اندرا:’بوڑھی چڑیل‘ صدرنکسن کی رائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں جاری کی جانے والی 1970 کی امریکی دستاویزوں کے مطابق صدر نکسن اندرا گاندھی کو ’بوڑھی چڑیل‘ قرار دیتے تھے۔ صدر نکسن کی طرح ان کے قومی سلامتی کے مشیر ہینری کیسنجر نے 1971 کی بھارت پاکستان جنگ کے دوران کہا تھا ’ویسے بھی ہندوستانی حرامی ہیں‘۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب امریکی یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان سوویت یونین سے زیادہ قریب ہے۔ یہ باتیں ان دستاویزات سے منکشف ہوئی ہیں جنہیں امریکی دفترِ خارجہ حال ہی میں منظرِ عام پر لائی ہے۔ ان میں سے ایک دستاویز بھارتی وزیراعظم اندار گاندھی کے دورۂ امریکہ کے دوران ملاقات کے فوراً بعد صدر نکسن مسٹر کیسینجر کے درمیان ہونے والی ملاقات کی گفتگو کا تحریری متن ہے۔ اس متن کے مطابق صدر نکسن نے کہا’ہم نے بھی اس بوڑھی چڑیل کو خوب مکھن لگایا ہے۔‘ جس کے جواب میں ہنری کیسیجر نے کہا ’ہندوستانی ویسے بھی حرامی ہیں، وہ تو وہاں جنگ شروع کرنے والے ہیں‘۔ انہوں نے اضافہ کیا ’بے شک وہ کتیا ہے، ہم نے بھی ہو حاصل کر لیا ہے جو ہم چاہتے تھے۔ اب وہ واپس جا کر یہ نہیں کہہ سکتی کہ امریکی نے اس کے استقبال میں گرمجوشی نہیں دکھائی جس کے وجہ سے اس نے مایوس ہو کر جنگ شروع کرنی پڑی‘۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ جنگ نومبر اور دسمبر 1971 میں ہوئی۔ اس کے اسباب میں 1970 کے دوران مشرقی پاکستان میں کیا جانے والا علیحدگی کا وہ مطالبہ بھی شامل تھا جس کے نتیجے میں وہ بعد میں بنگلہ دیش بنا۔
مارچ 1971 میں پاکستانی فوج نے وہاں علیحدگی پسندوں کو دبانے کے نام پر کارروائی کی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ وہاں سے فرار ہو کر بھارت کی ریاست مغربی بنگال چلے گئے۔ بھارت نے بنگلہ دیش کی آزادی کے مطالبے کی حمایت کی تھی جس کے بعد اگست 1971 میں اس کے تعلقات امریکہ سے اس وقت اور کشیدہ ہو گئے اس نے سوویت یونین کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کیے جس میں جنگ کے دوران باہمی فوجی امداد دینا بھی شامل تھا۔ دوسری طرف صدر نکسن نے اس وقت پاکستان پر حکمراں فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحیٰی خان سے ’خصوصی تعلقات‘ قائم کر لیے۔ 4 جون 1971 کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی گفتگو کی دستاویز کے مطابق صدر نکسن نے ہندوستان میں امریکہ کے سفیر کینیتھ کیٹنگ کو جھڑکا اور اس کی وجہ کیسینجر کے الفاظ میں یہ تھی کہ وہ ’پاکستانیوں کو باہر دھکیلنے میں بھارت کی مدد کرنا چاہتے تھے‘۔ صدر نکسن کا کہنا تھا ’میں نہیں چاہتا کہ وہ اس طرح کے گدھے پن کی چیزیں لے کر میرے پاس آئے۔ ۔ ۔ کیٹنگ ان دوسرے سفیروں جیسا ہی ہے جو وہاں جاتے ہیں اور وہیں جا کر دھنس جاتے ہیں۔‘ اس کے بعد مسٹر کیسینجر کہتے ہیں’وہ کتیا کے بچے جنہوں نے کبھی تنکا تک نہیں توڑا ہم ان کےلیے ان کے لیے مشرقی پاکستان کی دلدل میں کیوں دھنسیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مشرقی پاکستان خود مختار ہو گا تو ایک جوہڑ بن جائے گا، ایسے دس کروڑ لوگ جن کا طرزِ زندگی ایشیا میں سب سے پسماندہ ہو گا۔‘ صدر نکسن نے اس بات کے جواب میں کہا ’ہاں۔‘ مسٹر کیسینجر کا کہنا تھا ’وہ کمیونسٹ مداخلت کا گڑھ بن جائے گا۔‘
اس کے بعد صدر نکسن پاکستان کے طرف بڑھتی ہوئی جنگ کی لہر کو چین کی مدد سے لوٹانے کی بات کرتے ہیں۔ صدر نکسن کا کہنا تھا ’پاکستانی سیدھے‘ صاف گو اور بعض اوقات انتہائی احمق ہوتے ہیں جب کے ہندوستانی چالباز اور بعض اوقات اتنے طرار ہوتے ہیں کہ ہم بھی ان کے چکر میں آ جاتے ہیں۔‘ دس دسمبر کو جب ہندوستانی فوج اور بنگالی علیحدگی پسند فتح کی طرف بڑھ رہے تھے تو امریکہ نے چین پر زور دیا کے وہ بھارت کی جانب فوجی پیش قدمی کرے اور اس کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر سوویت یونین ملوث ہوا تو امریکہ بھی مداخلت کرے گا۔ چین نے اس بات کو قبول نہیں کیا اور 16 دسمبر 1971 کو ہندوستانی فوج اور مسلح علیحدگی پسندوں نے ڈھاکہ پر قبضہ کر لیا اور جنگ ختم ہو گئی۔ جلاوطن رہنما 26 مارچ 1971 ہی کو بنگلہ دیش کی خود مختاری کا اعلان کر چکے تھے۔1972 میں شیخ مجیب الرحمٰن واپس آئے اور ملک کے پہلے وزیراعظم بنے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||