دلت رہنما کانشی رام کا انتقال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلت پارٹی بہوجن سماج پارٹی کے بانی اور دلت سیاست کے علمبردار کانشی رام کا طویل علالت کے بعد کل رات دیر گئے انتقال ہو گیا۔ چوہتر سالہ کانشی رام فالج، ذیا بیطس اور اعصابی دیاؤ سمیت کئی بیماریوں کا شکار تھے۔ ان کی آخری رسوم پیر کی شام دلی میں بدھ مت کی رسوم کے مطابق ادا کی گئیں۔ان کی شاگرد اور جانشیں مایا وتی نے بتایا کہ مرحوم رہنما کی راکھ کو کسی دریا میں نہیں بہایا جائے گا بلکہ مسٹرکانشی رام کی خواہش کے مطابق اسے لکھنؤ اور دلی میں پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز پر رکھا جائے گا۔ کانشی رام پنجاب کے روپڑ ضلع کے ایک گاؤں میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ انہیں جدید ہندوستان میں بھیم راؤ امبیڈکر کے بعد دلت سماج کا سب سے بڑا رہنما تصور کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے1970 کی دہائی میں دلت سیاست کا آغاز کیا، برسوں کی محنت کے بعد بہوجن سماج پارٹی کی تشکیل کی اور اسے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا- اپنے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے خود کبھی کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ کانشی رام اگرچہ ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ بہوجن سماج پارٹی کا واحد مقصد اقتدار حاصل کرنا ہے لیکن وہ ذات پات پرمبنی ہندوستانی معاشرے میں ہمیشہ دلتوں کے حقوق اور سماجی برابری کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی قیادت میں بی ایس پی نے1999 پارلیمانی انتخابات میں 14 سیٹیں حاصل کی تھیں۔1995 مین اتر پردیش میں ان کی سیاسی شاگرد مایاوتی وزیر اعلی بنیں۔ بی ایس پی کا اثرآج اتر پردیش کے علاوہ پنجاب اور مدھیہ پر دیش تک پھیلا ہوا ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کانشی رام ایک ماہر سیاست دان تھے اور دلتوں میں ان کا خاصا اثر تھا۔ وہ ایک بار اتر پردیش اور ایک بار پنجاب سے رکن پارلیمنٹ بھی چنے گئے۔ انہوں نے شادی نہیں کی تھی اور وہ آخری وقت تک تنازعے میں محصور رہے۔ ان کی بہن اور بھتیجے نے یہ الزام لگایا تھا کہ مایاوتی نے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ انہیں مسٹر کانشی رام سے ملنے نہیں دے رہی ہیں۔ ان کے گھر والوں نے عدالت کے حکم کے بعد اور پولیس کے تحفظ میں ان کی آخری رسوم میں شرکت کی۔ کانشی رام نے اپنے پیچھے دلت سیاست اور جدوجہد کی ایک طویل وراثت چھوڑی ہے۔ان کے انتقال پر سبھی سیاسی جماعتوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کانشی رام کی موت پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ ’انہیں معاشرتی تبدیلی کی بہت اچھی سمجھ تھی۔ انہوں نے معاشرے کے مختلف محروم طبقات کو متحد کیا اور انہیں ایک ایسا سیاسی پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں سے ان کی آواز سنی جا سکے۔‘ | اسی بارے میں یہ بھی ہے انڈیا، دلتوں کا بائیکاٹ24 January, 2005 | انڈیا دلتوں سے امتیازی سلوک جاری ہے 06 December, 2005 | انڈیا ریزرویشن کی سیاست16 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||