رام کبھی تھکتے ہی نہیں تھے۔ ان کے اوپر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کا جنون سوار رہتا تھا۔‘
بامسیف کے صدر میسرام کہتے ہیں کہ ’کانشی رام کا ماننا تھا کہ دلتوں کے ہاتھ میں کسی بھی طرح اقتدار آنا چاہیئے۔ اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے تو کرو کیونکہ جب تک دلت اقتدار میں نہیں آئیں گے تب تک ان کے اندر خود اعتمادی نہیں آئے گی‘۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت سے کانشی رام نے اتر پردیش میں بہوجن سماج پارٹی کی حکومت بنائی اور بعد میں سمجھوتے کو توڑتے ہوئے بی جی پی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ اس کے لئے ان پر موقع پرست اور وعدہ خلافی کرنے جیسے الزامات بھی لگے۔ کانشی رام کا ذکر مایاوتی کے بنا ادھورا ہے جنہیں انہوں نے اپنے کئی رفقا کو نظر انداز کر سیاست کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ دینا بھانا کا کہنا تھا: ’جب پہلی بار کانشی رام نے مایا وتی کو دیکھا تو مجھ سے پوچھا ’یہ کوڑی کون ہے اسے آگے بڑھاؤ‘۔ دینا بھانا کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد کئی اہم کارکنوں کو کانشی رام نے چن چن کر کنارے لگا دیا، جو بچے وہ خود کو اکیلا محسوس کرتے رہے اور رفتہ رفتہ کہیں گم ہوگئے۔‘ |
اسی بارے میں دلت رہنما کانشی رام کا انتقال09 October, 2006 | انڈیا بھارت رشوت میں نمبر ون05 October, 2006 | انڈیا "غریب رتھ ایکسپریس" 04 October, 2006 | انڈیا ’منا بھائی‘نے لوگوں کو باپو یاد دلا دیا02 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||