گاندھی گارڈن سے اسٹریٹ تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آج مہاتما گاندھی کا نام لینے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا مگر ایک زمانہ تھا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک اور کراچی سے کارونجھر تک گاندھی کے ہزاروں پیروکار تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد جو کچھ پیروکار رہ گئے وہ بھی پس منظر میں چلے گئے۔ان پیروکاروں میں گاندھی کی جنم بھومی گجرات کے پڑوس میں واقع کارونجھر پہاڑ کی گود کے باسی بھیل گاندھی شامل تھے جو ان کے گارڈ رہے اور اٹھانوے برس کی عمر میں گزشتہ سال انتقال کرگئے جبکہ عمرکوٹ کے کِشوری لال جیسے پیروکارگمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ گاندھی ابھی جنوبی افریقہ میں ہی تھے کہ ان کی مشہوری ان سے پہلے سندھ کے دارالحکومت کراچی پہنچ گئی۔انیس سو تیرہ میں جب کراچی میں انڈین نیشنل کانگریس کے سالانہ انتخاب میں نواب سعید محمد بہادر کو صدر منتخب کیا گیا تو اس اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے گاندھی اور ان کے پیروکاروں کو خراج تحسین پیش کیاگیا جنہوں نے جنوبی افریقہ میں انڈین شناخت اور وقار کو بلند کیا تھا۔ کانگریس کے کراچی میں مرکزی تنظیم سمیت کئی اجلاس ہوئے۔ گاندھی کے قریبی ساتھی سردار ولب بھائی پٹیل کو کراچی میں ہی انڈین نیشنل کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ یہ اجلاس 1931 میں ہوا تھا جس میں مہاتما گاندھی خود بھی شریک ہوئے تھے۔
سندھ اسمبلی نے چار فروری 1948 کو اپنے اجلاس میں ایک تعزیتی قرار داد کے ذریعے گاندھی کے قتل کو ایک ظالمانہ عمل قرار دیا اور انہیں امن اور آزادی کے لیے کام کرنے والا ایک عظیم رہنما قرار دیا جو آج تک ہندو قوم نے پیدا کیے۔ پاکستان بننے کے بعد سرکاری سطح پر گاندھی جی کو پیش کیا جانے والا یہ پہلا اور آخری خراج عقیدت تھا۔ گاندھی جی کا ’اہنسا‘ کا نظریہ برصغیر کی سرحدیں پھلانگ کر یورپ اور افریقہ تک پہنچا جہاں ان کی فکر اور جدوجہد پر تحقیق بھی ہوئی اور یادگار بھی تعمیر ہوئے مگر برصغیر کے مغربی اور اہم حصے پاکستان میں ان کے نام سے منسوب چیزوں کو بھی بدل دیا گیا۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی ایک سو بیس سال پرانی درسگاہ سندھ مدرسہ اسکول کے سامنے آج بھی کراچی انڈین مرچنٹس کی عمارت موجود ہے جس کا گاندھی نے 1934 میں افتتاح کیا تھا۔ آج وہاں کراچی چیمبر آف کامرس کا دفتر ہے اور گاندھی کے نام کی تختی کو لوگوں نے نوٹس بورڈ بنا لیا ہے جہاں اب صرف پوسٹر لگائے جاتے ہیں۔ کراچی کے زولوجیکل گارڈن کا نام بھی کبھی گاندھی گارڈن ہوا کرتا تھا۔ مگر اب یہ صرف گارڈن کے نام سے مشہور ہے اور گاندھی کا لفظ غائب ہے۔
اسی طرح بندر روڈ المعروف ایم اے جناح روڈ پر لائیٹ ہاؤس کے قریب موجود گلی آج کل یعقوب گاندھی اسٹریٹ بن گئی ہے مگر کچھ عرصے قبل تک یہ صرف گاندھی اسٹریٹ کے نام سے پہچانی جاتی تھی جس کی گواہی اس گلی کے چاروں طرف موجود عمارتیں دے رہی ہیں۔ پاکستان کی آزادی سے قبل موجودہ سندھ ہائی کورٹ کی عمارت کے سامنے اہنسا کے مفکر موہن داس کرم چند کا ایک دیوقامت کانسی کا مجسمہ نصب تھا جو آزادی کے ایک سال بعد انیس سو اڑتالیس میں ہٹا دیا گیا۔ معروف کالم نویس اردشیر کاؤسجی نے اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے: ’انیس سو اکتیس سے یہ مجسمہ ہائی کورٹ کی عمارت کے باہر چوک پر نصب تھا۔ مگر جنوری 1948 میں کراچی میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے اور بڑی تعداد میں ہندو کوچ کر گئے ان کی املاک پر قبضہ کیا گیا۔‘
ایس ایم یوسف نے اس دہکتی ہوئی صورتحال میں کسی غیرجانبدار کو لانے کو سوچا۔ انہوں نے جمشید نوسروانجی پارسی سے رابطہ کیا اور ان سے مدد کی درخواست کی۔ کاؤسجی کے مطابق جمشید نوسرونجی نے بی وی ایس پارسی اسکول کے سابق طالب علموں کو اکٹھا کیا اور انہیں اوزار اور گاڑی فراہم کی۔ ’رات کی تاریکی میں ہم نے اس مجسمے کو وہاں سے ہٹادیا، اور اسے میرے والد کے گھر منتقل کردیا گیا جہاں ایک گیراج میں اسے عارضی طور پر رکھا گیا۔‘ اردشیر کاؤسجی کے مطابق ’ہم نے بھارتی ہائی کمِشنر سے رابطہ کیا کہ گاندھی کو خطرے سے بچانے کے لیے آگے آؤ، مگر ان دنوں کے حالات کی وجہ سے وہ کچھ نہ کرسکے۔ مجسمے کو بعد میں بی وی ایس اسکول لے جایا گیا جہاں اسے چھپایا گیا۔‘ کئی دنوں کے بعد جب بھارت نے اپنا ہائی کمیشن بنا لیا تو اس وقت کے ہائی کمشنر نے خوشی کے ساتھ گاندھی کا مجسمہ اٹھالیا جو بعد میں انیس سو اٹھاسی میں اسلام آباد میں بھارتی قونصلیٹ منتقل کردیا گیا اور یوں گاندھی کےفکر اور یادگار نے ذہنوں سے نکل کر کتابوں میں جگے لے لی ہے۔ |
اسی بارے میں گاندھی کے شہر میں21.02.2003 | صفحۂ اول کانگریس کا دانڈی مارچ12 March, 2005 | انڈیا مہاتماگاندھی اور آج کے دنیا14 March, 2005 | Debate مہاتماگاندھی اور آج کی دنیا14 March, 2005 | Debate اندرا:’بوڑھی چڑیل‘ صدرنکسن کی رائے 29 June, 2005 | آس پاس ہینری کسنجر نے معذرت کر لی01 July, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||