BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 May, 2006, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سونیا گاندھی، بایاں محاذ کامیاب

سونیا گاندھی انتخابی مہم کے دوران
ہندوستان کی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رحجانات میں مغربی بنگال اور کیرالہ میں بائیں محاذ کو جبکہ تامل ناڈو، پانڈیچیری اور آسام میں کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو برتری حاصل ہے۔


سونیا گاندھی کی فتح
کانگریس کی صدر سونیا گاندھی رائے بریلی حلقے سے چار لاکھ سترہ ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیاب رہیں۔ مبصرین اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں کبھی کسی نے اس سے زائد ووٹوں سے انتخاب جیتا ہے یا نہیں۔

سونیا کے حریفوں میں سے سب کی ضمانت ضبط ہوگئی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں وہ ڈھائی لاکھ ووٹوں سے کامیاب رہی تھیں۔

مغربی بنگال: بائیں بازو کی پھر کامیابی
ادھر مغربی بنگال میں برسر اقتدار بایاں محاذ ایک بڑی جیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسمبلی کی 293 سیٹوں میں دو سو تئیس پر محاذ کو برتری تھی۔ کیرالہ میں بھی توقع کے مطابق بایاں محاذ دو تہائی اکثریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

تامل ناڈو - جے للیتا شکست کی جانب
سب سے زیادہ دلچسپ رحجانات تامل ناڈو سے آرہے ہیں جہاں ڈی ایم کے اور کانگریس کا اتحاد بڑی جیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انتخابی جائزوں میں وزیر اعلی جے للیتا کی جماعت اے آئی ڈی ایم کے کی فتح کی پیشگوئیاں کی گئی تھیں۔ یہاں 234 سیٹوں میں سے ایک سو اٹھاون پر ڈی ایم کے اور کانگریس کا اتحاد آگے تھا جبکہ حریف اے آئی ڈی ایم کے چوہتر پر آگے تھی۔

آسام: کانگریس کامیابی کی جانب؟
آسام میں کانگریس اپی حریف جماعتوں سے آگے ہے لیکن وہاں صورتحال مشکل نظر آتی ہے۔ 126 رکنی اسمبلی میں ابتدائی رحجانات کے مطابق کانگریس بیالیس سیٹوں میں آگے تھی جبکہ حریف جماعت اے جی پی کو محض بائیس سیٹوں پر سبقت حاصل تھی۔ ابتدائی رحجانات کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل ہے کہ کانگریس اپنے زور پر اپنی حکومت برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔

کیرالہ میں باياں محاذ ایک سو چالیس رکنی اسمبلی میں اٹھانوے نشستوں پر آگے ہے جبکہ حریف یو ڈی ایف کو صرف بیالیس سیٹوں پر سبقت ہے۔ کیرالہ میں یو ڈی ایف کی حکومت تھی۔

پانڈیچری میں تیس رکنی اسمبلی میں کانگریس بیس سیٹوں کی سبقت کے ساتھ دو تہائی اکثریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سات سیٹوں پر ڈی ایم کے آگے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد