عصمت دری، سسر کو10 سال قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ایک عدالت نے اترپردیش کی عمرانہ خاتون کے سسر علی محمدکو ان کی عصمت دری کا مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت نے جرم کی نوعیت کے مطابق انہیں 10 برس کی قید کی سزا سنائی ہے۔ عمرانہ کا واقعہ گزشتہ برس جون میں پیش آیا تھا اور بعض مقامی مفتیوں نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ سسر کے ذریعے جنسی زیادتی کے نتیجے میں عمرانہ اور ان کے شوہر کے رشتے ختم ہوگئے۔ گزشتہ برس اترپردیش کے شہر مظفر نگر کی عمرانہ خاتون نے اپنے گاؤں کی پنچایت میں اپنے سسر محمد علی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ان کے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔ پنچایت نے شریعت کے نام پر یہ فیصلہ سنایا تھا کہ سسر محمد علی کے جرم کا فیصلہ تو ملک کی عدالت کرے گی لیکن جنسی زیادتی کے سنگین الزام کے بعد عمرانہ اپنے خاوند کے ساتھ نہیں رہ سکتی کیونکہ ان کا نکاح ٹوٹ چکا ہے۔ پنچایت کے اس فیصلے سے زبردست تنازعہ پیدا ہوا تھا اور میڈیا میں اس واقعہ کی ملک گیر شہرت ہوئی تھی۔ علماء اور مفتی بھی عمرانہ اور ان کے شوہر کے تعلقات کے بارے میں شرعی پوزیشن پر منقسم تھے۔ جمعرات کو مظفر نگر کی زیلی عدالت نے محمد علی کو آبروریزی کا مجرم قرار دیا ہے اور انہیں 10 برس کی سزائے قید سنائی ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ بہتر ہوگا کہ اس کا فیصلہ متاثرہ میاں بیوی پر چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ایک مسلک کے مطابق کوئی بھی حرام چیز حلال چیز کو حرام نہیں قرار نہیں دیتی ہے۔ اس لۓ عمرانہ اور ان کے شوہر کا رشتہ باقی رہنا درست ہے۔‘ دوسری جانب مسلم خواتین کی تنظیموں نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کسی جمہوری ملک میں جرائم کا فیصلہ صرف حکومت کی قائم کردہ عدالتیں کريں گي۔ اور کسی بھی شخص اور ادارے کو غیر قانونی طریقے سے فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ غیرسرکاری تنظیم ’تحریک‘ کی کارکن نعیش حسن کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے مسلم خواتین کے حقوق کی جیت ہوئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ’شریعتیں الگ الگ ہوسکتی ہیں۔ ہرجگہ شریعتیں الگ ہوتی ہیں۔ اور ہم شریعت کو آخری قانون نہیں مان سکتے ہیں۔‘ وہ کہتی ہیں: ’ہندوستان جیسے ملک ميں ہم کسی بھی جرم کا شریعت کے حساب سے فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسے فیصلے ہمیں قانون پر چھوڑ دینے چاہیئں۔‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ عمرانہ کا کیس شریعت اور قانون کی پیچیدگیوں میں پھنسا رہا ہے اور آج انصاف کی جیت ہوئی ہے۔ پانچ بچوں کی ماں عمرانہ خاتون مغربی اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہائش پزیر ہیں۔ ان کے سسر کو اپنے کیے کی سزا مل گئی لیکن اب بھی ان کی مشکلیں ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں کیونکہ مقامی مولویوں کے فیصلے اپنی جگہ قائم ہیں۔ | اسی بارے میں زنا بالجبر:ملزم عدالت میں ہلاک 13 August, 2004 | انڈیا شوہر سے طلاق، سسر سے شادی15 June, 2005 | انڈیا جنسی زیادتی: پانچ ملزمان کو عمر قید24 June, 2005 | انڈیا بھارت: چلتی کار میں گینگ ریپ20 July, 2005 | انڈیا ریپ: کانسٹیبل کو بارہ سال کی قید03 April, 2006 | انڈیا آبروریزی کیس، 10 دن میں سزا12 April, 2006 | انڈیا ’ریپسٹ سےشادی نہیں کروں گی‘04 May, 2005 | انڈیا رکن پارلیمان کودس سال قیدکی سزا 12 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||