BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 October, 2004, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دِلی کے ہسپتالوں میں بڑھتے جرائم

دلی
ہندوستان کے دارلحکومت دلی کے ہسپتال مختلف وارداتوں کا مرکز بنے ہوۓ ہیں۔ نوزائیدہ بچوں کی چوری اور قتل سے لیکر مریضوں اور نرسوں کی آبروریزی جیسی سنگین وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ان ہسپتالوں میں آنے والے مریض ہی نہیں بلکہ یہاں کے ملازم بھی اب خوف کا شکار ہیں۔ خصوصاً وہ ڈاکٹراور نرسیں جو اکثر رات کی ڈیوٹی کرتے ہیں ۔شیلا جوزف دلی کے ایک سرکاری ہسپتال صفدرجنگ میں بطور نرس کام کرتی ہیں۔انہوں نے نے بتایا کہ ہسپتالوں میں مریضوں ، ڈاکٹروں اور نرسوں کے لۓ جتنے حفاظتی انتظامات ہونے چاہیۓ اتنے نہیں ہیں جسکے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔

گزشتہ ایک سال میں ہسپتالوں میں تقریبا ہر مہینے کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آیا ہے ۔ جون 2003 میں دلی کے سب سے بڑے ایمز ہسپتال میں وہیں کے دو ملازموں نے اٹھائیس سال کی ایک لڑکی کی عصمت دری کی اور چند مہینے بعد دلی کے ہولی اینجلز ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے پندرہ سال کی بچی کو جنسی حملے کا نشانہ بنایا۔ اس سال کے اوائل میں پچپن سال کی ایک عورت کی لاش دلی کے روہنی علاقے کے ایک سرکاری ہسپتال میں پائی گئی اور اسی طرح صفدرجنگ ہسپتال کی ایک نرس کو جنسی طور پر پریشان کیا۔

دلی کے ایک سرکاری ڈاکٹر اتل رستوگی ان واقعات کے لئے معاشرے کو ذمےدار قرار دیتے اور اس بات سے صاف انکار کر تے ہیں کہ ہسپتال غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔

اس مہینے پورا شہر ایک بار پھر سکتے میں آگیا جب دلی کے وم ہینس ہسپتال میں ایک مریض کی تیمارداری کے لئے رکھی گئی نرس کی آبروریزی وہاں کے ایک صفائی کرنے والے ملازم نے کی۔ ہسپتال کے چیف ایڈمنیسٹریٹر آر پی ارورا نے کہا کہ ایسا واقعہ ان کے ہسپتال میں پہلی بار ہوا ہے۔ وہاں کے ایک سیکیورٹی گارڈ نے بتایاکہ اس واقعہ کے بعد ہسپتال میں سکیورٹی گارڈوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

بیشتر ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات نجی اداروں کے ذمے ہوتے ہیں ۔ ڈپٹی پولیس کمیشنر پرویر رنجن کہتے ہیں کہ ہسپتالوں کے اطراف میں پولیس کا اچھا انتظام ہوتا ہے لیکن پولیس ہسپتالوں میں لوگوں کی بھرتی یا وہاں کے حفاظتی انتظامات میں دخل نہیں دیتی کیونکہ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے ۔ مسٹر رنجن نے بتایا کہ اب کچھ سرکاری ہسپتالوں نے ملازموں کی شناخت کی توثیق کے لئے علاقائی پولیس اسٹیشنوں سے رابطہ قائم کرنا شروع کیا ہے۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کوئی واقعہ رونما ہونے کے بعد ہی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے۔ لیکن شہریوں کا کہنا ہے کا ہسپتالوں میں بڑھتے ہوۓ جرائم کے واقعات کے پیش نظراب ایک مستقل اور منظم حفاظتی انتظام ضروری ہوتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد