سونیا کی جیت یا کانگریس کا عروج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزمیں حکمران کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے شمالی ہند کی ریاست اترپردیش میں واقع رائے بریلی پارلیمانی حلقے کا الیکشن ریکارڈ ووٹوں سے جیت لیاہے۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی کے امیدوار کو 4 لاکھ 17ہزار 888 ووٹوں سے شکست دی۔ اس جیت سے اترپردیش میں کانگریس کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور اسے اترپردیش میں ہونے والے اگلے اسمبلی الیکشن کے لیے کانگریس کا بہتر آغاز سمجھا جارہا ہے۔ رائے بریلی کے پارلیمانی حلقے میں آزادی کے بعد پہلے پارلیمانی انتخاب (1952) سے لیکر اب تک کی یہ سب سے بڑی جیت ثابت ہوئی۔ 2004 کے انتخابات میں مسز گاندھی اس حلقے سے 2 لاکھ 49 ہزار ووٹوں کے کامیاب ہوئی تھیں۔ کانگریس کی صدر کے سب سے قریبی حریف حکمراں سماج وادی پارٹی کے امیدوار کو 57 ہزار تین ووٹ ملے جبکہ فائربرانڈ بی جے پی لیڈر ونے کٹیار تیسرے نمبر پر رہے۔ اس حلقے میں 8 مئی کو پولنگ ہوئی تھی جس میں 5 لاکھ 90 ہزار 20ووٹروں نے اپنے حق رائےدہی کا استمعال کیا تھا۔
واضع رہے کہ مارچ 2006 میں رکن پارلیمان ہونے کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر مالی فائدہ والے دیگر عہدہ پر فائز ہونے کے سبب اپوزیشن نے سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن قبل اس کے کہ اپوزیشن اپنی مہم کو تیز کرتی سونیا گاندھی نے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔ تاریخی اعتبار سے رائے بریلی کانگریس پارٹی کا گڑھ رہا ہے اور یہاں سولہ بار پارلیمانی انتخایات میں 13 بار کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔1952 کے پہلے پارلیمانی انتخابات میں سونیا گاندھی کے سسر اور آنجہانی اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی نے یہاں سے فتح حاصل کی تھی اور پھر اندرا گاندھی اس حلقے میں کافی مقبول رہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کی صدر سونیاگاندھی کی ریکارڈ جیت اترپردیش میں کانگریس کے امکانات کے دروازے کھول سکتی ہے۔
ریاستی کانگریس کے سینئر لیڈر پرمود تیواری نے کہا کہ ’یہ راہول گاندھی کی کامیاب مینبجمنٹ اور پرینکا گاندھی کی محنت کی جیت ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’رائے بریلی کے عوام نے عہد کر لیا تھا کہ سونیا جی کی قربانی کو وقار عطا کرنا ہے‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی اس ریاست میں کانگریس گزشتہ 17 سالوں سے اقتدار سے باہر ہے۔ اس عرصے میں یہاں کی کانگریس پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ ریاستی کانگریس کے صدر سلمان خورشید نے بی بی سی سےگفتگو میں کہا کہ ’ہمیں راہول گاندھی کی قیادت میں اترپردیش کی سیاست کو جنجھوڑ دینا ہوگا۔ سونیا گاندھی کی جیت نے سبھی کے حوصلے بلند کر دیے ہیں‘۔ اترپردیش میں کانگریس کے انچارج اشوک گہلوت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ 2007 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس کی یہ شاندار شروعات ہے۔
اتر پردیش میں سونیاگاندھی کی شاندار فتح نہ صرف سونیا گاندھی کی ذاتی اور اخلاقی جیت ہے بلکہ اس نے کانگریس کی صفوں میں ایک ہلچل پیدا کردی ہے۔ اس جیت سے سونیا کے خلاف حزب اختلاف کی نکتہ چینیاں اب ماند پڑ گئی ہیں۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ سونیا کی جیت کی خبر آتے ہی کانگریس کے ارکان پارلیمان سمیت کئی حلقوں سے یہ مطالبہ کیا جانے لگاہے کہ سونیا گاندھی وزیر اعظم کا عہدہ قبول کریں۔ ان کی اس جیت کے ساتھ ہی کانگریس نے مستقبل کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں انتخابات: ایک دن باقی، ہلچل میں کمی 20 April, 2006 | انڈیا آسام کے انتخابات میں پولنگ مکمل04 April, 2006 | انڈیا آسام کے انتخابات میں پولنگ شروع03 April, 2006 | انڈیا پانچ ریاستوں میں انتخابات 01 March, 2006 | انڈیا انتخابات کے لیے رقم حکومت دےگی23 December, 2005 | انڈیا بڑودہ فسادات اور ہندو مسلم تفریق09 May, 2006 | انڈیا رائے بریلی: گرمی سے پولنگ کم08 May, 2006 | انڈیا سونیا گاندھی، بایاں محاذ کامیاب11 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||