آبروریزی کیس، 10 دن میں سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راجستھان میں ایک عدالت نے پچھلے مہینے جرمنی کی ایک طالبہ کی عصمت دری کے جرم میں ایک شخص کو سات سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ بدھ کو الور کی عدالت نے مجرم بی موہنتی کو قید کی سزا کے ساتھ دس ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزم بی موہنتی اڑیسہ کے ایک اعلٰی پولیس افسر کے بیٹے ہیں۔ اس واقعہ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پورے کیس کی سماعت اور فیصلہ سنانے میں عدالت کو صرف دس دن کا وقت لگا اور یہ انڈیا کی عدالتی تاریخ کے ان چند معاملات میں سے ہے جن کے فیصلے میں اتنا کم وقت لگا ہے۔ عصمت دری کا یہ واقعہ پچھلے مہینے کی بیس تاریخ کو ہوا تھا اور عصمت دری کا شکار ہونے والی جرمن لڑکی برلن یونیورسٹی کی طالبہ تھیں اور وہ اپنی تحقیقی پراجیکٹ کے سلسلے میں ہندستان آئی تھیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کی عصمت دری الور کے ایک ہوٹل میں کی گئی اور مجرم موہنتی سے ان کی ملاقات الور میں ہی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے بارے میں پولیس کے پاس اپنی شکایت درج کرانے کے بعد وہ جرمنی چلی گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہیں انڈیا سے مسلسل دھمکی آمیز فون کالیں ملتی رہیں۔ موہانتی کے وکیل راجیو بھارگو کا کہنا ہے کہ ان کا مؤکل بےقصور ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ جج نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ موہنتی کا یہ پہلا جرم ہے اس لیے ان کو ان کے جرم کے حساب سے نسبتاً کم سزا دی گئی ہے۔ راجستھان میں ایک سال کے اندر کسی جرمن شہری کی آبروریزی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ سال مئی میں جرمنی کی ایک سیاح کے اغوا اور عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا تھا اور اس واقعہ میں دونوں مجرموں کو عدالت نے عمر قید کی سزا دی تھی۔ | اسی بارے میں جرم چھوڑو پیسے لو 28 March, 2006 | انڈیا بھارت: چلتی کار میں گینگ ریپ20 July, 2005 | انڈیا شوہر سے طلاق، سسر سے شادی15 June, 2005 | انڈیا دِلی کے ہسپتالوں میں بڑھتے جرائم28 October, 2004 | انڈیا بھارتی بیواؤں کے حالِ زار کی کہانی09 September, 2004 | انڈیا بھارت میں برسوں بعد موت کی سزا14 August, 2004 | انڈیا اپیل مسترد، قاتل کو پھانسی ہوگی12 August, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||