BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 15:38 GMT 20:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عصمت دری، سسر کو10 سال قید

عمرانہ خاتون عدالت جاتے ہوئے
ہندوستان کی ایک عدالت نے اترپردیش کی عمرانہ خاتون کے سسر علی محمدکو ان کی عصمت دری کا مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت نے جرم کی نوعیت کے مطابق انہیں 10 برس کی قید کی سزا سنائی ہے۔

عمرانہ کا واقعہ گزشتہ برس جون میں پیش آیا تھا اور بعض مقامی مفتیوں نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ سسر کے ذریعے جنسی زیادتی کے نتیجے میں عمرانہ اور ان کے شوہر کے رشتے ختم ہوگئے۔

گزشتہ برس اترپردیش کے شہر مظفر نگر کی عمرانہ خاتون نے اپنے گا‎ؤں کی پنچایت میں اپنے سسر محمد علی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ان کے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔

پنچایت نے شریعت کے نام پر یہ فیصلہ سنایا تھا کہ سسر محمد علی کے جرم کا فیصلہ تو ملک کی عدالت کرے گی لیکن جنسی زیادتی کے سنگین الزام کے بعد عمرانہ اپنے خاوند کے ساتھ نہیں رہ سکتی کیونکہ ان کا نکاح ٹوٹ چکا ہے۔

پنچایت کے اس فیصلے سے زبردست تنازعہ پیدا ہوا تھا اور میڈیا میں اس واقعہ کی ملک گیر شہرت ہوئی تھی۔ علماء اور مفتی بھی عمرانہ اور ان کے شوہر کے تعلقات کے بارے میں شرعی پوزیشن پر منقسم تھے۔

جمعرات کو مظفر نگر کی زیلی عدالت نے محمد علی کو آبروریزی کا مجرم قرار دیا ہے اور انہیں 10 برس کی سزائے قید سنائی ہے۔

عمرانہ کے سسر جنہیں دس سال کی قید کی سزا سنائی گئی
جرم کا فیصلہ تو عدالت نے سنا دیا لیکن علماء اور مفتی اس سوال پر اب بھی مشترکہ شرعی فیصلہ کرنے میں نا کام رہے ہیں کہ عمرانہ اور ان کے شوہر کے رشتے کا کیا ہو۔ میاں بیوی دنیا کے دیگر انسانوں کی طرح اس اذیت ناک واقعہ سے نکل کر نئے سرے سے زندگی شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن مقامی مولویوں اور مفتیوں کے فیصلے ان کے لۓ مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ بہتر ہوگا کہ اس کا فیصلہ متاثرہ میاں بیوی پر چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ایک مسلک کے مطابق کوئی بھی حرام چیز حلال چیز کو حرام نہیں قرار نہیں دیتی ہے۔ اس لۓ عمرانہ اور ان کے شوہر کا رشتہ باقی رہنا درست ہے۔‘

دوسری جانب مسلم خواتین کی تنظیموں نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کسی جمہوری ملک میں جرائم کا فیصلہ صرف حکومت کی قائم کردہ عدالتیں کريں گي۔ اور کسی بھی شخص اور ادارے کو غیر قانونی طریقے سے فیصلے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

غیرسرکاری تنظیم ’تحریک‘ کی کارکن نعیش حسن کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے سے مسلم خواتین کے حقوق کی جیت ہوئی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ’شریعتیں الگ الگ ہوسکتی ہیں۔ ہرجگہ شریعتیں الگ ہوتی ہیں۔ اور ہم شریعت کو آخری قانون نہیں مان سکتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ہندوستان جیسے ملک ميں ہم کسی بھی جرم کا شریعت کے حساب سے فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسے فیصلے ہمیں قانون پر چھوڑ دینے چاہیئں۔‘

انہوں نے مزید کہا ہے کہ عمرانہ کا کیس شریعت اور قانون کی پیچیدگیوں میں پھنسا رہا ہے اور آج انصاف کی جیت ہوئی ہے۔

پانچ بچوں کی ماں عمرانہ خاتون مغربی اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہائش پزیر ہیں۔ ان کے سسر کو اپنے کیے کی سزا مل گئی لیکن اب بھی ان کی مشکلیں ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں کیونکہ مقامی مولویوں کے فیصلے اپنی جگہ قائم ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد