’رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم فیڈریشن آف انڈیا نے اس سال فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کو آسکر ایوارڈ کے لیئے نامزد کیا ہے۔ اس فلم کے ہیرو عامر خان ہیں اور عامر کی یہ دوسری فلم ہے جو آسکر ایوارڈ کے لیئے نامزد ہوئی ہے۔ اس سے قبل فلم ’لگان‘ آسکر میں پہنچی تھی بلکہ اس نے آخری پانچ فلموں کی فہرست میں جگہ بنا لی تھی۔ عامر کے لیئے یہ ایک بڑی خوشی کا موقع تھا اور بی بی سی نے اسی سلسلہ میں عامر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عامر نے فلم ’رنگ دے بسنتی‘ ’لگے رہو منا بھائی‘ اور آج کے سنیما، ناظرین اور بالی وڈ فلموں پر گفتگو کی۔ عامر کے مطابق انہیں یقین تھا کہ فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کا انتخاب آسکر کے لیئے ضرور ہوگا کیونکہ ان کے مطابق یہ ایک خاص فلم ہے جس نے نہ صرف انڈیا کے ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا بلکہ اس نے ان پر اور اس فلم کی پوری یونٹ کو متاثر کیا۔ عامر کے مطابق یہ فلم ان کے دل کے بہت قریب ہے اس میں وہ اس نوجوان نسل کا مستقبل دیکھتے ہیں۔ عامر کے مطابق اس فلم نے ملک کے نوجوانوں کو ایک راہ دکھائی۔ یہ فلم انہیں کچھ کر گزرنے اور حالات کو بہتر بنانے کے لیئے انہیں اکساتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ فلم انہیں تفریح بھی فراہم کرتی ہے۔ عامر نے بڑی فراخدلی کے ساتھ فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ کی تعریف کی اور کہا کہ اس فلم کو دیکھ کر وہ پوری طرح ’بولڈ‘ ہو گئے۔ ان کے مطابق فلم میں مہاتما گاندھی کے نظریہ کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ فلمایا گیا ہے۔ عامر مانتے ہیں کہ ان کی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ اور ’لگے رہو منا بھائی‘ میں آسکر کے لیئے انتخاب میں زبردست ٹکر رہی ہو گی۔
عامر کہتے ہیں کہ اگر ’لگے رہو منا بھائی‘ کا انتخاب بھی کیا جاتا تو وہ اس کی تشہیر کے لیئے ضرور آگے آتے کیونکہ اس طرح وہ اپنے ہی ملک اور اپنے ہی مہاتما گاندھی کے نظریہ کو دنیا کے سامنے لانے کا اچھا موقع ملتا۔ عامر اس بات سے خوش ہیں کہ آج کل اچھی فلمیں بن رہی ہیں۔ انہوں نے ایک ہی سال میں بنی ’رنگ دے بسنتی‘ اور ’لگے رہو منا بھائی‘ کی مثال دی۔ تو کیا ناظرین اب بامقصد سنیما کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں عامر کا کہنا تھا کہ ناظرین ہمیشہ سے بامعنی سنیما کے ساتھ تفریح بھی چاہتے ہیں اور انہیں ان دونوں فلموں میں دونوں ہی چیزیں ملیں۔ عامر کی نظروں میں سنیما کا پہلا مقصد تفریح اور پھر اس کے ساتھ کوئی پیغام یا مقصد کا ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بھی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ کم فلمیں کریں لیکن اچھی تفریحی اور بامقصد فلموں کا ہی انتخاب کریں اس موقع پر انہوں نے اپنی فلم ’سرفروش‘ کی مثال دی جس میں ان کے مطابق تفریح بھی تھی اور ایک پیغام بھی۔ اس فلم نے لوگوں کو ’انسپائر‘ بھی کیا تھا۔ عامر کہتے ہیں کہ ان کے لیئے ان کے ملک کے ناظرین بہت اہمیت رکھتے ہیں وہ فلمیں بھی اسی مزاج اور اسی سوچ کو دھیان میں رکھ کر بناتے ہیں۔ عامر بین الاقوامی ناظرین کو دوسرا درجہ دیتے ہیں۔ ان کی نظروں میں اگر فلم ملکی عوام میں مقبول ہوتی ہے تو انہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے بہ نسبت یہ کہ وہ غیر ملک میں زیادہ پسند کی جا رہی ہو۔ عامر اپنی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کی غیر ممالک میں تشہیر کے لیئے نہیں جا پائیں گے ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت بہت مصروف ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ فلمساز رونی اسکریو والا اور ہدایت کار راکیش اوم پرکاش مہرہ کی رہنمائی ضرور کریں گے کیونکہ انہیں فلم ’لگان‘ کی تشہیر کا تجربہ ہے۔ سال میں دو فلمیں کرنے کا وعدہ کرنے والے عامر واقعی اب دو فلمیں کر رہے ہیں۔ اس وقت وہ اپنے بھانجے عمران کو فلمی دنیا سے روشناس کرانے کی تیاری میں ہیں۔ عمران کے ساتھ عامر خان فلم ’جانے تو‘ بنا رہے ہیں۔ اس فلم کی شوٹنگ وہ نومبر سے شروع کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’چنکارا‘ فلمبندی، عامر کو نوٹس09 August, 2006 | فن فنکار 2006 میں بالی وڈ فلموں کی کامیابی16 July, 2006 | فن فنکار فضائیہ نے رنگ دے بسنتی’اوکے‘ کردی11 January, 2006 | فن فنکار گجرات میں’فنا‘ کی نمائش، اپیل خارج05 June, 2006 | فن فنکار ’عامر کی ’فنا‘ نہیں چلے گی‘27 May, 2006 | فن فنکار فلم فیئر میگزین کو عامر خان کا نوٹس26 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||