BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 September, 2006, 21:31 GMT 02:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں

بالی وڈ کی فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر ایوارڈ کی فہرست میں شامل ہونے جا رہی ہے۔ فلم فیڈریشن آف انڈیا ہر برس انڈیا کی ایک نمائندہ فلم آسکر کے لئے منتخب کرتی ہے اور اس سال بارہ ممبران پر مشتمل جیوری نے عامر کی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کا انتخاب کیا تھا۔

ایک فلم کے بعد دوسری فلم کیوں کے سوال پر لگے رہو منا بھائی کے پروڈیوسر ودھو ونود چوپڑہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کسی طرح کا تنازعہ نہیں ہے اور ان کی فلم غیرملکی فلموں میں ’بہترین فلم‘ کے زمرے میں پیش ہوگی۔

چوپڑہ نے اعتراف کیا کہ فلم ’رنگ دے بسنتی‘ ایک اچھی فلم ہے اور جب اس کی خصوصی اسکریننگ ہو رہی تھی اس وقت وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے صرف دس منٹ کی فلم دیکھنے کے بعد ہی اسے دوبارہ شروع سے دکھانے کے لئے کہا تھا۔

چوپڑہ کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی فلم ’لگے رہومنا بھائی‘ کے لئے پوری دنیا سے مداحوں کے فون اور پیغامات موصول ہوئے تھے جس میں انہوں نے فلم کی کافی تعریف کی ہے اور کہا کہ اس طرح کی فلم کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔

فلم میں ’گاندھی گیری‘ کو آج کے دورے کے لیے مزاحیہ طور پر پیش کی گئی ہے
انہوں نے ایک ہی ملک کی دو فلموں کو آسکر میں پیش کیے جانے کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہالی وڈ فلم ’لائف از بیوٹی فل‘ بھی کسی زمانے میں دوسری فلم کے ساتھ بہترین فلموں کے زمرے میں نامزد ہوئی تھی اور اس نے ایوارڈ جیتا تھا، اس لئے ایک ہی ملک سے کئی فلموں کو الگ الگ زمرے میں نامزد کیا جانا نئی بات نہیں ہے۔

فلم کو آسکر ایوارڈ کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے چوپڑہ کی اپنی غیرملکی کمپنی ایروز انٹرنیشنل ضروری کارروائی پورا کر رہی ہے۔ چوپڑہ نے بتایا کہ یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا کے طلباء اور پریس کے جانب سے انہیں مدعو کیا گیا ہے کہ وہ فلم کی نمائش کریں۔

چوپڑہ کے مطابق یہ ان کے لئے ایک اعزاز ہے کیونکہ اس فلم انسٹی ٹیوٹ نے دنیا کو بہترین فلمساز اور فنکار دیے ہیں جن میں جیمز آئیوری جارج لوکاس شامل ہیں.

رنگ دے بسنتی سے پہلے کینیڈا نے اداکار جان ابراہام کی فلم ’واٹر‘ کو غیرملکی زبنا کی فلموں کے زمرے میں آسکر میں بھیجا ہے۔

فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ میں مہاتما گاندھی کا فلسفہ ’عدم تشدد‘ کا اس نئے زمانے میں تجربہ کیا گیا ہے جسے کامیاب بھی دکھایا گیا۔ فلم کافی مقبول ہوئی ہے اور اسی لئے اس فلم کو اب ممبئی میں بھی ٹیکس فری کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
’رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے‘
26 September, 2006 | فن فنکار
دادا گیری سے گاندھی گیری تک
18 September, 2006 | فن فنکار
آسکر نامزدگی پر خوش ستارے
01 February, 2006 | فن فنکار
آشوتوش آسکر کے ووٹنگ ممبر
23 February, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد