’منا بھائی‘نے لوگوں کو باپو یاد دلا دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاتما گاندھی کا آج 137 واں یوم پیدائش ہے اور ان کی سالگرہ کے دن کی تقریبات انڈیا ہی نہیں جنوبی افریقہ میں بھی منعقد کی جاری ہیں۔ انڈیا میں لوگ گاندھی جی کو باپو کے نام سے جانتے ہیں اور انہیں وہی درجہ حاصل ہے جو ایک مہاتما کا ہوتا ہے لیکن ادھر چند برسوں سے لوگ گاندھی جی کو بھولتے چلے گئے ہیں۔ کئی طالب علم تو گاندھی جی کے بارے میں بالکل ہی لاعلم ہیں۔ نہ انہیں یہ یاد ہے کہ گاندھی جی نے ہی انگریزوں سے آزادی دلائی اور نہ یہ کہ وہ کب پیدا ہوئے ان کا فلسفہ کیا تھا اور انہیں کس نے ہلاک کیا؟ ان کی تعلیمات پر کوئی عمل نہیں کرتا بلکہ نوجوان نسل ان کے عدم تشدد کے فلسفے کا مذاق اڑاتی ملی۔ ہر برس دو اکتوبر آتا ہے، چند سیاسی پارٹیاں اپنے دفاتر میں رسمی طور پر باپو کو یاد کرتی ہیں۔ چند سکولوں میں اساتذہ بچوں کو بلاتے ہیں وہ باپو کے لئے گیت گاتے ہیں۔ ممبئی میں گاندھی بھون میں روایتی انداز میں انہیں یاد کیا جاتا ہے۔ گاندھی ازم یعنی عدم تشدد کی پالیسی پر عمل کرنے والے چند گنے چنے لوگ خراج عقیدت کے طور پر چرخا کاتتے ہیں اور پھر سب اپنی اپنی راہ۔ لیکن آج دو اکتوبر کچھ الگ لگ رہا ہے۔ ملک بھر باپو کو یاد کیا جا رہا ہے۔ اچانک نئی نسل کو پتہ چلا ہے کہ کوئی باپو بھی تھے جنہوں نے عدم تشدد کا فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اور وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ سب اچانک صرف ایک فلم کی وجہ سے ہوا اور وہ ہے ' لگے رہو منا بھائی '
فلمیں آج کی نسل پر کتنا گہرا اثر ڈالتی ہیں یہ فلم اس کی ایک مثال ہے۔ اندور میں چند لوگ شراب کی دکان پر پہنچ گئے اور انہوں نے وہاں سے شراب خریدنے والوں کو دودھ کا گلاس اور گلاب کا پھول پیش کیا۔ مقصد یہ پیغام تھا کہ شراب بری چیز ہے اور اسے نہیں پینا چاہئیے۔ ممبئی میں فلم ' لگے رہو منا بھائی ' کے ہیرو سنجے دت ان کی بہن ممبر پارلمینٹ پریہ دت اور فلم کے پوری یونٹ کے علاوہ دیگر فلمی ستاروں نے ایک جلوس نکالا۔اس جلوس میں نامور اداکارہ شبانہ اعظمی، ارشد وارثی، ہیروئین نغمہ، رضا مراد سمیت سیکڑوں لوگ شامل تھے۔ باپو کے پیغامات لکھے بینر اور کارڈ اٹھائے یہ لوگوں میں گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفہ کی تشہیر کرنا چاہتے تھے۔ شبانہ اعظمی کا کہنا تھا کہ اس ملک میں پچاس فیصد سے زیادہ پچیس سال کے نوجوان ہیں اور اگر اس فلم کے ذریعہ وہ گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفہ کو جان پاتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ سنجے دت جنہوں نے فلم لگے رہو منا بھائی میں اپنی اداکاری کے ذریعہ لوگوں تک باپو کا پیغام پہنچایا ہے ، کہتے ہیں کہ اگر لوگ واقعی گاندھی جی کے فلسفہ پر عمل کریں تو زندگی خوشگوار ہو جائے گی۔ ان کے مطابق ان کے والد سنیل دت نے پوری زندگی باپو کے نقش قدم پر چل کر ملک میں امن کا پیغام دیا۔ سنجے دت اور ان کی فلم کے پوری یونٹ نے دو اکتوبر کو یہ جلوس نکالا لیکن اس سے پہلے کبھی انہوں نے نہ ہی یونٹ کے کسی ممبر نےگاندھی جی کو اس طرح یاد کیا۔ فلم لگے رہو منا بھائی آسکر ایوارڈ کے لئے بھی نامزد کی جا رہی ہے۔
لیکن کیا واقعی نوجوان آج کے اس دور میں اس فلسفہ کو صحیح مانتے ہیں؟ ایم بی اے مکمل کرنے والے تیئس سالہ شرف زیدی کہتے ہیں ’ کسی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن آج کے اس بدعنوان سسٹم میں اس کا پوری طرح کامیاب ہونا ناممکن ہے۔‘ شرف بیباکی سے کہتے ہیں کہ آج سے پہلے دو اکتوبر ہمارے لئے صرف ایک چھٹی کا دن ہوا کرتا تھا۔ وہ گاندھی کی تعلیمات سے بھی بہت ناخوش تھے۔ شرف کا ماننا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ گاندھی جی کو ایک ایسا شخص سمجھا تھا جو صرف اپنے بارے میں ہی سوچتا ہو کیونکہ انہوں نے آزادی کی جنگ لڑ رہے بھگت سنگھ ، سبھاش چندر بوس یا دیگر لوگوں کا ساتھ کبھی نہیں دیا۔ شرف کہتے ہیں کہ اس فلم نے کم سے کم انہیں یہ بتایا کہ گاندھی جی کا فلسفہ اور اس کی اصل روح کیا تھی اور اس فلم سے وہ یہ جان پائے ہیں کہ اس وقت گاندھی جی کچھ حد تک صحیح تھے۔ میڈیکل سٹوڈنٹ روزا راڈرگس سرے سے ہی گاندھی جی کے فلسفہ کو اس زمانے میں ماننے سے انکار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دور بالکل الگ ہے۔ لوگوں میں وہ سادگی نہیں ہے ۔اگر آپ تھپڑ کھانے کے بعد دوسرا گال پیش کرتے ہیں تو لوگ آپ کو بے وقوف جانیں گے۔ ان کی نظر میں یہ صرف ایک دور ہے جس طرح ایک فلم کامیاب ہوتی ہے تو اس کے کپڑے ، ہیئر سٹائل اور مکالمے مقبول ہوتے ہیں اور پھر چند دنوں بعد لوگ بھول جاتے ہیں وہی حشر اس فلم اور باپو کے فلسفہ کا ہو گا۔ |
اسی بارے میں ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں 29 September, 2006 | فن فنکار کیاگاندھی کا عدم تشدد کا نظریہ کامیاب رہا؟10 September, 2006 | قلم اور کالم گاندھی گارڈن سے اسٹریٹ تک18 September, 2006 | پاکستان گاندھی:شخصیت پر ایک نئی نظر21 March, 2006 | فن فنکار گاندھی کی آخری سواری کی مرمت18 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||