BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 August, 2004, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلّی:سیاحوں کے لیے پولیس دستہ
سیاحوں کے لیے پولیس دستہ
خصوصی پولیس دستے کو جامع مسجد پر بھی تعینات کیا جائےگا۔
بھارت کے دار الحکومت نئی دہلی میں سیاحوں کی حفاظت کے لیے ایک نیا پولیس دستہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

چھ ماہ پہلے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ہاتھوں ایک 59 سالہ آسٹریلیائی عورت کے قتل کے بعد سیاحوں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی پولیس دستہ بنانے کے منصوبے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا تھا۔

دلّی میں پچھلے کچھ سالوں میں جرم میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا نشانہ عورتیں بنتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دلّی کو سیاحوں کے لیے محفوظ بنانے کے لیے یہ دستہ نیم فوجی دستوں کے مختلف محکموں کے اہلکاروں پر مشتمل ہوگا۔

دلّی پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دستے کے اہلکار انگریزی بولنا جانتے ہونگے اور انہیں شہر کے ایسے علاقوں میں تعینات کیا جائےگا جہاں سیاح اکثر جاتے ہیں۔ ان میں لال قلعہ، جامع مسجد اور شہر کے ہوائی اڈے اور ریلوے سٹیشن شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں پولیس کی گاڑیاں تعینات کی جائیں گی جن میں تقریباً چار پولیس اہلکار ہونگے جن کا مقصد سیاحوں کی مدد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جرم روکنے کے علاوہ اس پولیس دستے کا مقصد سیاحوں کو بھکاریوں اور ریڑھی بانوں سے بچانا بھی ہوگا۔

پچلھے سال بھارت آنے والے تیس لاکھ سیاحوں میں سے تقریباً ایک تہائی دلّی آئے تھے۔

دلّی کے علاوہ گوا اور کیریلا میں ایسے دستے پہلے سے ہی موجود ہیں۔

تاہم بھارت کی وزیر سیاحت رینوکا چودھری کا کہنا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ یہ تمام اقدامات بین الاقوامی معیار پر پورے اتریں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد