"غریب رتھ ایکسپریس" | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹرین کی اے سی بوگی اور غریب ! بظاہر ان دونوں میں کوئی مطابقت نہیں لیکن آج صبح ریلوے کے وزیر لالو پرساد نے ملک کی پہلی "غریب رتھ ایکسپریس" ٹرین کا افتتاح کر کے غریبوں کو بقیہ ٹرینوں کے مقابلے میں اس پرتقریباً نصف کرایہ پر سفر کا موقع فراہم کیا۔ لالو پرساد نے بہار کے شہر سہرسہ میں اس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی جو پنجاب کے شہر امرتسر تک چلے گی۔ لالو پرساد نے اپنی بجٹ تقریر میں اس "غریب رتھ" کو چلانے کا وعدہ کیا تھا۔ لالو پرساد نے کہا کہ اس ٹرین سے غریبوں میں احساس کمتری دور ہوگی۔ انہوں نے کسانوں سے کہا کہ وہ ریلوے کے ذریعے اپنی پیداوار کو ملک کے ان حصوں میں بھیجیں جہاں انہیں زیادہ قیمت مل سکے۔ ایسٹ سنٹرل ریلوے کے تعلقاتِ عامہ کے سربراہ اے کے چندرا کا کہنا ہے کہ نام کی طرح اس ٹرین کا کرایہ بھی غریب کی جیب کے مطابق رکھا گیا ہے۔ عام ٹرین کی جنرل بوگی میں سہرسہ سے امرتسر تک کے سولہ سو کلو میٹر کے سفر کے لیئے کرایہ ساڑھے چار سو روپے ہے اور "غریب رتھ" کی اے سی بوگی کا کرایہ سلیپر تھری ٹیئر میں تقریباً سات سو اور چیئر کار کے لیۓ تقریباً چھ سو روپے رکھا گیا ہے۔ دوسری ٹرینوں میں سہرسہ سے امرتسر تک اے سی تھری ٹیئر سلیپر کا کرایہ قریب ساڑھے بارہ سو روپیہ ہے۔ اس ائیر کنڈیشنڈ ٹرین کا نام غریب رتھ ہے تو کرایہ میں کمی کے ساتھ بعض سہولتوں کی کمی مسافروں کو غریب ہونے کا احساس دلاتی رہے گی۔ مثلاً اس کی بوگی میں بیڈ رول کی سہولت نہ ہوگی۔ یعنی مسافروں کو کمبل، تکیہ، چادر اور تولیہ وغیرہ ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اسی طرح ٹرین کے اندر پینٹری کار نہیں ہوگی۔ یعنی مسافر چاہیں تو ساتھ ساتھ ستّو وغیرہ باندھ لیں یا اسٹیشن پر اتر کر کھانے کا انتظام کریں۔
مسٹر اے کے چندرا کاکہنا ہے کہ جس طبقے کے لیۓ یہ ٹرین چلائی جار رہی ہے وہ عموماً اپنے ساتھ بستر اور کھانا لے کر چلتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹرین سروس ابھی تجرباتی دور میں ہے اور مسافروں کا مطالبہ ہوا ہو تو مذکورہ سہولتیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ اٹھارہ بوگیوں والی یہ ٹرین ہفتے میں دو دن چلا کرے گی۔اس ٹرین میں بارہ ڈبے اے سی سلیپر، چار اے چیئر کار اور دو ڈبے معذور افراد کے لیۓ ہوں گے۔ اس کے ہر ڈبے میں بہتر کی جگہ پچھتر برتھ ہوں گی۔ بعض حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ اس ٹرین میں غریب کی جگہ پیسے والے ہی نہ چلیں اسکے لیۓ کوئ نظم نہیں ہے۔ مسٹر چندرا کے مطابق ریلوے یہ مان کر چل رہی ہے کہ جو لوگ اپنی سماجی حیثیت بہتر مانتے ہیں وہ خود اس ٹرین میں سفر سے پرہیز کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے لیۓ راشن کارڈ یا خط غربت کارڈ وغیرہ کا استعمال بہت پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے اور اس عمل کی کامیابی کا امکان نہیں۔ مسٹر چندرا کے مطابق "غریب رتھ" ٹرینیں پٹنہ سے دہلی، دہلی سے چنئی اور دہلی سے باندرا (ممبئ) کے درمیان بھی شروع کی جائیں گی۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بہار سے پنجاب کا سفر کرنے والے بیشتر لوگ زرعی مزدور ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ انہیں ائیر کنڈیشنڈ ڈبوں میں سفر کرنے کی اتنی خواہش نہیں ہوگی جتنی ایک متوسط یا امیر طبقے کی ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ٹرینوں میں بڑھتی لوٹ کھسوٹ13 September, 2006 | انڈیا بھارت: تیز رفتار ٹرین کا افتتاح 15 February, 2006 | انڈیا ٹرین حادثہ: فوجی غوطہ خور طلب30 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||