بارہ مارچ کو مہاتما گاندھی کی تاریخی نمک ستیاگرہ کی پچھہترہویں سالگرہ تھی۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی نےاس طویل مارچ کو ایک بار پھر منعقد کیا اور پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے اس کا افتتاح کیا۔ تحریک آزادی کے دوران مہاتما گاندھی نے انیس سو تیس میں برطانوی راج کی مخالفت میں یہ تاریخی دانڈی مارچ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے حامیوں کے ساتھ احمدآباد کے سابر متی آشرم سے ساحلی گاؤں دانڈی تک پیدل سفر چوبیس روز میں مکمل کیا تھا۔ یہ مارچ نمک کی پیداوار پر مکمل برطانوی کنٹرول کے خلاف شروع کیا گیا تھا اور اسکے دور رس اثرات بھی مرتب ہوئے۔ اس مارچ نے مہاتما گاندھی کی عدم تشدد اور پرامن سول نافرمانی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم آج کا بھارت مہاتما گاندھی کے ان تمام مقاصد سے انتہائی مختلف ہے جن میں امن، عدم تشدد، مذہبی ہم آہنگی اور معاشرے میں دیانت دارانہ اصولوں پر عمل اہم رہے ہیں۔ پھر آج کےگجرات میں کانگریس کے اس دانڈی مارچ کے مقاصد اور وجوہات واضح نہیں ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کا اس سے لوگوں پر گاندھی جی کے نظریات کا نفسیاتی اثر پڑے گا۔ لیکن بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی مفاد کے لیے ہے۔ آپ مہاتما گاندھی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا آپ کی رائے میں مہاتما گاندھی کا عدم تشدد، امن اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام آج کی بین الاقوامی سیاست میں بھی کوئی معنویت رکھتا ہے؟ آج کا انڈیا گاندھی جی کے ان مقاصد سے کس قدر قریب ہے اور کتنا دور؟ کیا اس مارچ کے ذریعے کانگریس صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے یا یہ درحقیقت بھارتی عوام کو ان نظریات سے قریب لانے کا سبب بنے گا جن کے لیے مہاتما گاندھی لڑتے رہے؟ آپ اپنے خیالات ہمیں اردو، انگریزی یا roman urdu میں بھیج سکتے ہیں
|