سیف الملوک اور کہار کا کیا ہوگا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(یہ کالم تین مئی دو ہزار چار کو شائع ہوچکا ہے۔ دریا کہانی کے اس سلسلے میں اسے پھر پیش کیا جا رہا ہے۔) آج منرل واٹر صرف خواص کی ضرورت ہے لیکن آنے والے کل میں یہ ہر گھر کی ضرورت بن جائے گا۔ایسا لگتا ہے کہ ماہرین کی یہ پیش گوئیاں سچ لگنے لگیں گی کہ ’مستقبل کی جنگیں تیل کی بجائے پانی کے لیے لڑئی جائیں گی۔‘ اس معدنیاتی پانی کی قیمت آج بھی تیل سے مقابلہ کرتی نظر آتی ہے ذرا تصور کریں جب طلب اور رسد کا فرق بڑھ جائے گا تو پانی کی قیمت کہاں پہنچےگی؟ کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے ابھی سے پانی کے انتظام کے لیے شعبے قائم کر دئیے ہیں تاکہ جب یہ مسلئہ درپیش ہو تو ان کے پاس اسکا حل موجود ہو۔ پانی کے ذخائر محفوظ بنانے اور اسے لمبے عرصے تک قابِل استعمال رکھنے کے لیے بین الاقوامی ادارے سیمنیار منعقد کر رہے ہیں اور ابھی سے اس مسلئہ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ اب دوسری تصویر پاکستان کی ہے جہاں پانی کے ذخائر، دریا، چشمے، جھرنے ۔۔۔ سب کچھ ہے لیکن ہم اپنے ان ذخائر کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں، یہ آپ کسی بھی دریا اور کسی بھی چشمے پر جا کر دیکھ لیں۔
ہمارے ہاں دریا کا سب سے بہترین استعمال یہ ہے کہ جب بھی دریا کسی شہر سے گزر رہا ہو تو سارے شہر کا فضلہ دریا میں پھینک دیا جائے۔ یوں میونسپل ادارے ٹھوس اور مائع فضلہ کو ٹھکانے لگانے کی بہت بڑی ذمہ داری سے بااحسن و خوبی عہدہ براء ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال اور بھی تکلیف دہ ہو جاتی ہے جب پاکستان کے شمالی علاقوں کی طرح صاف اور شفاف پانی میں علاقے بھر کی غلاضت ملتی دیکھتے ہیں۔ ہم اپنے پانی کے ذخائر کو جس بے دردی سے گندہ کر رہے ہیں اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو ضرور بھگتنا پڑے گا۔ مانسہرہ کے مقامی پچہتر سالہ آزاد خان نے مجھ سے کہا ’یہ سب گوروں کی سازش ہے تاکہ ہمیں پانی کی بوتلیں بیچ سکیں، پانی کم نہیں ہوا پانی کا استعمال بڑھ گیا ہے‘۔ ایک تو آبادی بڑھنے سے اور دوسرا نئے طرز زندگی سے، کچھ عرصہ پہلے تک جتنا پانی ایک شخص سارے دن میں استعمال کرتا تھا اب وہی شخص ایک بار فلش میں اس سے زیادہ پانی بہا دیتا ہے۔ میں نے حویلیاں پل کے نیچےدریا میں گاڑیاں دھوتے ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو جب بتایا کہ اس طرح وہ پانی کو آلودہ کر رہے ہیں تو اُن میں سے ایک ڈرائیور محمد نذیر نے کہا کہ یہ تو بہتا پانی ہے۔ ہمارے ایک ٹرک دھونے سے کیسے گندہ ہوسکتا ہے۔ میں نے جب اُسے سمجھانے کی کوشش کی تو اُس نے لاجواب کر دیا۔۔۔۔’ ہم ٹرک دریا میں نہیں دھوئیں گے تو کیا لاہور والے روای اور کراچی والے سمندر کو صاف رہنے دیں گے؟ صاحب اس ملک میں چلنے دیں جیسا چلتا ہے‘۔
ایڈوائزر نیسپاک برائے ماحولیاتی ترقی روالپنڈی بریگیڈیئر (ر) حبیب الرحمن مینجنگ ڈائریکٹر واسا (روالپنڈی) رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسلئہ پر اتنی سنجیدگی سے کام نہیں ہو رہا جس کا یہ متقاضی ہے۔ ’اس وقت روالپنڈی میں تقریباً سات سو ٹن ٹھوس فضلہ جمع ہوتا ہے۔ جس میں سے صرف تین سو پچاس ٹن میونسپل ادارے اٹھاتے اور لینڈفلز میں لے جاتے ہیں، باقی سارا فضلہ شہر ہی میں رہتا ہے اور کسی نہ کسی طرح نالہ لئی پہنچ جاتا ہے۔ مائع فضلہ کی صفائی کے لیے ہمارے پاس پلانٹس نہیں ہیں اس لیے ہم بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے نالہ لئی میں جانے دیتے ہیں اور یہ نالہ آگے جا کر دریائے سواں میں مل کراسے بھی آلودہ کر دیتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ ایشین ڈیویلپمنٹ بنک کے تعاون سے ایک پلان بنا رہے ہیں جس کے تحت ٹھوس اور مائع فضلے کی ٹریٹمنٹ کی جا سکے گی۔ یہ مسلئہ صرف روالپنڈی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر شہر کا تقریباً یہی حال ہے بلکہ شاید اس سے بھی برا۔ اسلام آباد میں اس وقت تین ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس ہیں لیکن یہ مختلف وجوہات کی بنا پر اکثر بند ہی رہتے ہیں اور اسلام آباد سے آنے والا پانی بھی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریائے سواں تک پہنچ جاتا ہے۔ جب صاف ستھرے دارالحکومت کا یہ حال ہے تو سوال یہ ہے کہ سیف الملوک، نیلم اور کہار کے پانیوں کو گندہ ہونے سے کیسے بچائے گا؟ | اسی بارے میں پانی کا بحران، سو ممالک کا اجلاس10 August, 2003 | صفحۂ اول پانی کے بحران کا خطرہ ہے: مشرف13 September, 2003 | صفحۂ اول بڑے شہروں میں صاف پانی کا بحران06 October, 2003 | صفحۂ اول بنگلہ دیش: زہریلے پانی پر کانفرنس 15 February, 2004 | آس پاس ممبئی: منرل واٹر پلانٹ بند13 September, 2003 | آس پاس پانی پیئیں یا بچائیں کیا کیا جائے؟ 29 March, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||