ریپ: کانسٹیبل کو بارہ سال کی قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی ایک عدالت نے پولیس کانسٹیبل سنیل مورے کو کالج کی ایک سترہ سالہ طالبہ کے ریپ کا مجرم قرار دیتے ہوئے بارہ سال قید بامشقت اور چھبیس ہزار پانچ سو روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ پیر کے روز سنایا۔ سرکاری وکیل اجول نکم نے عدالت میں جج یو کے چاندیوال سے اپیل میں کہا کہ ریپ کی زیادہ سے زیادہ سزا دس سال ہے لیکن چونکہ یہ کام قانون کے رکھوالے نے کیا ہے جسے عوام کے تحفظ کے لیئے متعین کیا گیا ہے اس لیئے یہ ایک انتہائی سنگین جرم ہے اور اس کی سزا زیادہ ہونی چاہیئے۔ سرکاری وکیل اجول نکم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس کیس میں کوئی عینی شاہد نہیں تھا اس لیئے اس کیس کو انہوں نے واقعاتی شواہد پر ثابت کیا اور پولیس کانسٹیبل کو دی گئی اس سزا سے عوام میں ایک بار پھر پولیس پر اعتماد بحال ہوگا۔ عدالت نے مورے کو غیر قانونی طور پر لڑکی کو پولیس چوکی میں بند کرنے، پھر ڈیوٹی پر شراب پی کر کم سن لڑکی کی عصمت دری کرنے اور اس کے بعد اسے جان سے مارنے کے دھمکی دینے کا مجرم قرار دیا۔ مورے شادی شدہ ہے اور جب اس نے یہ جرم کیا تھا اس وقت اس کی بیوی آٹھ ماہ کے حمل سے تھی۔ یہ حادثہ اکیس اپریل سن دو ہزار پانچ کا ہے جب عصمت دری کی شکار طالبہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ممبئی کے ساحلی علاقہ نریمان پوائنٹ تفریح کے لیئے گئی تھی۔ پولیس میں درج ایف آئی آر اور گواہان کے مطابق ممبئی کے نریمان پوائنٹ پر پولیس چوکی میں موجود مورے نے دیکھا کہ سامنے ایک جوڑا بیٹھا ہے اس نے وہاں بلڈنگوں میں تعنیات دو سکیورٹی گارڈز کو اس لڑکی اور اس کے دوست کو ساتھ پکڑ کر لانے کے لیئے کہا۔ خوفزدہ لڑکی اور اس کے دوست کو ڈانٹنے کے بعد مورے نے لڑکے سے کہا کہ وہ اسی وقت لڑکی کو چھوڑے گا جب وہ کچھ روپے اسے لا کر دے، لڑکی کا دوست پیسہ لانے گیا اور اس دوران مورے نے چوکی کا دروازہ بند کر کے لڑکی کا ریپ کیا۔ لڑکی کی چیخیں سن کر راہگیروں نے چوکی کا دروازہ توڑ دیا، وہاں کی حالت دیکھ کر لوگ سمجھ گئے کہ لڑکی کا ریپ کیا گیا ہے لیکن شراب کے نشے دھت میں مورے نے سب کو دھمکایا کہ وہ پولیس کانسٹبل ہے اور کوئی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ ممبئی میں جو عورتوں کے لیئے انڈیا کا سب سے زیادہ محفوظ شہر سمجھا جاتا ہے، پولیس اہلکار کے ذریعہ کیے گئے اس فعل سے شہری دہل گئے تھے اور پھر مشتعل عوام نے پولیس چوکی کو تہس نہس کر ڈالا۔ جائے وقوع پر پولیس کمشنر سمیت اعلی پولس افسران پہنچے تھے اور انہوں نے عوام کی جم غفیر کو یقین دلایا تھا کہ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کمشنر اے این رائے نے مورے کو پہلے معطل کیا پھر پولیس فورس سے برطرف کر دیا۔ ممبئی کے عوام اور کئی سماجی تنظیموں نے عدالت کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔ خواتین کی تنظیم ’آواز نسواں‘ کی صدر حسینہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلہ سے مطمئن ہیں اور پولیس نے جس طرح اس کیس میں جلد تفتیش کی اسی طرح دیگر التواء میں پڑے کیسوں پر بھی اسے دھیان دینا چاہئے۔ انڈیا میں ریپ کی سزا سات سے دس سال کی دی جاتی ہے لیکن عدالتوں کا فیصلہ بہت تاخیر سے سامنے آتا ہے کیونکہ عدالتوں میں ایسے کئی کیس التواء میں ہیں اور پولیس تفتیش بہت دھیمی رفتار سے چلتی ہے۔ | اسی بارے میں ’ریپسٹ سےشادی نہیں کروں گی‘04 May, 2005 | انڈیا شوہر سے طلاق، سسر سے شادی15 June, 2005 | انڈیا جنسی زیادتی: پانچ ملزمان کو عمر قید24 June, 2005 | انڈیا بھارت: چلتی کار میں گینگ ریپ20 July, 2005 | انڈیا زنا بالجبر:ملزم عدالت میں ہلاک 13 August, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||