BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 April, 2006, 09:44 GMT 14:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسام: پیر کو پہلے مرحلے کی ووٹنگ
سنیچر کو ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پیر کے روز اسمبلی انتخابات کے پہلےمرحلے میں پینسٹھ حلقوں کے لیئے ووٹ ڈالے جائيں گے۔

ریاست آسام میں کل 126 اسمبلی حلقوں کے لیئے دو مرحلوں میں ووٹنگ مکمل کی جائے گی۔ تین اپریل کے بعد ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ دس اپریل کے روز ہو گا۔

تقریبا تیرہ کروڑ آبادی والی ریاست آسام میں پہلے مرحلے میں 545 امیدواروں کا مستقبل ووٹنگ مشینوں میں قید کیا جائے گا۔

مختلف جماعتوں کے 997 امید وار انتخابی میدان میں ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ125 امیدوار بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے ہيں۔ کانگریس کے 120 امیدوار میدان میں ہیں۔

انتخابی مہم میں کانگریس اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں نے بنگلہ دیش کے شہریوں کی غیر قانونی طریقہ سے آسام میں نقل مکانی کرنے کو اپنے انتخابی ایجنڈے میں سب سے زیادہ ترجیح دی ہے۔

ہندوستان یہ کہتا رہا ہے کہ بنگلہ دیش کے شہری غیرقانونی طور پر آسام میں نقل مکانی کرتے رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی سمیت حزبِ اختلاف کی جماعتیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ حکومت غیر قانونی تارکینِ وطن کی روک تھام کے لیئے مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

گزشتہ دونوں انتخابی مہم کے تحت کانگریس کے کئی بڑے رہنماؤں نے آسام کا دورہ کیا ہے۔ گانگریس کی طرف سے انتخابی مہم کا آغاز سونیا گاندھی نے کیا تھا اور سنیچر کو وزیراعظم منموہن سنگھ بھی آسام کے دورے پر تھے۔

وزیرِاعظم نے آسام کی علیحدگی پسند تنظیم ’الفا‘ کے باغیوں سے حاکمیت کے سوال پر کسی بھی طرح کی بات چیت سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شمال مشرقی ریاستوں میں امن کا عمل جاری رکھیں گے لیکن بات چیت آئین کے دائرے میں ہونی چاہیئے۔

آسام کی علیحدگی پسند تنظیم ’الفا‘ یعنی یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام، ریاست کی آزادی کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے آسام کی حاکمیت یا اقتداراعلیٰ اس کے لیئے سب سے اہم مسئلہ ہے اور حکومت سے بات چیت تبھی ممکن ہے جب وہ اس مسئلے پر بات چیت کے لیئے راضی ہو۔

سن 1979 سے شروع ہونے والی الفا کی تحریک میں تقریبا 15000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حالات کے مدنظر پورے علاقے میں سکیورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے ہيں۔

۔اتنا تشدد کیوں؟
بھارت کی شمال مشرق میں تشدد کا تجزیہ
گجرالانتخابات اور قیادت
سابق بھارتی وزیراعظم گجرال کے قلم سے
 آسام مظاہرےمذہبی منافرت
آسام کے مسلمانوں کا مذہبی منافرت کا سامنا
آسام: شاید بی جے پی کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہو نئے دور کا آغاز؟
آسام: شاید بی جے پی کی مقبولیت میں اضافہ نہ ہو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد