ٹرینوں میں بڑھتی لوٹ کھسوٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریل کی ترقی اور منافع کے لیۓ ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو آج کل دنیا بھر سے پزیرائی حاصل کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف نشہ آور اشیاء کھلا کر ٹرینوں میں مسافروں کو لوٹنے کا سلسلہ ایک خطرناک شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ وزارتِ ریلوے کے مطابق نشہ آور اشیاء کھلا کر مسافروں کو لوٹنے کا جرم تو پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے لیکن اس کے زیادہ شکار بہار کی طرف جانے والے مسافر ہوتے ہیں۔ ایسٹ سنٹرل ریلوے کے چیف پبلک ریلشنز افسر اے کے چندرا نے بتایا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ نشہ آور اشیاء کے شکار ہونے والے سب سے زیادہ مسافر بہار کے ہوتے ہیں لیکن اس میں شامل گروہ بہار میں سرگرم نہیں ہیں۔ اے کے چندرا کے مطابق نشہ آور اشیاء دیکر مسافروں کو بے ہوش کرنے کے بعد لوٹنے والے جرائم پیشہ افراد زیادہ تر غازی آباد سے الہ آباد کے درمیانی علاقے میں سرگرم رہتے ہیں۔ نشہ آور اشیاء کھلا کر لوٹے جانے والے افراد کی اکثریت ان غریب مزدوروں کی ہوتی ہے جو پردیس میں جمع کۓ گۓ پیسے لیکر گھر لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ ٹرینوں میں نشہ کھلاکر یا سونگھا کر لوٹنے کا سلسلہ تو سارا سال جاری رہتا ہے لیکن آج کل تہواروں کے لیۓ بہار جانے والے لوگ کافی تعداد میں اسکا شکار ہو رہے ہیں۔ لوٹنے والے گروہوں کے لیۓ آج کل ’پیک سیزن’ ہے۔ ایسے گروہ ٹرینوں کی جنرل اور سلیپر بوگی میں سرگرم رہتے ہیں۔ وزارتِ ریلوے کی جانب سے ریلوے سٹیشنوں پر یہ اعلان کرایا جاتا ہے کہ کسی اجنبی کا دیا ہوا کھانے کا سامان استعمال نہ کریں لیکن لوٹنے والوں کی چالبازیوں کے آگے یہ تنبیہ بہت کارگر ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ عام طور پرجرائم پیشہ افراد چاۓ یا بسکٹ میں نشہ آور اشیاء کی آمیزش کرکے مسافروں کو دیتے تھےاور بے ہوش ہونے پر انہیں لوٹتے تھے۔ لیکن اب لوٹنے والوں نے طریقہء کار بدل دیاہے۔ نشہ آور اشیاء کی مدد سے لوٹنے والے گروہ کا سب سے بڑا ہتھیار انکا ’اخلاق’ ہوتا ہے۔ اس گروہ کے افراد مسافروں سے پہلے گھلنے ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں اپنی بول چال سے اس قدر متاثر کردیتے ہیں کہ وہ کچھ کھانے پینے کے لیۓ دیں تو انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چاۓ اور بسکٹ تو ویسے بھی کھلی اشیاء ہیں۔ ٹرینوں میں لٹنے والے متعدد مسافروں نے بتا یا کہ انہیں سیب اور دیگر پھل کھلاکر لوٹا گیاتھا۔ دراصل اب پھلوں میں نشہ آور اشیاء انجکشن کے ذریعہ ملائی جا رہی ہیں۔
مسافروں کے لیۓ خطرناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ اب ریلوے سٹیشنوں پر ملنے والے اشیاۓ خوردنی میں بھی نشہ آور اشیاء کی آمیزش کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ حال ہی میں بے ہوش ہونے کے بعد لٹنے والے ایک فوجی نے پٹنہ پہچنے کے بعد بتایا کہ پنجاب میل کی جس بوگی میں وہ سوار تھا اسکے سارے مسافروں کو کچھ لوگوں نے نشہ آور شربت پلا کر لوٹا تھا۔ ٹرینوں میں لٹنے والے متعدد مسافر بتاتے ہیں کہ انہیں کوئی پاوڈر سونگھایا گیا جسکے بعد وہ بے ہوش ہو گے اور ان کا سارا سامان لوٹ لیا گیا۔ نشہ آور اشیاء دے کر مسافروں کو لوٹنے والے گروہ کے خلاف کارروائی کافی مشکل کام ہے کیونکہ اس کا شکار ہونے والے افراد جب تک پوری بات بتاتے ہیں اس وقت تک کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ ان نشہ آور اشیاء سے بے ہوش ہونے والے افراد دو چار روز بعد ہی پوری طرح ہوش میں آتے ہیں۔ کئی بار تو متاثرہ مسافروں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اے کے چندرا نے بتایا کہ تہواروں کے پیش نظر ریلوے انتظامیہ نے بوگیوں میں مشتبہ افراد پر نظر رکھنے کے عمل کو اور زیادہ متحرک کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹنہ اور مظفرپور پہچنے والی ٹرینوں کی آمد کے بعد تلاشی لی جاتی ہے تاکہ اگر کوئی مسافر بے ہوش ہو تو اسے طبی امداد دی جاۓ۔ | اسی بارے میں لالوپرساد کی پارٹی کو نوٹس 12 February, 2005 | انڈیا رقم بانٹنے پر لالو پرساد پرمقدمہ20 December, 2004 | انڈیا مغربی بنگال، انتخابی مہم زور پر20 April, 2006 | انڈیا بہار میں آرسینک کا مسئلہ03 May, 2006 | انڈیا کوک پیپسی کا استعمال بطور جراثیم کش06 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||