بہار میں آرسینک کا مسئلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست بہار کے متعدد گاؤوں میں ٹیوب ویل اور کنووں پر آپ کو لال یا نیلا رنگ کیا ہوا نظر آئے گا۔ یہ رنگ اس لیئے کیا گیا ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ کس جگہ کا پانی مضر ہے اور کہاں کا پانی صحت کے لیۓ بے ضرر ہے۔ جو چاپا کل یعنی ٹیوب ویل اور کنواں کو لال رنگ سے رنگا ہو اس کا پانی انتہائی خطرناک اور مضر ہوتا ہے۔ بھوجپور سے لے کر کٹیہار تک ریاست کے گیارہ اضلاع میں گنگا کے کنارے واقع ان گاؤوں میں آرسینک نامی کیمیاوی مادے کی موجودگی معمول سے کافی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے وہاں کے باشندوں کو ’آرسینیکوسس‘ نامی بیماری ہو رہی ہے۔ آرسینک کی زیادہ مقدار پٹنہ ضلع کے منیر علاقے میں بھی پائی گئی ہے۔ آبی ذرائع کو رنگنے کے کام میں مصروف اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ’یونیسیف‘ کے بہار کے رابطہ عامہ کے اہلکار انوپم شریواستو کہتے ہیں کہ گنگا کے دس کیلو میٹر کے دائرے میں بسے ان گاؤوں کے ستر ہزار آبی ذرائع کو نمونے کے طور پر جانچا گیا۔ اس علاقے میں سے دس فی صد یعنی سات ہزار آبی ذرائع کا پانی صحت کے لحاظ سے مضر پایا گیا۔ مسٹر شریواستو نے بتایا کہ ریاست میں چار سال قبل پہلی بار آرسینک کی زیاد تعداد سے ہونے والی بیماری کی شکایت سامنے آئی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ آرسینک کی مقدار اگر پچاس پارٹس فی بلین سے زائد ہو تو اسے صحت کے لیئے مضر تصور کیا جاتا ہے اور بھوجپور اور بکسر میں تو دس فی صد جگہوں پر اس کی مقدار ایک ہزار پارٹس پر بلین سے بھی زائد ملی ہےیعنی خھرناک حد سے بیس گنا زیادہ۔ انہوں نے بتایا کہ آرسینک سے ہونے والے امراض کا سب سے پہلے سنہ 1991 میں بنگلہ دیش میں پتہ چلا۔ دس سال بعد نیپال سے ایسی شکایتیں ملیں اور بہار میں اس طرح کی شکایت سنہ 2002 سے ملنی شروع ہوئیں۔ مسٹر شریواستو کہتے ہیں کہ آرسینک کی شکایت کچھ دوسری ندیوں کے کنارے سے بھی ملی ہیں مگر زیادہ تر دریائے گنگا کے کنارے بسے گاؤوں میں اس سے پریشانی ہو رہی ہے۔ یونیسیف اب آبی ذرائع کو رنگنے کے علاوہ ایسے کنویں بھی کھدوا رہی ہے جس میں آرسینک کی مقدار کم ہو۔
سمستی پور کے ودیا پتی نگر بلاک کے کانچا گاؤں میں آرسینک کی زیادہ مقدار سے وہاں کے باشندے کافی پریشان ہیں۔ گاؤوں والے بتاتے ہیں کہ بیشتر آبی ذرائع کو لال رنگ سے رنگ دیا گیا ہے اور ایسے میں انکے لیے پینے کا پانی بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ کانچا گاؤوں کی طرح کئی گاؤں کے لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ جب زیادہ تر چاپا کل کو لال رنگ سے رنگ دیا گیا ہو تو وہ پینے کا پانی کہاں سے لائیں۔ پٹنہ کے معروف طبی ادارہ اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے کلینکل بایو کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ پروفیسر ڈاکٹر ادئے کمار بتاتے ہیں کہ آرسینک کی زیادہ مقدار سے جِلد کی بیماری عام بات ہے۔ چکر آنا اور الٹی ہونا بھی آر
ماحولیات کے ماہر پروفیسر آر این تریویدی کی رائے ہے کہ زیر زمین پانی میں آرسینک کی زیادہ مقدار کی وجہ ندیوں میں بہایا جانے والا کیمیاوی مادہ، کھیتوں میں استعمال ہونے والا کیمیاوی کھاد، ندیوں میں ریت کا جمع ہونا اور شجرکاری کی کمی ہے۔ | اسی بارے میں سیف الملوک اور کہار کا کیا ہوگا؟08 April, 2006 | Blog ایٹمی فضلہ ’ڈمپ‘ کرنے پر تشویش26 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||