سیاسی کشمکش اور معاشی ترقی کا سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے لیے سنہ 2006 مشکلات، سیاسی ہلچل اور ترقی کا ملا جلا سال رہا۔ نئے سال میں حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی کو راج ناتھ سنگھ جیسے سخت گیر رہنماکی قیادت حاصل ہوئی۔ جنوری میں ہی ایک طویل عرصے کے بعد ہندوستان کی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پرگئی۔ مارچ کا مہینہ مشکلات اور سیاسی کشمکش کا مہینہ تھا۔ مارچ کے اوائل میں شدت پسندوں نے بنارس کے ایک اہم ہندو مندر پر حملہ کیا۔ اسی مہینے میں ارکان پارلیمان کے دو عہدوں پر فائز ہونے کا تنازعہ اٹھا اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استغفی دے کر مئی میں دوبارہ انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ مارچ ہی میں سپریم کورٹ نے بیسٹ بیکری کی اصل گواہ ظاہرہ شیخ کوجھوٹ بولنے کےالزام میں ایک سال کی قید کی سزا سنائی۔ یکم مارچ کو امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش ہندوستان کے دورے پر آئے اور اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان جوہری تعاون کے اس معاہدے پر ابتدائی مسودے پر دستخط کیےگئے جس کی منظوری سال کے اختتامی مہینے میں صدر بش نے معاہدے پر دستحظ ثبت کر کے دی۔
فروری میں فرانس کے صدر ژاک شیراک بھی ہندوستان آئے اور نئے دفاعی معاہدوں پر دستخط بھی کیےگئے لیکن نومبر کے آخر میں چین کے صدر ہوجن تاؤ کا دورہ بہت اہم ثابت ہوا اور دونوں ملکوں نے آئندہ چار برس میں باہمی تجارت موجودہ 20 ارب ڈالر سے 40 ارب ڈالر تک پہنچانے کا عہد کیا۔ سنہ 2006 سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ کے لیے بہت برا سال رہا۔ عراق میں خوراک برائے تیل کے معاملے میں نام آنے کے سبب اپنی سیاسی زندگی کے عروج پر ہی ان کا زوال ہو گیا اور انہیں کانگریس سے خارج کر دیا گیا۔ گیارہ جولائی کو ہندوستان کی تاریخ میں دہشت گردی کا دوسرا سب سے بڑا واقعہ رونما ہوا جب ممبئی کی کئی ٹرینوں میں ایک ساتھ بم دھماکے ہوئے۔ان دھماکوں میں دو سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے چند ہفتے بعد ہی مہاراشٹر کے مالیگاؤں شہر کی ایک مسجد میں بھی دھماکہ ہوا جس کے سلسلے میں متعدد مقامی مسلمانوں کو گرفتار بھی کیاگیا۔
بم دھماکوں، دہشت گردی اور میڈیا میں مسلمانوں کے منفی امیج کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان کافی دباؤ میں رہے۔ اکتوبر میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء اور دانشورں نے دلی میں ایک کانفرنس بلائی جس میں دہشت گردی کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دہشت گردی اور انفرادی تخریب کاری کی بنا پر مسلم برادری کو اجتماعی طور پر نشانہ نہ بنائے۔ مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لینے کے لۓ حکومت نے مارچ میں جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے 17 نومبر کو جو رپورٹ پیش کی اس میں بتایا گیا کہ مسلمان ملک کی دیگر تمام برادریوں سے زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ 2006 میں ہی پارلیمنٹ پر حملے کے جرم میں محمد افضل گرو کو عدالت نے سزائےموت سنائی جس کے بعد افضل نے صدر سے رحم کی اپیل کی۔ اب بی جے پی اور اس کی ہم نوا جماعتیں افضل کو جلد از جلد پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ کئی دانشوروں اور حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ افضل کے مقدمے کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے رشتوں میں یہ نشیب و فراز کا برس تھا۔ سال کا آغاز پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی ’ڈی ملٹرائزیشن‘ کی تجویز سے ہوا۔ مذاکرات معمول کے مطابق چل رہے تھے، حالات کافی سازگار تھے کہ اچانک ممبئی ٹرین دھماکوں نےصورتحال بدل دی۔ ہندوستان نے اس سازش کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ بات چیت معطل اور ماحول کشیدہ ہوگيا۔ لیکن سال کے اختتام تک جمود ٹوٹ گیا اور صدر مشرف نے ایک نئی تجویز پیش کی۔ بات چیت دوبارہ شروع ہوئی اور مستقبل کے لیے فضا کافی سازگار ہوگئی ہے۔ اس برس بھی نکسلی تحریک کا زوررہا۔ ماؤ نواز انتہاپسندوں نے ملک کی کئی ریاستوں میں خونریز حملے کیے۔ نکسلی تحریک پر قابو پانے کے لیے پورے ملک کے ریاستی پولیس سربراہوں کی ایک کانفرنس بھی منعقد کی گئی اور ایک مشترکہ حکمت عملی بنائی گئی۔
ستمبر میں 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے مقدمے کی سماعت مکمل ہوئی اور 123 میں سے 100 ملزموں کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت قصوروار قرار دیاگیا۔ ان میں فلم اداکار سنجے دت بھی تھے جنہیں غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کا قصوروار پایا گیا۔ نومبر میں دلی کی ایک عدالت نے مرکزی وزیر شیبو سورین کو اپنے سیکریڑی کے قتل کا مجرم قرار دیا اور انہیں عمر قید کی سزا دی گئی۔ سابق کرکٹر اور رکن پارلیمنٹ نوجوت سنگھ سدھو بھی کٹہرے تک جا پہنچے اور انہیں غیر ارادی قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ 2006 میں ریلوے کے وزارت کی تشکیل کردہ یو سی بنرجی کمیٹی نے گودھرا پر اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ گودھرا میں ٹرین کے ایک ڈبے میں آگ لگنے کی وجہ کوئی حملہ نہیں بلکہ یہ محض ایک حادثہ تھا۔ بعد میں عدالت نے اس رپورٹ کو تکنیکی بنیادوں پر غیر ائینی قرار دیا۔
اس برس معلومات کے حق کے بل نے قانون کی شکل اختیار کی۔ دیہی علاقوں میں روزگار کی ضمانت کی ایک سکیم شروع کی گی۔ ملک کے اعلٰی تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے لیے27 فیصد سیٹیں مخصوص کرنے سے متعلق بل لوک سبھا میں منظور ہو چکا ہے اور راجیہ سبھا میں منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔ تاہم حکومت کی کئی سکیموں کے باوجود مہاراشٹرا، آندھرا پردیش اور ملک کے بعض دیگر ریاستوں میں غربت اور افلاس کی وجہ سے کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ جاری رہا۔ درسری جانب ملک کی صنعتوں، سروسز اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں زبردست ترقی ریکارڈ کی گئی۔ ملک اس برس مقررہ حد سے زیادہ کی ترقی کی شرح حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یوں مجموعی طور پر سال 2006 ہندوستان کے لیے ایک مثبت برس تھا۔ |
اسی بارے میں تیل برائے خوراک: نٹور سنگھ معطل09 August, 2006 | انڈیا مہاراشٹرا: کسانوں کی مالی مدد21 June, 2006 | انڈیا سونیا کی جیت یا کانگریس کا عروج11 May, 2006 | انڈیا ’جوہری پروگرام متاثر نہیں ہوگا‘18 December, 2006 | انڈیا ہندوستان اور چین : دشمنی سے دوستی کا سفر21 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||